چین میں سیلاب کی تباہی: کم از کم 12 افراد ہلاک، ہزاروں گھر بار چھوڑنے پر مجبور

چین کے وسطی علاقوں میں شدید بارشوں سے آنے والے سیلاب نے ہزاروں افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔

وسطی علاقوں میں سڑکیں اور آمد و رفت کے لیے استعمال ہونے والے بیشتر میٹرو، ٹرین سٹیشنز زیرِ آب چکے ہیں اور غیر معمولی بارش کے بعد صوبہ ہنان میں 10 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

حکام نے تصدیق کی ہے کہ سیلاب کے باعث صوبے میں کم از کم 12 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

بارش اور سیلاب کی وجہ سے ایک درجن سے زائد شہر متاثر ہوئے ہیں، متعدد سڑکوں کو بند جبکہ پروازوں کو منسوخ کیا گیا ہے۔

صوبہ ہینن، جس کی آبادی نو کروڑ سے زائد ہے، میں غیر معمولی بارشوں کے بعد کے حکام نے آئندہ چند دنوں میں شدید ترین موسم کا انتباہ جاری کیا ہے۔

بہت سارے عوامل سیلاب کی وجہ بنتے ہیں لیکن موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے شدید بارشوں کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں سٹرکوں پر تیرتی کاریں اور پوری پوری سڑکیں سیلابی پانی میں ڈوبی دکھائی دیتی ہیں۔ زیر زمین ٹرینوں میں پانی داخل ہونے کے بعد بہت سے مسافر اپنا سر پانی سے اوپر رکھنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیے۔

حالیہ طوفانوں کے باعث صوبہ ہنان میں ایک ڈیم کے ٹوٹنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیے

حکام نے بتایا کہ لوئیانگ شہر میں واقع ڈیم میں 20 میٹر (65 فٹ) کی دراڑ پڑ گئی ہے۔ اس علاقے میں فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں اور فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ڈیم ’کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔‘

ژی نگزہو سے آنے والی غیر تصدیق شدہ ویڈیو فوٹیج میں مسافروں کو سیلاب سے بھری ہوئی ٹرین میں دکھایا گیا ہے جہاں پانی ان کے کندھوں تک پہنچا ہوا ہے۔

امدادی کارکنوں نے کچھ لوگوں کو حفاظت کے لیے رسیوں کی مدد سے کھینچا ہے جبکہ دیگر افراد پانی سے بچنے کے لیے ٹرین کی سیٹوں کے اوپر کھڑے دکھائی دیے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ مزید کتنے افراد پھنسے ہوئے ہیں، لیکن سینکڑوں افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایک شخص نے سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر مدد مانگنے کے لیے ایک پوسٹ لکھی۔

انھوں نے کہا ’پانی میرے سینے تک آن پہنچا ہے۔ میں اب بول بھی نہیں سکتا۔‘ بعد میں فائر ڈیپارٹمنٹ نے تصدیق کی کہ اس شخص کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

اسی شہر میں 56 سالہ ریستوران منیجر وانگ گیرنگ نے ایسوسی ایٹ پریس کو بتایا ’میں نے اپنی ساری زندگی اس علاقے میں بسر کی ہے اور میں نے اتنی تیز بارش کبھی نہیں دیکھی۔‘

اس شہر میں پچھلے تین دن میں ہونے والی یہاں ہونے والی بارش سالانہ بارش کے لگ بھگ برابر رہی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں تک طوفانی بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔