اُن کپڑوں کا کیا کریں جو اب آپ نہیں پہنتے؟

،تصویر کا ذریعہEleanor Jolliffe
- مصنف, کیتھرین لیتھم
- عہدہ, بزنس رپورٹر
ماڈل ایلی جولیف کہتی ہیں کہ ماڈلنگ اور خاص طور پر ای کامرس کمپنیوں کے لیے کام کرتے وقت وہ کچرے کی مقدار دیکھ کر حیران رہ گئیں۔
’میں شوٹنگ پر دیکھا کہ ایسے کپڑے جو اب فروخت پر نہیں ہو رہے ان کے ڈھیروں ڈبے پڑے ہیں، وہ کبھی نہیں پہنے گئے ہیں۔ کوئی بھی انھیں خریدنا نہیں چاہتا، ٹنوں کے حساب سے غیر استعمال شدہ کپڑے جو ضائع ہو جاتے ہیں۔‘
لندن سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ ماڈل نے فیشن کے ماحولیاتی اور انسانی اثرات پر کتابیں پڑھیں۔
وہ کہتی ہیں ’میں نے بہت جلد اندازہ لگا لیا کہ مجھے اس سلسلے میں کچھ حدود طے کرنی ہوں گی کہ میں کس کے ساتھ کام کروں گی۔‘
انھیں یہ بھی احساس ہوا کہ انھیں اپنی عادتیں بدلنی ہوں گی۔
وہ کہتی ہیں ’میں اکثر سستے فیشن میں آنے والے کپڑے آرڈرز کرتی ہوں خاص طور پر تقریبات سے پہلے۔ اس وقت کے میرے خریدے ہوئے بہت سے کپڑے اب بھی میری الماری میں پڑے ہیں، غیر استعمال شدہ۔‘
اب جولیف ای بے کی چیریٹی شاپس یا سیلز سے سیکنڈ ہینڈ کپڑے خریدتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں بہت بہتر محسوس کر رہی ہوں، میرے پاس ابھی بھی کافی کپڑے ہیں لیکن میں پہلے کی طرح اتنی زیادہ رقم بھی خرچ نہیں کرتی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں کہ فاسٹ فیش یعنی دور حاضر کے فیشن میں آنے والے لباس سے دور رہنا فیشن سے دور ہونے کے مترادف نہیں ہے۔
’لباس پہننے کے بہت سارے طریقے ہیں جن میں لوگوں یا ماحول سے سمجھوتہ نہیں کرنا پڑتا۔‘

،تصویر کا ذریعہWrap
فاسٹ فیشن سے مراد فیشن کے رجحانات کا تیزی سے ٹرن اوور اور سستے، بڑے پیمانے پر تیار کردہ کپڑوں کی طرف بڑھنا ہے جس میں مسلسل نئے خطوط جاری ہوتے ہیں۔
اکثر اس صنعت میں فاضل مواد کے اخراج کے لیے اسے ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
کچھ کمپنیاں اسے ایک نئی سطح پر لے گئی ہیں۔ الٹرا فاسٹ فیشن فرمیں، جیسے چین کی شیئن جو ہر روز نئے کپڑے مارکیٹ میں لاتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ماحولیات پر دباؤ پڑ رہا ہے۔
ویسٹ اینڈ ریسورسز ایکشن پروگرام (ریپ) کی پائیدار ٹیکسٹائل سیکٹر کی ماہر، کیتھرین سالوِج کہتی ہیں ’فیشن ایک انتہائی وسائل کی حامل صنعت ہے۔یہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ تقریباً 35 فیصد مواد گاہک تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے اور ہم ہمیشہ سے زیادہ کپڑوں کو ضائع کر رہے ہیں۔
ریپ کے مطابق ، ہر سال تقریباً 921,000 ٹن استعمال شدہ ٹیکسٹائل ہمارے عام فضلے میں شامل ہو جاتا ہے جسے یا تو جلا دیا جاتا ہے یا پھر کچرے کے ڈھیروں پر پھینک دیا جاتا ہے۔
سالویج کہتی ہیں کہ ’مسئلے کی بنیادی وجہ کو حل کرنے کے لیے، ہمیں نئے کپڑے کم استعمال کرنے اور پرانوں نو زیادہ دیر تک استعمال میں رکھنے کی ضرورت ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ناپسندیدہ کپڑوں کو نئی اشیا میں تبدیل کرنے سے ہمیں خام مال پر انحصار کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہRe_considered
کچھ فرمیں فیشن کی رفتار کو سست کرنے کے طریقے پیش کر رہی ہیں۔
ری کنسیڈرڈ نامی فرم ناپسندیدہ کپڑے لے کر انھیں کچھ نیا اور بنا دیتا ہے جسے وہ اپ سائیکلنگ قرار دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آپ کے پاس ایک ایسا لباس ہے جسے آپ اب نہیں پہنتے تو ری کنسیڈرڈ اسے ایک میچنگ ٹاپ اور شارٹس سیٹ میں تقریباً 30 پاؤنڈ میں دوبارہ بنا سکتا ہے۔
وہ پردے کا ایک پرانا جوڑا بھی لیں گے اور اس سے تقریباً 45 پاؤنڈ میں کچھ نیا بنا دیں گے۔
جو بھی بنوانا ہو آپ پانچ منٹ کی ورچوئل اپوائنٹمنٹ لے کر اپنے مطلوبہ ڈیزائن کے بارے میں بات کریں گے۔ اس کے بعد آپ انھیں اپنے پرانے لباس یا کوئی کپڑا بھیجتے ہیں، وہ اس پر دوبارہ کام کرتے ہیں اور ایک بالکل نیا لباس آپ کو واپس بھیج دیتے ہیں۔‘
اس کی بانی ٹیبی بونیان کہتے ہیں، ’ری کنسیڈرڈ سے پہلے میں ہر دوسرے ہفتے کپڑے خریدتی تھی۔ مجھے فوری طور پر خوشی محسوس ہوتی تھی لیکن میں نے جو خریدا اس نے شاذ و نادر ہی مجھے خوش کیا۔ میں نے شاید ہی کبھی مٹھی بھر سے زیادہ چیزیں پہنیں۔‘

،تصویر کا ذریعہRe_considered
لیکن پہلے لاک ڈاؤن کے دوران بونیان کو معلوم ہوا کہ وہ اب خریداری نہیں کر سکتیں۔کچھ نیا کرنے کی اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے انھوں نے اپنی ہی الماری میں موجود کپڑوں پر دوبارہ کام شروع کر دیا۔
2020 کے موسم گرما میں ری کنسیڈرڈ برانڈ اس وقت وجود میں آئی جب وہ لندن میں ایک دکان کچھ اپ سائیکل شدہ کپڑے لے کر گئیں۔
اس کے بعد انھوں نے اپنے دوستوں کے لیے ان کی خواہش کے مطابق اپ سائیکل کرنا شروع کر دیا اور ان کپڑوں کو نئی چیزوں میں تبدیل کر دیا جو انھیں پسند نہیں تھیں۔
’یہ ناگزیر ہے کیوں کہ انداز وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ مجھے پسند ہے کہ اپ سائیکلنگ کے ذریعے، آپ نیا خریدے بغیر اپنی الماری میں موجود لباس تبدیل اور اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں۔‘
ری کنسیڈرڈ نے اس سال اب تک 520 کپڑوں کو اپ سائیکل کیا۔ لیکن بونیان کو امید ہے کہ وہ اپ سائیکلنگ کو مرکزی دھارے میں لے جائیں گی۔
وہ کہتی ہیں ’مرمت اور دوبارہ پیش کرنے والی خدمات کم عمر صارفین کے لیے زیادہ قابل رسائی اور دلچسپ ہوتی جا رہی ہیں، صارفین کی عادات بدل رہی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہiSsey Gladston
جوزفین فلپس اپنی نوعمری کے اواخر میں ہی فاسٹ فیشن کی محبت سے آزاد ہوگئیں۔ انھوں نے سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کا رخ کیا لیکن جب انھیں مناسب کپڑے نہ ملے تو وہ مایوس ہوگئیں۔
اس نے انھیں ترغیب دی کے وہ 2021 کے اوائل میں برطانیہ کی پہلی لباس میں تبدیلی کی ایپ سوجو بنائیں۔
یہ ایک بہت آسان نظام ہے۔ اپنا پوسٹ کوڈ درج کریں، ان تبدیلیوں یا مرمتوں کی تفصیل بتائیں جو آپ چاہتےہیں اور واپسی کے لیے تاریخ اور وقت منتخب کریں۔ سوجو آرڈر مقامی درزی کے پاس لے جائے گا اور کچھ دنوں بعد اسے واپس آپ کے پاس بھیج دیا جائے گا۔‘
سوجو کے ذریعے مرمت کے لیے چھ پاؤنڈ اور ایک بلیزر کو تیار کرنے کے لیے 35 پاؤنڈ تک لاگت آتی ہے۔
اب 24 سالہ جوزفین فلپس کہتی ہیں کہ لوگ پائیدار فیشن چاہتے ہیں لیکن اکثر وہ سلائی کرنا نہیں جانتے اور سہولت کے عادی ہیں۔
وہ لباس کے بارے میں رویے میں تبدیلی چاہتی ہے۔ فاسٹ فیشن کے بجائے، جہاں خریدار پہلے سے بہت سارے کپڑوں کے مالک ہونے کے باوجود تازہ ترین ڈیزائن خریدنے کے لیے باہر نکلتے ہیں، جوزفین فلپس سست فیشن کی طرف بڑھنا چاہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSojo
وہ کہتی ہیں ’ہم سمجھتے ہیں کہ سب کو کئی سال تک اپنے کپڑوں سے پیار کرنا چاہیے۔ سلائی اور مرمت ایک حقیقی سست فیشن کا رویہ ہے۔‘
انفرادی ٹیلرنگ کے ساتھ ساتھ، سوجو ڈنمارک کے گنی جیسے آن لائن فیشن برانڈز کو ٹیلرنگ کی خدمات بھی پیش کرتا ہے۔
ریپ کے مطابق ، برطانیہ کے تقریباً دو تہائی بالغوں کا کہنا ہے کہ، وبا کے بعد سے انھیں فیشن کے ماحولیاتی اثرات اور اپنے لباس کو زیادہ دیر تک برقرار رکھنے کی اہمیت سے متعلق زیادہ آگاہی ملی ہے۔
عالمی فیشن مارکیٹ 2026 تک 10 ارب امریکی سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔
سالویج کہتی ہیں ’ہم کئی کاروبار کو دوبارہ فروخت، کرایہ پر لینے اور مرمت کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور ساتھ ہی ایسی ایپس جو ہمیں نئے کپڑے خریدنے کے بجائے اپنے پرانے لباس خریدنے کی ترغیب دیتی ہیں۔‘
’یہ حوصلہ افزا اقدامات ہیں لیکن ان ماڈلز کی پیمائش کرنے اور صارفین کو ان کے استعمال کی ترغیب دینے کے لیے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ ہمیں فیشن انڈسٹری کے لیے ایک سرکلر اکانومی کو حقیقت بنانے کے لیے کاروبار اور شہری دونوں کو آن بورڈ کرنے کی ضرورت ہے۔‘
بونیان کا خیال ہے کہ صارفین کے لیے یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کون سی کمپنیوں کے پاس واقعی پائیدار ماڈل ہے۔
وہاں لندن میں فلپس کا ارادہ ہے کہ سوجو کو اگلے درجے پر لے جایا جائے اور اس کی کوریج اور برانڈ کی شراکت میں اضافہ کیا جائے۔
وہ کہتی ہیں ’فاسٹ فیشن کے ساتھ ایک بدنامی جڑ گئی ہے، فیشن کا مستقبل اب سست ہے، یعنی ایسے کپڑے ہوں جو آپ کو پسند ہوں، جو آپ کو اچھی طرح سے فٹ آئیں اور جو طویل عرصے تک چل سکیں۔‘










