آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایل جی بی ٹی: سنگاپور کا ہم جنس پرستوں کے جنسی تعلقات پر پابندی ختم کرنے کا اعلان
- مصنف, ٹیسا وونگ
- عہدہ, ڈیجیٹل رپورٹر ایشیا، بی بی سی نیوز
سنگاپور ہم جنس پرستوں کے جنسی تعلقات پر پابندی والے قانون کو منسوخ کرنے جا رہا ہے تاکہ شہر میں رہنے والے ہم جنس پرستوں کو مؤثر انداز میں قانونی حیثیت دی جا سکے۔
یہ فیصلہ، جس کا اعلان وزیر اعظم لی ہیسین لونگ نے قومی ٹی وی پر کیا، برسوں کی شدید بحث کے بعد سامنے آیا ہے۔
سنگاپور میں ایل جی بی ٹی کمیونٹی نے اس اقدام کو ’انسانیت کی جیت‘ قرار دیا ہے۔
یہ شہری ریاست اپنی قدامت پسند روایات کے لیے مشہور ہے لیکن حالیہ برسوں میں لوگوں کی بڑی تعداد نے نوآبادیاتی دور کے 377 اے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انڈیا، تائیوان اور تھائی لینڈ کے بعد اب سنگاپور میں ایل جی بی ٹی کو حقوق دینے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔
اس سے قبل حکومت 377 اے کو برقرار رکھنا چاہتی تھی، جو مردوں کے درمیان جنسی تعلقات پر پابندی لگاتا ہے لیکن اس نے فریقین کو مطمئن کرنے کی کوشش میں اس قانون کو نافذ نہ کرنے کا وعدہ کیا۔
اتوار کی رات، لی نے کہا کہ وہ اس قانون کو ختم کر دیں گے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ’یہ کرنا صحیح ہے اور زیادہ تر شہری اسے قبول کریں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جنس پرستوں کو اب بہتر انداز میں قبول کیا جا رہا ہے اور 377 اے کو ختم کرنے سے ملک کے قوانین موجودہ سماجی رویوں کے مطابق ہوں گے اور مجھے امید ہے کہ سنگاپور کے ہم جنس پرستوں کو کچھ سکون ملے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہم جنس پرستوں کے لیے آواز اٹھانے والے کارکن جانسن اونگ نے بی بی سی کو بتایا ’ہم نے آخر کار یہ کر دیا اور ہم پرجوش ہیں کہ یہ امتیازی، قدیم قانون آخر کار ختم ہونے والا ہے۔ شاید اس میں تھوڑا وقت لگا لیکن یہ ہونا ہی تھا۔ آج ہم بہت، بہت خوش ہیں۔‘
ایل جی بی ٹی حقوق کے گروپوں کے اتحاد نے اسے ’مشکل سے حاصل ہونے والی فتح اور خوف پر محبت کی جیت‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ مکمل مساوات کی طرف پہلا قدم ہے۔
لیکن انھوں نے اسی تقریر میں لی کے ایک اور اعلان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
لی نے کہا تھا کہ حکومت مرد اور عورت کے درمیان شادی کی تعریف کے لیے بہتر قانونی تحفظ کو یقینی بنائے گی مگر یہ ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینا مشکل بنا دے گا۔
انھوں نے کہا کہ سنگاپور ایک روایتی معاشرہ ہے جہاں بہت سے لوگ خاندانی اور سماجی روایات کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔
ایل جی بی ٹی کارکنان نے اسے ’مایوس کن‘ قرار دیا اور متنبہ کیا کہ اس سے معاشرے میں تفریق مزید بڑھے گی۔
دریں اثنا ایک قدامت پسند گروپ پروٹیکٹ سنگاپور نے کہا کہ وہ ’شدید مایوس‘ ہیں کہ قانون کی منسوخی ’جامع اقدامات‘ کی یقین دہانی کے بغیر آگے بڑھ رہی ہے۔
انھوں نے ہم جنس پرست افراد کی شادی کی تعریف کو آئین میں مکمل طور پر شامل کرنے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ بچوں میں ’ایل جی بی ٹی سے متعلق آگاہی‘ پر پابندی لگانے والے قوانین ختم کرنے پر بھی زور دیا۔
ایل جی بی ٹی کے لیے حمایت میں اضافہ
سنگاپور کو 377 اے انگریزوں سے وراثت میں ملا اور سنہ 1965 میں آزادی کے بعد بھی اسے برقرار رکھا گیا۔
اگرچہ یہ قانون تکنیکی طور پر مردوں کے درمیان جنسی تعلقات کو جرم قرار دیتا ہے لیکن اسے ہم جنس پرستی پر پابندی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
چونکہ حالیہ برسوں میں اسے فعال انداز میں نافذ نہیں کیا گیا، شاید اسی لیے سنگاپور میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ایل جی بی ٹی کمیونٹی تیار ہوئی، جن میں ہم جنس پرستوں کے نائٹ کلب وغیرہ جیسی سہولیات بھی شامل ہیں۔
لیکن ایل جی بی ٹی کارکنان طویل عرصے سے 377 اے کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون ہم جنس پرستوں کے لیے سماجی بدنامی کا سبب ہے اور یہ سنگاپور کے آئین کے بھی خلاف ہے جو امتیازی سلوک کی مخالفت کرتا ہے۔
مثال کے طور پر سنگاپور میں ’ہم جنس پرستی کو فروغ دینے والے‘ کے طور پر سمجھے جانے والے کسی بھی مواد کی نشریات پر پابندی لگائی جا سکتی ہے اور ماضی میں ٹی وی شوز اور فلمیں سینسر ہو چکی ہیں۔
یہ قانون سنگاپور کے ایک آزاد خیال، متنوع اور عالمی مالیاتی مرکز والی شبیہ سے بھی متصادم ہے اور ریاست میں قائم ملٹی نیشنل کمپنیوں نے کہا ہے کہ یہ ٹیلنٹ کو راغب کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بنے گا۔
یہ بھی پڑھیے
سنگاپور میں بہت سے لوگ اب بھی 377 اے کو برقرار رکھنے کی حمایت کرتے ہیں تاہم حالیہ برسوں میں اس کے خاتمے کے مطالبے نے زور پکڑا۔
سنگاپور میں احتجاج اور سیاسی اجتماعات کو سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے لیکن ہر سال ایل جی بی ٹی کے کارکن جزیرے کی سب سے بڑی سول سوسائٹی کی ریلی کا انعقاد کرتے ہیں جسے ’پنک ڈاٹ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس میں دسیوں ہزار شرکا آتے ہیں۔
دریں اثنا، قدامت پسند سوشل میڈیا مہمات اور تقریبات کا اہتمام کر رہے ہیں، جن میں روایتی اقدار کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کچھ گرجا گھروں نے ہم جنس پرستوں کی تبدیلی کے متنازع پروگراموں کو فروغ دینا شروع کر دیا ہے۔
اتوار کو لی نے دونوں کیمپوں سے افہام و تفہیم کی اپیل کی۔
قومی دن کی ریلی کی تقریر میں انھوں نے کہا کہ ’تمام گروہوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ یہی واحد راستہ ہے جس سے ہم مل کر ایک قوم کے طور پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘
انگریزوں کی میراث
سنگاپور واحد سابق کالونی نہیں، جہاں 377 کا ایک ورژن رائج ہے۔ یہ قانون ایشیا اور افریقہ کے کئی حصوں میں بدستور موجود ہے۔
اسے انڈیا میں نوآبادیاتی برطانوی حکومت نے 19ویں صدی میں متعارف کرایا تھا اور ’کسی بھی مرد، عورت یا جانور کے ساتھ فطرت کے حکم کے خلاف جنسی تعلق‘ کو منع کیا تھا۔
2018 میں، انڈیا کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں 377 کو ختم کر دیا، جس سے کارکنوں میں امید پیدا ہوئی کہ دیگر سابق کالونیاں بھی آخر کار اس کی پیروی کریں گی۔
حالیہ برسوں میں ایشیا کے دیگر حصوں نے بھی ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینے کی طرف قدم بڑھایا ہے۔
تائیوان سنہ 2019 میں ایسا کرنے والا پہلا ایشیائی ملک بن گیا اور جون میں تھائی لینڈ نے ہم جنس یونینز کو اجازت دینے والے مسودہ قانون کی منظوری دی۔
کئی سابق برطانوی کالونیوں جیسے کینیا، ملائیشیا اور میانمار میں اب بھی 377 کا کچھ ورژن موجود ہے۔