سعودی آرامکو تیل کمپنی نے منافع کمانے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ ڈالا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کمپنی سعودی آرامکو نے سنہ 2022 کی دوسری سہ ماہی میں 48 ارب 40 کروڑ ڈالر کا منافع کما کر اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
یہ سالانہ بنیادوں پر 90 فیصد اضافہ ہے اور توانائی برآمد کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی کی اب تک کی سب سے بڑی آمدنی ہے۔
یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
روس دنیا میں تیل کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ہے مگر مغربی ممالک نے توانائی کے لیے روس پر انحصار کم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق اس سعودی کمپنی کے منافعے کی رقم سٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ کسی بھی کمپنی کا سب سے بڑا سہ ماہی منافع ہے۔
ریکارڈ منافعے کے علاوہ اس سرکاری کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ تیسری سہ ماہی میں اپنے ڈیویڈینڈ کی رقم 18.8 ارب ڈالر ہی رکھے گی اور کوئی تبدیلی نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ طلب کو پورا کرنے کے لیے اپنے آپریشنز میں وسعت لاتی رہے گی۔
آرامکو کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو امین نصر نے کہا کہ 'جہاں عالمی مارکیٹ میں عدم استحکام اور اقتصادی غیر یقینی اب بھی موجود ہے وہیں اس سال کے پہلے نصف میں ہونے والے واقعات سے ہمارے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ ہماری صنعت میں سرمایہ کاری کا جاری رہنا منڈیوں میں رسد کی وافر فراہمی اور متبادل توانائی کی جانب ہموار انداز میں منتقلی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔'
اُنھوں نے مزید کہا کہ درحقیقت اُنھیں توقع ہے کہ تیل کی طلب میں منفی معاشی پیش گوئیوں کے باوجود اگلی ایک دہائی تک اضافہ ہوتا رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
واضح رہے کہ یوکرین پر روسی حملے سے پہلے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا تھا کیونکہ کووڈ 19 سے بحالی کے دور میں دنیا بھر میں تیل کی طلب میں اضافہ ہو رہا تھا جبکہ اس کی رسد کم تھی۔
دنیا میں تیل پیدا کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں ایگزون موبل، شیورون اور برٹش پیٹرولیم سبھی نے رواں سال بھاری منافعے ظاہر کیے ہیں جس کے باعث حکومتوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کمپنیوں پر بھاری ٹیکس عائد کریں۔
جون میں امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ ایگزون موبل نے "اس سال خدا سے بھی زیادہ پیسہ بنا لیا ہے۔'
سعودی عرب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا سب سے بڑا پیداواری ملک ہے۔ گذشتہ ہفتے اوپیک+ نے تیل کی پیداوار میں معمولی سے اضافے کی منظوری تھی تاکہ بلند قیمتوں کو نیچے لایا جا سکے۔ مگر اس کے باوجود پیداوار میں تازہ ترین اضافہ بھی حالیہ مہینوں کے مقابلے میں کافی سست رو ہے۔
یہ فیصلہ صدر جو بائیڈن سمیت کئی عالمی رہنماؤں کے لیے ایک دھچکا تھا کیونکہ وہ تیل کی پیداوار میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے۔












