سلمان رشدی: وینٹی لیٹر ہٹا دیا گیا ’برطانوی مصنف اب بات کرنے کے قابل ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
برطانوی مصنف سلمان رشدی کی حالت اب پہلے سے بہتر ہے، انھیں وینٹی لیٹر سے اتار لیا گیا ہے اور وہ دوبارہ بات کرنے کے قابل ہیں۔
اس سے قبل سلمان رشدی کے ایجنٹ کا کہنا تھا کہ ان کی صحت کے متعلق خبریں اچھی نہیں ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔ وہ وینٹی لیٹر پر ہیں، بول نہیں پا رہے ہیں اور ان کی ایک آنکھ ضائع ہو جانے کا امکان ہے۔‘
ان کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے ایک بیان میں کہا کہ ’مصنف سلمان رشدی پر سٹیج پر تقریب کے دوران حملہ کیا گیا، وہ ممکنہ طور پر ایک آنکھ سے محروم ہو جائیں گے، ان کے بازو کے اعصاب کٹے ہوئے تھے اور ان کے جگر میں چھرا گھونپ کر نقصان پہنچایا گیا تھا۔‘
سلمان رشدی پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں امریکی پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔
یاد رہے گذشتہ روز سلمان رشدی پر امریکی ریاست نیویارک میں ایک تقریب کے دوران چاقو سے حملہ کیا گیا اور ان کی گردن اور پیٹ پر وار کیے گئے۔
پولیس نے سلمان رشدی پر حملے کے بعد نیو جرسی کے علاقے فیئر ویؤ سے تعلق رکھنے والے ہادی مطر نامی ایک 24 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیو یارک کے حکام کا کہنا ہے کہ ہادی مطر نے جرم سے انکار کیا مگر وہ ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں ہیں۔ ڈسٹرکٹ اٹرنی جیسن شمڈ کا کہنا ہے کہ ’یہ اس کیس کے ابتدائی مراحل ہیں جس میں طویل قانونی طریقہ کار اختیار ہوگا۔‘
برطانوی مصنف سلمان رشدی پر امریکہ کی ریاست نیو یارک میں سٹیج پر حملہ کیا گیا۔ تاہم پولیس کی طرف سے ابھی تک اس حملے کے بارے میں کسی مقصد یا الزامات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے اور وہ جائے وقوع سے ملنے ایک بیگ اور الیکٹرانک آلات کی جانچ کے لیے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سلمان رشدی کو گذشتہ کئی برسوں کے دوران دھمکیاں ملتی رہی ہیں جبکہ 1989 میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں سلمان رشدی کی موت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ابتدائی تفصیلات کے مطابق جب ان پر حملہ ہوا اس وقت سلمان رشدی شیتوقوا انسٹیٹیوٹ میں ہونے والی ایک تقریب میں خطاب کر رہے تھے۔
عینی شاہدین نے دیکھا کہ اسی اثنا میں ایک شخص سٹیج کی جانب دوڑا اور اس نے سلمان رشدی کو مکا رسید کیا یا چاقو سے حملہ کیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد تقریب میں موجود افراد سٹیج کی طرف دوڑے۔
ان کے مطابق وہاں موجود افراد نے حملہ آور پر قابو پا لیا اور پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔
نیو یارک پولیس کے مطابق اس حملے میں سلمان رشدی کی گردن اور پیٹ میں کم از کم ایک ایک بار چھرا گھونپا گیا، جس کے بعد ان کو پیلی کاپٹر کے ذریعے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اس حملے کو روکنے کی کوشش کرنے والے ہینری ریس کو بھی سر پر معمولی چوٹ آئی ہے۔ ان کے ادارے نے ہی اس تقریب کا اہتمام کیا تھا۔
اس تقریب میں موجود ایک آرٹسٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح سے تقریب کی ریہرسل معمول کے انداز میں چل رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ حملے کے بعد سے تقریب کے مقام کا لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
متنازع کتاب ’شیطانی آیات‘ کے مصنف
سنہ 1988 میں مصنف سلمان رشدی کی کتاب میں اسلام پر تنقید کی گئی تھی اور اِس کی وجہ سے اِن کے سر پر لاکھوں کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔
اُن کے ناول دی سیٹینک ورسز ’شیطانی آیات‘ کی وجہ سے مسلم دنیا میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔
اُس وقت ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ خمینی نے فتویٰ دیا تھا، جس کے تحت سلمان رشدی کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔
اگرچہ ایرانی حکومت اس فتوے سے لاتعلقی کا اظہار کر چکی ہے لیکن بعد میں ایک نیم سرکاری ایرانی مذہبی تنظیم نے 2012 میں سلمان رشدی کے سر پر رکھے گئے انعام میں پانچ لاکھ ڈالر کا اضافہ کر دیا تھا۔
اب بھی پاکستان اور دیگر بہت سے ممالک میں سلمان رشدی کی کتاب پر پابندی ہے اور تقریباً 10 برسوں تک اُنھیں روپوشی کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور تھے۔

تجزیہ
علیم مقبول، مدیر برائے مذہب
اگرچہ ہم اس وقت نہیں جانتے کہ حالیہ حملہ کیوں کیا گیا، سلمان رشدی کو 30 سال قبل ’دی سیٹینک ورسز‘ کی اشاعت کے بعد سے دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ ان کے اس ناول کا بنیادی مقصد ایک پناہ گزین کے تجربات کو بیان کرنا تھا لیکن کئی مسلمانوں کو اس ناول پر اعتراضات تھے۔
اس ناول پر سب سے پہلے انڈیا میں پابندی لگائی گئی، جہاں سلمان رشدی پیدا ہوئے تھے، اور اس کے بعد متعدد ممالک نے بھی ایران کے آیت اللہ خمینی کی جانب سے فتوی سامنے آنے سے قبل ایسا ہی کیا۔
ایرانی رہنما کے فتوے میں اس کتاب کی اشاعت میں ملوث ہر شخص کو قتل کرنے کا کہا گیا اور انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔ اب تک اس فتوی کو باضابطہ طور پر واپس نہیں لیا گیا۔
اس ناول پر شروع ہونے والے ہنگاموں کے بعد سلمان رشدی نے مسلمانوں سے معافی مانگی لیکن اگلے 10 سال تک کے لیے وہ منظر عام سے غائب ہو گئے۔
اگرچہ اب تک خود سلمان رشدی کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا تھا، اس ناول کی اشاعت سے جڑے دیگر لوگوں میں سے نارویجیئن پبلشر کو 90 کی دہائی میں گولی مار کر زخمی کیا گیا جبکہ جاپانی ترجمہ کرنے والے کو بھی قتل کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
برطانیہ کے وزیر اعظم اور فرانس کے صدر کی تنقید
سلمان رشدی پر ہونے والے حملے کے بعد سوشل میڈیا پر 'سلمان رشدی ٹریند' کر رہا ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے ٹویٹ کیا: 'انتہائی افسوس ہے کہ سر سلمان رشدی کو اس حق کا استعمال کرنے کے لیے چھرا گھونپ دیا گیا ہے جس کے دفاع سے ہمیں کبھی باز نہیں آنا چاہیے۔'
فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے لکھا کہ مسٹر رشدی 'آزادی اور جہل پسندی کے خلاف جنگ کی مجسم علامت' ہیں جو کہ 'نفرت اور بربریت کی قوتوں کے بزدلانہ حملے کا شکار' ہوئے۔
مصنف اور گرافک ناول کے تخلیق کار نیل گیمن نے کہا کہ وہ اپنے دوست اور ساتھی مصنف پر حملے سے 'حیران اور پریشان' ہیں۔
انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا 'وہ ایک اچھے اور ایک شاندار آدمی ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔'
مسٹر رشدی کے پبلشرز پینگوئن رینڈم ہاؤس نے ایک بیان میں کہا: 'ہم عوامی سطح پر ہونے والے اس پرتشدد حملے کی مذمت کرتے ہیں، اور ہمارے احساسات و جذبات اس مشکل وقت میں سلمان اور ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔'
مصنفین کی عالمی تنظیم پین (PEN) انٹرنیشنل نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے حملے کی مذمت کی ہے۔
پین انٹرنیشنل کے صدر برہان سونمیز کے بیان کو ادارے کے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ 'PEN انٹرنیشنل سلمان رشدی پر ہونے والے وحشیانہ حملے کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ سلمان PEN کمیونٹی کے ایک معزز اور مشہور مصنف اور پین انٹرنیشنل برادری کے پسندیدہ رکن ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہReuters
سلمان رشدی پر چاقو سے حملہ کرنے والہ مشتبہ شخص کون ہے؟
برطانوی مصنف سلمان رشدی پر جمعہ کو ہونے والے حملے کے الزام میں گرفتار شخص کا نام ہادی مطر بتایا گیا ہے۔
مشتبہ شخص کی عمر 24 سال ہے اور وہ نیو جرسی کے شہر فیئر ویو کا رہائیشی ہے۔ نیو یارک سٹیٹ پولیس کے ترجمان یوجین جے سٹینزیوسکی نے حملے کے چند گھنٹے بعد ایک پریس کانفرنس میں یہ تفصیل شیئر کی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سلمان رشدی کی گردن پر چاقو سے وار کیا گیا ہے۔ اور حملہ آور اب پولیس کی حراست میں ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے مقصد کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے اور حملے کی وجہ جاننے کے لیے ایف بی آئی سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔
ملزم ہادی کے پاس رشدی کے پروگرام کا پاس تھا اور وہ تنہا ہی وہاں پہنچا تھا۔ پولیس نے مطر کے خلاف ابھی تک الزامات طے نہیں کیے ہیں۔
مشتبہ ہادی مطر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ چھلانگ لگا کر سٹیج پر پہنچا اور سلمان رشدی کی گردن پر کم از کم ایک بار اور پیٹ میں ایک بار چاقو مارا۔





