روس کی جیلوں میں ریپ اور تشدد کی ہولناک کہانیاں

    • مصنف, آئی انویسٹیگیشن، اولگا پروسیویرووا اور اولیگ بولدیریو
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

روس کی جیلوں کے سابق قیدیوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ روسی جیلوں میں منظم طریقے سے اُن سے ریپ اور اُن پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کی زیادتیوں کے واقعات کے افشا ہونے والی فوٹیج پچھلے سال ایک اندرونی شخص نے وائرل کر رکھی تھی، اور اب اس تشدد کا نشانہ بننے والے متاثرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور وہ اب انصاف کے حصول لیے کیسے لڑ رہے ہیں۔

انتباہ: یہ مضمون گرافک تصاویر اور جنسی استحصال اور تشدد کی تفصیل پر مشتمل ہے۔

جنوب مغربی روس میں واقع ساراتوف جیل کا ہسپتال گذشتہ سال اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا جب قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی خوفناک ویڈیوز انسانی حقوق کی ایک تنظیم کو خفیہ طریقے سے حاصل ہوئیں اور پھر اُس نے ان معلومات کو بین الاقوامی میڈیا کو دیں۔

الیکسی ماکاروف کو سنہ 2018 میں حملے کے الزام میں چھ سال کی سزا کے تحت وہاں منتقل ہونے سے پہلے ہی اس جیل کی وجہ شہرت کا علم تھا، تشدد اور ریپ۔ جن قیدیوں کو خطے کی دیگر جیلوں سے ساراتوف جیل بھیجا جاتا ہے، انھوں نے شکایت کی ہے کہ طبی بنیادیں من گھڑت ہوتی تھیں تاکہ انھیں جیلوں کے اندر بند دروازوں کے پیچھے تشدد کا نشانہ بنایا جا سکے۔ روسی جیلوں میں حالاتِ کار پر نظر رکھنے کے لیے تقریباً کسی قسم کی بھی آزاد نگرانی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور جیل کے ہسپتالوں میں تو ان کے صحت کے قرنطینہ کے قوانین کی وجہ سے تو آزاد نگرانی کا معیار بہت ہی کم ہے۔

ماکاروف بہت بیمار تھے، انھیں ٹی بی کی تشخیص ہوئی تھی اور امید تھی کہ وہ بچ جائیں گے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہاں ان کے قیام کے دوران انھیں دو مرتبہ ریپ کیا گیا۔

متاثرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بدسلوکی - جس کا ماکاروف اور دیگر قیدیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے - ہمیشہ جیل حکام کی منظوری سے کی جاتی تھی۔ اور اسے قیدیوں کو بلیک میل کرنے، ڈرانے دھمکانے یا اعتراف جرم پر مجبور کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

روس کی جیلوں میں ہونے والے تشدد کے بارے میں ان کی شہرت کو داغدار کرنے والی ویڈیوز کے افشا ہونے کے واقعے نے روسی حکومت کو ملک کے تشدد کے سکینڈل کا جواب دینے پر مجبور کردیا ہے۔ آزاد روسی میڈیا پروجیکٹ 'پروئکٹ' کے مطابق، سنہ 2015 اور سنہ 2019 کے درمیان روس کے 90 فیصد علاقوں میں تشدد کی اطلاعات ملیں۔ لیکن ان واقعات پر حکام کی جانب سے تادیبی کارروائی بہت سست تھی۔

بی بی سی نے اس عرصے کی ہزاروں عدالتی دستاویزات کا تجزیہ کیا ہے اور پتہ چلا ہے کہ جیل سروس کے عملے کے 41 ارکان کو قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے سنگین ترین مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن ان میں سے تقریباً نصف کو صرف معطل سزائیں سنائی گئیں (یعنی سزائیں تو سنائی گئیں لیکن اُن پر عملدرآمد معطل کردیا گیا۔ بی بی سی نے ماکاروف سمیت کئی قیدیوں سے بات کی جو روس کے جیلوں کے نظام میں اس قسم کی شدید زیادتیوں کا شکار رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ماکاروف کو فروری سنہ 2020 میں پہلی بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نے جیل انتظامیہ کے خلاف ایک مبینہ سازش کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیا اور تین افراد نے اسے مسلسل پرتشدد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

'10 منٹ تک انھوں نے مجھے مارا پیٹا، میرے کپڑے پھاڑ دیے۔ اور یوں کہہ لیں کہ اگلے دو گھنٹے انھوں نے ہر دوسرے منٹ میں موپ ہینڈلز کے ساتھ میرا ریپ کیا۔'

'جب میں بے ہوش ہو جاتا، تو وہ مجھ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارتے اور مجھے واپس میز پر پھینک دیتے۔'

دو ماہ بعد پھر اسی طرح زیادتی کی گئی۔ اسے زیادتی کرنے والوں کو 50,000 روبل (£735) ادا کرنے پر مجبور کیا گیا تھا اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے بارے میں اسے خاموش رکھنے کی کوشش میں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

ماکاروف نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جیل میں تشدد کی ویڈیو بنائی گئی ہے۔ قیدی جانتے ہیں کہ اگر وہ مطالبات پر عمل نہیں کرتے ہیں تو توہین آمیز فوٹیج پوری جیل کے ساتھ شیئر کی جا سکتی ہے۔

ریپ کرنے والے دوسرے قیدی ہوتے تھے، ماکاروف اور دیگر کو یقین ہے کہ وہ جیل کے حکام کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔

ماکاروف کا کہنا ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والے قیدیوں کی چیخوں کو چھپانے کے لیے، تشدد کے واقعات کے دوران موسیقی اونچی اونچی آواز سے بجائی جاتی تھی۔

ساراتوف سے پچھلے سال کی فوٹیج لیک ہونے کو جیل کے ایک اور سابق قیدی کی مدد سے پوسٹ کیا گیا تھا۔ سرگئی سیویلیف فوٹیج کو اسمگل کرنے میں کامیاب ہو گیا جس میں درجنوں قیدیوں پر تشدد دکھایا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک منظم نظام کے حصے کے طور پر جیل کے اعلیٰ ترین سطحوں اذیت اور تشدد کی منظوری دی جاتی ہے۔

سیویلیف کو فوٹیج تک رسائی حاصل تھی کیونکہ اس سے مختصر عملے والے جیل کے سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے کو کہا گیا تھا۔ اسے باڈی کیمز (جسم پر نصب کیے ہوئے کیمرے) سے فوٹیج کی نگرانی اور انھیں کیٹلاگ کرنے کی ضرورت تھی۔ ان کیمروں کو عام طور پر جیل افسران پہنتے ہیں۔

لیکن اس نے بی بی سی کو بتایا کہ جب ساراتوف میں کسی قیدی کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ضرورت ہوتی تو وہ دوسرے قیدیوں سے یہ برا اور گندا کام کراتے تھے - اور ان سے بدسلوکی کی فلم بنانے کے لیے باڈی کیمز پہننے کو کہا جاتا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ 'مجھے سکیورٹی کے سربراہ سے (باڈی کیمز جاری کرنے کے) آرڈر ملتے تھے۔'

اس کے بعد اسے کہا گیا کہ وہ ان حملوں میں سے کچھ کی ریکارڈ شدہ فوٹیج کو حفاظتی محکمے کو دکھانے کے لیے محفوظ کر لیں، اور پھر کچھ موقعوں پر اس ریکارڈنگ کو کیمرے سے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو پر منتقل کر دیتے تاکہ اسے مزید سینئر اہلکاروں کو دکھایا جا سکے۔

بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی ہولناکیوں کا پتہ لگانے کے بعد اس نے فائلوں کو کاپی کرنا اور انہیں چھپانا شروع کر دیا۔

'کسی ریپ کو دیکھنے کے بعد اس پر کچھ نہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ اس ریپ کو ایک معمول سمجھ رہے ہیں۔'

کچھ کلپس میں تشدد کرنے والے مردوں کو ہتھکڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جیسے باڈی کیمز وغیرہ جو کہ صرف جیل کے عملے کو جاری کیے جاتے ہیں۔

سیویلیف کا کہنا ہے کہ بدسلوکی کرنے والے قیدی عموماً وہ ہیں جو پرتشدد جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس لیے طویل سزا کاٹ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس طرح، یہ طویل سزائیں کاٹنے والے قیدی، افسران سے مراعات لینے کے لیے حکام کے کی ہر بات ماننے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس طرح کے قیدیوں کو کبھی کبھی ' پریسووشیکی' (pressovschiki) کا نام دیا جاتا ہے۔

سیویلیف بتاتے ہیں کہ 'انھیں اس عرصے کے دوران اچھے سے اچھا کام کرنے میں دلچسپی ہونی چاہیے، تاکہ جیل کی انتظامیہ آپ کو اپنا ایک وفادار ایجنٹ سمجھے، اور آپ کو اچھی خوراک ملتی رہے، آپ اچھی طرح سو سکیں اور کچھ مراعات حاصل کر سکیں۔'

ایک ایکٹیوِسٹ، ولادیمیر اوسیچکن جس کی تنظیم 'گولاگ ڈاٹ نیٹ' Gulagu.net نے لیک ہونے والی ویڈیوز پوسٹ کیں، ایک خاص کلپ میں پکڑے گئے تشدد کرنے والوں کے بعد ایک ہولناک طریقہِ کار کی نشاندہی کرتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ تشدد کی اچھی طرح سے مشق کر رہے ہیں۔

'وہ ایک دوسرے کو اشارے دے رہے ہیں، خاموش کنسرٹ میں کام کر رہے ہیں، بغیر الفاظ کے بھی ایک دوسرے کے اشاروں کو سمجھ رہے ہیں کیونکہ وہ ایک اچھی طرح سے قائم نظام کی پیروی کر رہے ہیں۔ تاکہ وہ اس تشدد کا نشانہ بننے والے قیدی کو ریپ کرسکیں۔'

سیویلیف کے شواہد کے افشا ہونے کے بعد چھ پریسووشیکی کو گرفتار کیا گیا، لیکن انھوں نے تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ دو ماہ بعد ساراتوف جیل ہسپتال کے ڈائریکٹر اور ان کے نائب کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں نے ویڈیوز میں دکھائے گئے بدسلوکی سے کسی بھی تعلق سے انکار کیا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے قومی جیل سروس کے سربراہ کو تبدیل کیا اور اعلان کیا کہ تبدیلی لانے کے لیے 'منظم اقدامات' کی ضرورت ہے۔ ملک کے قانون میں گذشتہ ماہ ترمیم کی گئی تھی جس میں طاقت کے غلط استعمال یا ثبوت نکالنے کے لیے تشدد کو استعمال کرنے کے لیے سخت سزائیں متعارف کرائی گئی تھیں۔

لیکن انسانی حقوق کے کارکن اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تشدد کو ایک جرم کے طور پر اب بھی تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب صدر پوتن نے تبدیلی کا وعدہ کیا ہو۔ اس نے سنہ 2018 میں اس طرح کی فوٹیج کے پہلے چونکا دینے والے لیک کے بعد، اسی طرح کا عہد کیا تھاجس میں ماسکو کے شمال میں یاروسلاول کی ایک جیل میں گارڈز کو بڑے پیمانے پر مار پیٹ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

یاروسلاول جیل کے گیارہ ملازمین کو سنہ 2020 میں کم سے کم سزائیں دی گئیں اور ان کے دو سینیئر اہلکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔

مقامی وکیل یولیا چوانووا، جو کہ تشدد کا نشانہ بننے والوں کی نمائندگی کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ تشدد کے جرم ہونے سے قطع نظر، جیل کے حکام کا تشدد کرنے کے پس پردہ ایک مضبوط محرک یہ ہے کہ وہ اسے قیدیوں سے ان کے جرائم کا اعتراف کرانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ نتیجے کے طور پر، جرم کی تفتیش کے ذمہ دار اہلکار روسی جیلوں میں تشدد کرنے کا بنیادی سبب بنتے ہیں۔

'(قیدیوں کے) اعترافات باقی تمام باتوں سے زیادہ اہم سمجھے جاتے ہیں۔'

وہ 22 سالہ انتون روماشوف کے وکیل کے طور پر اس کے ساتھ جیل میں ہونے والی زیادتیوں کی تلافی کے لیے اس کا مقدمہ لڑ رہی ہیں تاکہ اُسے معاوضہ مل سکے۔ انتون روماشوف کو سنہ 2017 میں ان جرائم کو تسلیم کرنے سے انکار کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جو اس نے نہیں کیے تھے۔

روماشوف کو چرس رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن پولیس اس پر منشیات کا کاروبار کرنے کا اعتراف کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی - یہ ایک بہت زیادہ سنگین جرم ہے۔ جب اس نے اعتراف جرم کرنے سے انکار کر دیا تو اسے سنہ 2016 کے آخر میں مغربی روس کے ولادیمیر میں مقدمے سے پہلے تفتیش کے لیے ایک حراستی مرکز میں لے جایا گیا۔

’مجھے (سیل) نمبر 26 پر لے جایا گیا۔ میں بالکل جانتا تھا کہ یہ کس قسم کا سیل ہے، کیونکہ میں وہاں سے کئی دن تک چیخوں کی آوازیں سنتا رہا۔'

جب وہ وہاں لے جایا گیا تو دو آدمی اس کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے فرش پر پھینک دیا گیا، اس کے ہاتھ پاؤں اس کے جسم کے پیچھے بندھے ہوئے تھے، اس کے بعد اُسے سارا دن مارا پیٹا گیا۔ جب انھوں نے اس کی پتلون نیچے کی تو اس نے فوراً کہا کہ وہ جو بھی بیان چاہیں اُس پر اُس سے دستخط کروا لیں۔ عدالت کو یہ بتانے کے باوجود کہ اقرار جرم میں اس پر تشدد کیا گیا تھا، اسے پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

ولادیمیر حراستی مرکز میں طریقوں کی تحقیقات بالآخر اس وقت ہوئی جب ایک اور قیدی نے ایک پریسووشیکی کو اُس وقت قتل کردیا جب اُس نے دھمکی دی کہ اُس کے ساتھ تشدد اور ریپ کیا جائے گا۔ جیل کے عملے کو بیانات دینے کے لیے کہا گیا، پھر انکشاف ہوا کہ ان میں سے اکثر جانتے تھے کہ جیل کے بدنام زمانہ سیل نمبر 26 میں کیا ہو رہا ہے۔ جیل کے ملازم کو جو ٹارچر سیل چلا رہا تھا، کو ایک مقدمے میں سزا سنائی گئی جس میں اینتون اور دیگر دو نے گواہی اور ثبوت دیے۔

لیکن ملک میں اب تک کا سب سے بڑا تشدد کا سکینڈل سائبیریا کے علاقے ارکوتسک میں پیش آیا۔ ارکوتسک شہر کے قریب انگارسک کی جیل 15 میں سنہ 2020 کے موسم بہار کے دوران ہونے والے احتجاج کے واقعات کے بعد، حکام نے فسادات کو کنٹرول کرنے والی فورس کا ایک دستہ بھیجا تھا۔ سینکڑوں قیدیوں کو پکڑ کر دو حراستی مراکز میں لے جایا گیا جہاں جیل کے افسران پریسووشیکی کے ساتھ انتظار کر رہے تھے۔

ان لوگوں میں سے ایک جو کہتے ہیں کہ انہیں مرکز میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ڈینس پوکوسایف، جو فراڈ کے الزام میں تین سال کی سزا کاٹ رہے تھے، کہتے ہیں کہ جیل کا عملہ کھل کر کہتا تھا کہ اسے سزا کیوں دی جا رہی ہے۔

'(انھوں) نے مجھ سے کہا کہ 'کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمیں پرواہ ہے کہ آپ قصوروار ہیں یا نہیں؟ آپ ایک فساد سے آئے ہیں - لہٰذا آپ کو اس کا حساب دینا ہوگا۔''

وکیل یولیا چوانووا اس طرح کے واقعات کے ایک عام پیٹرن کی وضاحت کرتی ہیں۔

'(تفتیش کار) فیصلہ کرتے ہیں کہ کس سے پوچھ گچھ کرنی ہے، کن گواہوں سے اور کون سی تحقیقات کرنی ہیں، پھر وہ جیل کے عملے سے ہدایات کے ساتھ رابطہ کرتے ہیں: 'مجھے کسی خاص فرد سے اعتراف کروانے کی ضرورت ہے۔'

پوکوسایف کا کہنا ہے کہ یہ ظلم و ستم کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا۔

'یہ ریپ تقریباً تین ماہ تک ہر روز ہوتا رہا، سوائے ہفتے کی چھٹیوں کے۔'

ان کا کہنا ہے کہ ٹارچر میں عملہ ملوث تھا۔

'وہ ہنستے، پھل کھاتے… ایک شخص کو ہر طرح کی چیزوں کے ساتھ ریپ کیا جا رہا ہے، اور وہ صرف ہنستے ہیں، وہ اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔'

بی بی سی نے روسی جیل سروس سے ملک کی جیلوں اور حراستی مراکز میں تشدد اور ریپ کے الزامات پر تبصرہ کرنے کو کہا۔ وپہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا اندازہ ہے کہ فسادات کے بعد کم از کم 350 قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ڈینس پوکوسایف ان 30 مردوں میں شامل ہیں جنھوں نے قانونی طور پر اس واقعے میں متاثرین کے طور پر تسلیم کیے جانے کا حق حاصل کیا ہے اور ان چند افراد میں سے ایک جو عدالت میں گواہی دینے کے لیے تیار ہیں۔ تحقیقات کے نتیجے میں کئی ٹرائلز کی توقع ہے۔ ڈینِس کے معاملے میں، وہ اور چند دیگر قیدی جلد ہی جیل کے دو ملازمین کے خلاف ثبوت دینے کے لیے تیار ہیں اور دونوں ملازمین میں سے کسی ایک نے بھی ان الزامات کو قبول نہیں کیا ہے۔

یولیا نےاس مقدمے میں گواہی دینے والے تمام افراد کے نام ظاہر نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا کوئی بھی نتیجہ بامعنی اصلاحات کا باعث بنے گا۔

پوکوسایف کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اس بات سے پریشان ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔

’میں تقریباً ہر روز اپنے گھر کے ساتھ والے جنگل میں آتا ہوں اور میں فحش باتیں کرتا ہوں، اپنے اندر کی گھٹن کی تکلیف سے بچنے کے لیے چیختا ہوں۔‘

تاہم وہ انصاف کے حصول کی کوشش کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ممکن ہے اگر لوگ بولنے کی ہمت پیدا کریں تو وہ بول سکتے ہیں۔

'اِس وقت (روس میں) لوگ کھل کر بات کرنے اور کچھ بھی کہنے سے ڈرتے ہیں، اسی وجہ سے وہ کچھ حاصل نہیں کر پاتے ہیں۔'