آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
روس: پہلی مرتبہ گھریلو تشدد پر صرف جرمانے کی تجویز
- مصنف, سارہ رینس فورڈ
- عہدہ, بی بی سی نیوز، ماسکو
مرینا اپنی کہانی پرسکون انداز میں بیان کر رہی تھیں لیکن جو کچھ وہ بتا رہی تھیں وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا قصہ تھا۔
مرینا نے بتایا کہ ان کا شوہر ایک سال تک تقریباٌ ہر روز ان پر تشدد کرتا تھا۔
اپنے موزے نیچے کرتے ہوئے مرینا نے اپنے پاؤں پر زخم کا ایک لمبا نشان دکھایا جہاں دھات کی پلیٹ ڈلی ہوئی تھی۔ مرینہ کے دونوں پاؤں اور ان کی پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں جب ان کے شوہر نے انھیں فلیٹ کی دوسری منزل سے نیچے دھکا دے دیا تھا۔
مرینا کا قصہ ایک اکیلا یا انوکھا واقعہ نہیں ہے۔
محتاط اعداد و شمار کے مطابق روس میں ہر ماہ 600 سے زائد خواتین اپنے گھروں میں قتل کر دی جاتی ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ حالات حقیقت میں اس سے زیادہ برے ہیں۔
مرینا دو منزلہ عمارت سے گرنے کے باوجود بچ گئیں اور اس کے بعد تین مہینے انھوں نے وہیل چئیر پر گزارے۔ لیکن تشدد ختم نہیں ہوا۔ ’جب میرے شوہر نے مجھے وہیل چئیر پر ہوتے ہوئے بھی تشدد کا نشانہ بنایا تب میں پولیس کے پاس گئی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب غیر محفوظ خواتین کی پناہ گاہ میں مقیم مرینا نے بتایا کہ: ’میرا چہرا سوج گیا تھا اور میرا ہونٹ پھٹ گیا تھا۔ لیکن پولیس نے پھر بھی میرے شوہر کو حراست میں نہیں لیا۔ میں نے پولیس کو روتے ہوئے بتایا کہ میں اب گھر نہیں جا سکتی کیونکہ وہ مجھے مارے گا لیکن پولیس نے کہا کہ یہ کوئی ہوٹل نہیں ہے اور ہم تمھیں یہاں نہیں رکھ سکتے۔‘’
روسی پارلیمان کے ایوانِ زیریں دوما نے قانون میں جس ترمیم کی منظوری دی ہے اس کے مطابق گھریلو تشدد پر فوجداری قانون کا اطلاق نہیں ہو گا۔
اگر روسی صدر ولادیمیر پوتن اس قانون پر دستخط کر دیتے ہیں، تو اس کے مطابق وہ لوگ جنھوں نے پہلی مرتبہ اپنے خاندان کے لوگوں پر ہاتھ اٹھایا لیکن اتنا زخمی نہیں کیا کہ انھیں ہسپتال لے جانا پڑے، ان لوگوں کو جیل نہیں بھیجا جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا یا دو ہفتے پولیس کی حراست میں رکھا جائے گا۔
ایوانِ زیریں میں یہ ترمیم بغیر کسی رکاوٹ کے پاس ہو گئی اور اسمبلی کے ممبران کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ لوگوں کے خاندانی معاملات میں دخل اندازی نہ ہو۔
اس ترمیم کی مصنفین میں سے ایک اولگا باٹالینا نے کہا: ’ہمارے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ خاندان کا تشخص قائم رہے۔‘
اولگا باٹالینا کی دی ہوئی تجاویز نے پچھلے سال جولائی میں کی گئی ایک قانونی ترمیم کو رد کردیا جس میں گھریلو تشدد کو فوجداری جرم قرار دیا گیا تھا۔
انتہائی قدامت پسند ممبر ایوان وٹالی ملونوو نے کہا: ’ہم خاندانوں میں اختلافات کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ آپ آزاد خیال نقطہ نظر سے اس مسئلے کو نہ دیکھیں۔اس حساب سے تو ایسا لگتا ہے کہ ایک بستر میں تین لوگ سو رہے ہیں۔ آپ، آپ کی بیوی اور انسانی حقوق کی کوئی تنظیم۔‘
لیکن مرینا اور ان جیسی خواتین جو پناہ گاہ میں قیام پزیر ہیں سمجھتی ہیں کہ تشدد کے شکار افراد کو مزید قانونی تحفظ کی ضرورت ہے۔
اس پناہ گاہ میں پانچ خاندان بمشکل رہائش پذیر ہیں۔ خیرات پر چلنے والے اس ادارے میں خواتین کو تحفظ دیا جاتا ہے اور ان کی مشاورت کی جاتی ہے کے کس طرح سے تشدد کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جو کہ ایک قانون کی تبدیلی کے بعد ایک مشکل عمل ہے۔
پناہ گاہ کی ڈائریکٹر الیونا سادیکووا نے کہا کہ: ’ہمارے تجربے میں صرف ایک خاتون تھی جس کا کیس ہم عدالت تک لے گئے اور اس میں بھی تشدد کرنے والے کو جیل سے ایک مہینے میں آزادی مل گئی۔‘
|انھوں نے مزید کہا: ’اب نئے قانون کے تحت ان پر صرف جرمانہ عائد ہوگا اور جب عورت اپنے گھر جائے گی تو اس کا شوہر اس سے بدلہ لے سکتا ہے۔‘
ایک سال قبل دوما میں ایک تجویز بھیجی گئی تھی جس میں تشدد کے حوالے سے نئے مشورے اور سزائیں تھیں جن کی مدد سے گھریلو تشدد کو روکا جاسکتا تھا لیکن اس مسودہ کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔
اینا کرائیسس سینٹر نامی ہاٹ لائین کی سربراہ ارینا میٹوینکو کہتی ہیں: ’گھریلو تشدد کوئی عام نوک جھونک نہیں ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں ایک رویے کی۔ ایک ایسا رویہ جو کے غصے میں کیا جاتا ہے اور اس سے عورت شدید خطرے میں ہوتی ہے کیونکہ وہ اُس شخص کے ساتھ اکیلی ہوتی ہے۔‘
پناہ گاہ میں رہنے کا بعد مرینا اب قدرے محفوظ ہیں اور اپنی زندگی دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس پناہ گاہ کی بیکری میں ان کی نوکری ہے اور وہ اپنی دس سالہ بیٹی کے ساتھ ایک فلیٹ میں منتقل ہونے کے لیے پیسے بچا رہی ہیں۔
لیکن ساتھ ساتھ وہ اپنی سب سے چھوٹی اولاد کے لیے اپنے شوہر کے خلاف قانونی کاروائی میں بھی مصروف ہیں۔
’عدالت کیسے میری بچی کو اس کے ساتھ رہنے دے سکتی ہے، یہ جانتے ہوئے کہ اس نے میرے ساتھ کیا کیا ہے۔‘