آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مایا تہذیب کے لوگوں نے اپنے مردہ حکمرانوں کی راکھ کو پیلوٹا کھیل کی گیندوں میں کیوں بدل دیا
قدیم مایا تہذیب کے شہر کے کھنڈرات میں ایسی جلی ہوئے انسانی باقیات ملی ہیں جنھوں نے ان کی موت پر ہونے والی رسومات کے بارے میں نئے نظریے کو جنم دیا ہے۔
ایک ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر قدیم مایا تہذیب کے کچھ حکمرانوں کو نذر آتش کیا گیا ہو اور ان کی راکھ کو ربڑ میں ملا کر پیلوٹا کے کھیل میں استعمال ہونے والی گیندیں بنائی گئی ہوں۔
ماہر آثار قدیمہ یوآن یادون انگولو نے میکسیکو کے ایک مایا مندر میں انسانی راکھ، ربڑ اور پودوں کی جڑوں پر مشتمل کلش (ایک قسم کا مرتبان یا لوٹا نما چیز جس میں مردوں کی راکھ رکھی جاتی ہے) ملنے کے بعد یہ مفروضہ پیش کیا۔
خیال رہے کہ پیلوٹا کا شمار دنیا کی قدیم ترین کھیلوں کی ٹیم میں ہوتا ہے۔
میکسیکو کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اینتھروپولوجی اینڈ ہسٹری (آئی این اے ایچ) کے ساتھ کام کرنے والے ماہر آثار قدیمہ، یادون، جنوبی میکسیکو میں ٹونینا آثار قدیمہ کے مقام پر موجود سن ٹیمپل (سورج کے مندر) کے نیچے حال ہی میں دریافت ہونے والے تہہ خانے یا غار کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
ماہرین آثار قدیمہ کو زیر زمین غار اور اس میں بنے تہہ خانوں یا کمروں کے اندر انسانی راکھ، کوئلہ، ربڑ اور پودوں کی جڑوں کے مرکب پر مشتمل 400 مرتبان ملے ہیں۔
یادون کا خیال ہے کہ اس غار کا استعمال مذہبی رسم کے تحت مرنے والوں کی لاشوں کو جلانے کے لیے کیا جاتا تھا۔
اس کی بنیاد پر انھوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اس کے بعد راکھ کو دوسرے نامیاتی مواد سے ملا کر ہزاروں سال پہلے ایک ٹیم کے طور پر کھیلے جانے والے کھیل پیلوٹا میں استعمال ہونے والی بھاری گیندیں بنائی گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹونینا آثار قدیمہ کی جگہ شاید پالینکی میں موجود مایا کے کھنڈرات کی طرح مشہور نہ ہو لیکن یہ ایک متاثر کن کمپلیکس ہے جو چیاپاس کے جنگل میں ایک پہاڑی پر تعمیر ہے۔
آج تک محفوظ ان تعمیرات کے درمیان بال کورٹ بھی ہے جہاں مایا کے لوگ پیلوٹا کھیلتے تھے۔
یادون کے مطابق بال کورٹ کے اندر اہم مقامات پر پتھروں کے نقش و نگار اور مجسمے ایسے اشارے دیتے ہیں جو ان کے نظریے کی تائید کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پتھر کے نقش و نگار سے پتہ چلتا ہے کہ سنہ 722 اور 776 عیسوی کے درمیان تین حکمرانوں کی موت ہوئی اور ان کی 'کایاپلٹ' (قلب ماہیت کے عمل) کے لیے انھیں 'مردوں کے غار' میں لے جایا گیا تھا۔
یادون نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ 'ہم جانتے ہیں کہ جس طرح مصریوں نے [لاشوں] کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی، اسی طرح یہاں اسے ایک دوسرے طریقے سے رکھا گيا۔'
یہ بھی پڑھیے
ماہر آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ مایا کے لوگ چاہتے تھے کہ ان کے حکمرانوں کی لاشوں کو 'ایک قوت بخشنے والی طاقت میں تبدیل کیا جائے، جو ان کے لوگوں کو متحرک کرے' اور اس لیے انھوں نے ان راکھ کو ربڑ میں ملا کر پلیوٹا کھیل کے لیے گیندیں بنانے میں استعمال کیا۔
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: 'ہمارے پاس شواہد ہیں کہ 'انھیں ان گیندوں میں شامل کیا گیا تھا، اور کلاسیکی دور کی گیندیں بہت بڑی ہوتی تھیں۔'
چیاپاس میں ایک دوسری جگہ پر پائے جانے والے پتھر کی ایک کندہ ڈسک سے پتہ چلتا ہے کہ چھٹی صدی عیسوی میں پیلوٹا گیند کا سائز کیا ہوتا تھا اور کھلاڑی اسے اپنے کولہوں سے کیسے آگے بڑھاتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ مایا تہذیب کا دور 1500 قبل مسیح سے 1500 عیسوی پر محیط تھا اور یہ تہذیب موجودہ میسیکو، گواتیمالا، ایل سلواڈور اور ہونڈوراس کے علاقوں پھیلی ہوئی تھی۔