کووڈ: ایک جائزے کے مطابق بخار کی جگہ اب گلے میں خراش کورونا وائرس کی ’سب سے عام‘ علامت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مشیل رابرٹس
- عہدہ, ڈیجیٹل پیلتھ ایڈیٹر
سترہ ہزار پانچ سو لوگوں سے لیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گلے کی سوزش کووِڈ کی سب سے بڑی علامت ہو سکتی ہے۔ حال ہی میں کووڈ سے متاثرہ لوگوں نے اس علامت کی سب سے زیادہ نشاندہی کی ہے۔
دیگر سب سے عام علامات میں سر درد، بند ناک اور کھانسی ہیں۔
تیز بخار، سونگھنے یا ذائقے کی حِس میں کمی، جنھیں برطانیہ کا صحت عامہ کا ادارہ این ایچ ایس ممکنہ طور پر کووڈ علامات کے طور پر سرِ فہرست رکھتا ہے، اب زیادہ عام نہیں رہے۔
بھاری آواز، چھینکیں، تھکاوٹ، پٹھوں میں درد اور چکر آنا جیسی علامتیں اب زیادہ ہیں۔
زو ایپ سٹڈی کے اعداد و شمار کے مطابق کووڈ کی 20 سب سے زیادہ عام علامات یہ ہیں:
- گلے میں خراش - 58 فیصد لوگوں نے اس کی شکایت کی
- سر درد - 49 فیصد
- بند ناک - 40 فیصد
- سوکھی کھانسی - 40 فیصد
- بہتی ہوئی ناک - 40 فیصد
- بلغم کے ساتھ کھانسی - 37 فیصد
- کھردری آواز - 35 فیصد
- چھینکیں -32 فیصد
- تھکاوٹ - 26 فیصد
- پٹھوں میں درد - 25 فیصد
- چکر آنا - 18 فیصد
- گردن کے غدود کی سوجن - 15 فیصد
- آنکھوں میں درد - 14 فیصد
- سونگھنے کی حس ختم ہونا - 13 فیصد
- سینے میں درد - 13 فیصد
- بخار - 13 فیص
- سردی لگنا یا کپکپی - 12 فیصد
- سانس لینے میں دشواری - 11فیصد
- کان کا درد - 11 فیصد
- ذائقے کی حس کم ہونا - 10 فیصد

،تصویر کا ذریعہReuters
'ریئل ٹائم اسسمنٹ آف کمیونٹی ٹرانسمیشن' یعنی 'ری ایکٹ ون' جائزے کے تحت ہر ماہ پورے انگلینڈ میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو گھر پر سواب ٹیسٹ بھیجے جا رہے ہیں۔
اس سے حاصل کردہ نتائج سے پتا چلتا ہے کہ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، کووڈ سے متاثرہ لوگوں کی علامات میں تبدیلی آئی ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ اس بات پر منحصر ہو سکتا ہے کہ وائرس یا اس کی شکل وقت کے ساتھ کس طرح بدل رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ووہان سے نکلنے والے اصل وائرس کے بعد سے کووڈ کی مختلف شکلیں یا ویریئنٹ سامنے آئے ہیں، جن میں تازہ ترین اومیکرون ہے۔
امپیریل کالج لندن کے ری ایکٹ ون کے محققین کا کہنا ہے کہ سونگھنے اور ذائقے کی حس ختم ہو جانا اومیکرون کے ساتھ کم عام دکھائی دیتا تھا۔ جبکہ اب لوگ زیادہ سردی اور فلو جیسی علامات کی اطلاع دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے اومیکرون کا جائزہ لیا، جسے بی اے ون اور بی اے ٹو کہا جاتا ہے۔ یہ مارچ 2022 میں پھیل رہا تھا۔
اس کے بعد سے اومیکرون کی دو نئی اقسام پھیلنا شروع ہوئیں جنھیں بی اے فور اور بی اے فائیو کہتے ہیں۔ اس سے مزید لوگ بیمار ہو رہے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں دو کروڑ ستر لاکھ افراد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں کووڈ ہو چکا ہے۔ پروفیسر ٹم سپیکٹر، جو زو ہیلتھ سٹڈی چلاتے ہیں، کا کہنا ہے ’لوگوں میں کووِڈ اب بھی پھیل رہا ہے۔‘
’یہاں تک کہ وہ لوگ بھی اس کی گرفت میں آ رہے ہیں جنھیں پہلے کووڈ ہو چکا ہے اور وہ ویکسین بھی لگوا چکے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ ہم سب برطانیہ میں موسمِ گرما کا زیادہ سے زیادہ لطف اٹھانا چاہتے ہیں، لیکن لوگوں کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا بڑے پُرہجوم مقامات پر جانا، دفتر سے کام کرنا یا پُرہجوم پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنا خطرناک ہو سکتا ہے یا نہیں۔‘
زو سٹڈی اور ری ایکٹ ون سٹڈی دونوں کو حال ہی میں حکومت کی جانب سے مالی اعانت فراہم کی گئی تھی۔













