تین خواتین کی کیتھولک کلیسا کے اعلیٰ عہدوں پر تقرری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مسیحی کیتھولک فرقے کے روحانی پیشوا، پوپ فرانسس نے تین خواتین، جن میں دو راہبائیں اور ایک عام خاتون شامل ہیں، کو کلیسا کی اُس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے لیے نامزد کیا ہے جو انہیں دنیا کے بشپ کے انتخاب میں مشورہ دیتی ہے۔
اس سے قبل یہ کمیٹی صرف مردوں پر مشتمل ہوتی تھی۔
مسیحوں کے کیتھولک فرقے کے مرکز ویٹیکن نے بدھ کو کہا کہ پوپ فرانسِس نے اس ماہ کے شروع میں خبر رساں ادارے روئیٹرز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں اس فیصلے کا انکشاف کیا تھا، جس میں وضاحت کی گئی تھی کہ وہ 'ہولی سی' میں خواتین کو مزید اعلیٰ سطحی عہدے دینا چاہتے ہیں۔
ان خواتین میں سِسٹر رافیلہ پیٹرینی، جو اس وقت ویٹیکن سٹی کی نائب گورنر ہیں، فرانسیسی راہبہ یوون ریونگوٹ اور خواتین کی کیتھولک تنظیموں کی انجمن 'یو ایم او ایف سی' (UMOFC) کی سربراہ لیڈی ماریا لیا زیروینو شامل ہیں۔
پوپ نے روئیٹرز سے بات کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے ویٹیکن میں خواتین کی موجودگی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیا تھا کہ نئے مذہبی آئین پریڈیکیٹ ایوینجلیم کے ادارے پر جو کلیسہ میں اصلاحات کرتے ہیں اور مستقبل میں ان محکموں کو کسی عام آدمی یا عام عورت کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔
سسٹر رافیلہ پیٹرینی اس وقت ایک اطالوی فرانسسکن راہبہ اور رومن کیوریہ کی اہلکار ہیں۔ وہ 15 جنوری 1969 کو روم میں پیدا ہوئیں اور انھوں نے روم کی لبرا یونیورسٹی انٹرنیشنل ڈیگلی سٹڈی سوشیالوجی گوئیڈو کارلی سے پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کی تھی۔
اس کے علاوہ انھوں نے سینٹ تھامس ایکویناس کی پونٹیفیکل یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی۔ وہ اس وقت اسی یونورسٹی میں فلاحی معیشت اور اقتصادی ترقی کی پروفیسر ہیں۔
پچھلے برس نومبر میں پوپ فرانسس نے انہیں ویٹیکن سٹی سٹیٹ کے پونٹیفیکل کمیشن کی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز کیا تھا وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بھی پڑھیے
سسٹر ریونگوٹ 14 جنوری 1945 کو فرانس کے شمال مغرب کے شہر پلوانان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے سیلسیائی مذہبی زندگی کا مطالعہ اس وقت کیا جب انہیں سنہ 1963 میں پیرس پوسٹولنسی میں داخل کیا گیا۔
وہ 5 اگست سنہ 1965 کو مذہبی خدمت میں داخل ہوئیں۔ انھوں نے لیون یونیورسٹی سے تاریخ اور جغرافیہ میں ڈگری حاصل کی اور 11 سال تک لیون میں سکول ٹیچر بنیں۔ سنہ 1996 اور سنہ 2008 کے درمیان وہ جنرل چیپٹر کی رکن رہیں اور 2002 میں اس ادارے کی وائسری جنرل منتخب ہوئیں۔
سسٹر ریونگوٹ پہلی سات خواتین میں سے ایک ہیں جو 8 جولائی سنہ 2019 سے، جب انھیں پوپ فرانسس کی طرف سے مقرر کیا گیا تھا، انسٹی ٹیوٹ آف کنسکریٹڈ لائف اینڈ سوسائٹیز آف اپاسٹولک لائف کی جماعت کے لیے مقرر کردہ اراکین میں سے ایک ہیں۔
لیڈی ماریا لیا زیروینو، جو سنہ 2013 سے روم میں مقیم ہیں اور پوپ کو اس وقت سے جانتی ہیں جب دونوں نے ارجنٹائن کی بشپ کانفرنس میں اہم کردار ادا کیے تھے،۔ اس کے علاوہ اپنے ایک 'کھلے خط' میں انھوں نے کلیسا میں خواتین کو آرائشی کردار سے بڑھ کر اہم کاموں کی ذمہ داریاں دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
انہوں نے خواتین کو پادری کے عہدے پر مقرر کرنے کا تو مطالبہ نہیں کیا، جس کے بارے میں پوپ فرانسس پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے بجائے، لیڈی زیروینو نے قیادت کے دیگر اہم عہدوں پر خواتین کے لیے مزید گنجائش کا مطالبہ کیا تھا۔










