یوکرین جنگ: روس جرمنی کو گیس کی فروخت مکمل طور روک سکتا ہے، جرمنی کا خدشہ

Nord Stream 1 facilities in Lubmin, Germany

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنروس نے گزشتہ دس روز سے نارڈ سٹریم ون سے جرمنی کو گیس کی فراہمی روک رکھی ہے

روس نے گزشتہ 10 روز سے بحیرہ بالٹک کے ذریعے آنے والی پائپ لائن، نارڈ سٹریم ون سے جرمنی کو گیس کی فراہمی معطل کر رکھی ہے۔

جرمنی کے وزیروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ روس جرمنی کو گیس کی فروخت ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا ہے۔

جرمنی کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جن کا توانائی کی ضروریات کے لیے روس پر زیادہ انحصار ہے اور وہ یوکرین پر روس کے حملے سے پہلے اپنی ضرورت کی گیس کا 55 فیصد حصہ روس سے خریدتا تھا۔

روس بحیرہ بالٹک سے گزنے والی پائپ لائن، نارڈ سٹریم ون کے ذریعے جرمنی کو گیس مہیا کرتا ہے۔ روس نے جرمنی کو مزید گیس کی فراہمی کے لیے 12 ارب ڈالر کی لاگت سے نارڈ سٹریم ٹو منصوبہ بھی مکمل کر لیا تھا لیکن جرمنی نے نارڈ سٹریم ٹو سے گیس کی فراہمی کے عمل کو وقتی طور پر روک رکھا ہے۔

روسی کمپنی کا موقف ہے کہ پائپ لائن کے نظام کو سالانہ مرمت کے لیے وقتی طور پر بند کیا گیا ہے۔

لیکن جرمنی کے وزراء سمجھتے ہیں کہ گیس کی فراہمی میں تعطل کی وجوہات سیاسی ہیں اور روس جرمنی پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایسا کر رہا ہے۔

جرمنی کے وزیرِ معیشت رابرٹ ہیبک نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ صدر پوتین یورپی یونین کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے جواب میں اپنی گیس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

جرمنی کی حکومت کو خدشہ ہے کہ روس سے گیس کی فراہمی کم یا مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔

نارڈ سٹریم ون کی بندش کی وجہ سے اٹلی کو بھی گیس کی کمی کا سامنا ہے۔

انرجی گروپ اینی نے کہا ہے کہ اسے روسی کمپنی، گیزپرام سے ایک تہائی گیس فراہم کی جا رہی ہے

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ فاتحی برول نے خبردار کیا ہے کہ روس یورپ کو گیس کی سپلائی مکمل طور پر بند کر سکتا ہے اور یورپ کو ابھی سے اپنی تیاری کرنی چاہیے۔

روس پہلے ہی پولینڈ، بلغاریہ، ہالینڈ، ڈنمارک اور فن لینڈ کو گیس کی ادائیگی کے طریقہ کار پر اختلاف کی وجہ ان کو گیس کی فراہمی بند کر چکا ہے۔

یوکرین پر روس کے حملے کے بعد جرمنی نے روسی گیس پر انحصار کو کم کرنا شروع کر دیا ہے۔

جنگ کے شروع ہونے سے پہلے جرمنی اپنی ضرورت کی 55 فیصد گیس روس سے خریدتا تھا لیکن وہ اسے کم کر کے 35 فیصد تک لے آیا ہے۔

اگر روس نے جرمنی کی گیس کو اچانک بند کر دیا تو اس سے جرمنی کی معیشت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے اور یہ کساد بازاری کا نکتہ آغاز ہو سکتا ہے۔ جرمنی کی تمام صنعتوں کا انحصار گیس پر ہے اور جرمنی میں گھروں کی اکثریت کو گیس کی مدد سے گرم کیا جاتا ہے۔ .

اس وقت جرمنی میں گیس کے ذخیرے کی مقدار 64 فیصد رہ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

روسی پائپ لائن کا نقشہ

یورپ کا روس کی گیس پر انحصار

یورپی ممالک روس سے تیل و گیس کے سب سے بڑے خریدار ہیں اور جنگ کی ابتدا سے اب تک یورپی یونین نے روس کو فوسل ایندھن کی مد میں 60 ارب یورو ادا کیے ہیں۔

گزشتہ ماہ یورپی یونین نے بتایا تھا کہ روس کو توانائی کی قیمت کی مد میں روزانہ ایک ارب یورو ادا کیے جا رہے ہیں جو کہ یورپی یونین کی یوکرین کے لیے امداد سے 35 گنا زیادہ ہے۔

یوکرین پر روس کے حملے کے بعد یورپی یونین نے روس سے گیس اور تیل کی خریداری کو روکنے کے بارے میں غور شروع کر دیا ہے لیکن یورپی یونین کے ممالک بھی اس معاملے پر منقسم ہیں۔

جرمن وزیرِ توانائی نے کہا تھا کہ جرمنی رواں سال کے اختتام تک روسی تیل پر پابندی سے نمٹنے کے قابل ہو جائے گا مگر گیس پر پابندی سے نہیں۔

عالمی ادارہ توانائی کے مطابق جرمنی نے سنہ 2020 میں روس سے دنیا میں سب سے زیادہ یعنی 42.6 ارب مکعب میٹر گیس درآمد کی تھی۔

یورپی یونین کو فکر ہے کہ روسی فوسل ایندھن پر اس کا انحصار ماسکو کو یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے مالی امداد فراہم کر رہا ہے ۔

درحقیقت سنہ 2021 میں عالمی ادارہ برائے توانائی نے تخمینہ لگایا تھا کہ روس کے وفاقی بجٹ میں 45 فیصد رقم تیل اور گیس کے محصولات سے آتی ہے۔

مجموعی طور پر یورپی یونین نے سنہ 2019 میں اپنی گیس کی مجموعی طلب کا 41 فیصد حصہ روس سے خریدا۔

کیا یورپ روسی گیس کے بغیر گزارہ کر پائے گا؟

Nord Stream 1 facilities in Lubmin, Germany

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یورپی یونین اپنی توانائی کی ضروریات کا 61 فیصد درآمد کرتا ہے جس میں سے اگر صرف گیس کی بات کی جائے تو اس کا 41 فیصد تک روس سے آتا ہے۔

تھنک ٹینک بروگل نے اپنے ایک تجزیے میں پیش گوئی کی ہے کہ اگر روس یورپ کو گیس سپلائی مکمل طور پر بند کر دیتا ہے تو آئندہ ماہ اپریل تک یورپی یونین ممالک میں ذخیرہ کی گئی گیس کی مقدار گزشتہ ایک دہائی کی کم ترین سطح تک گر جائے گی۔

اپریل وہ وقت ہوتا ہے جب درجہ حرارت میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے اور یورپی ممالک عام طور پر اگلے موسم سرما کی تیاری کے لیے اپنے پاس موجود گیس کے ذخائر میں اضافہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ روس کی جانب سے گیس فراہمی بند ہونے کا مطلب یہ ہو گا کہ انھیں گیس کے دوسرے ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہو گی۔

اور اس صورتحال کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ یورپی ممالک اس گیس کی مقدار میں اضافہ کر دیں گے جو وہ اپنے ملک میں موجود ذخائر سے نکالتے ہیں یا درآمد کے لیے شمالی افریقہ اور آذربائیجان جیسے ممالک کا رُخ کریں گے۔