آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شنزو آبے: سابق جاپانی وزیر اعظم ایک سیاسی تقریب میں قتل، پولیس کے مطابق قتل ایک مخصوص تنظیم کے ساتھ ’رنجش‘ کی وجہ سے کیا گیا
جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے کے قتل کی تحقیقات کرنے والی پولیس نے کہا ہے کہ مشتبہ شخص کی ایک ’مخصوص تنظیم‘ سے رنجش تھی۔
انھوں نے گروپ کا نام لیے بغیر کہا کہ مبینہ بندوق بردار، جس کا نام ٹیٹسوا یاماگامی ہے، کا خیال تھا کہ آبے اس گروپ کا حصہ تھے اور اسی وجہ سے انھیں گولی مار دی گئی۔
آبے جمعہ کی صبح ایک سیاسی مہم کے پروگرام میں تقریر کے دوران گولی لگنے کے بعد ہسپتال میں انتقال کر گئے۔
پولیس نے بتایا کہ ٹیٹسوا یاماگامی نے انھیں گھریلو ساخت کی بندوق سے گولی مارنے کا اعتراف کیا ہے۔
آبے جاپان کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم تھے اور 67 سال کی عمر میں ان کی موت نے ایک ایسے ملک کو گہرا صدمہ پہنچایا ہے جہاں بندوق کے جرائم بہت کم ہوتے ہیں۔
وزیر اعظم فومیو کشیدا نے کہا کہ وہ آبے کی موت کی خبر پر ’کچھ کہنے سے قاصر‘ ہیں۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جاپان کی جمہوریت ’کبھی تشدد کے آگے نہیں جھکے گی‘۔
پولیس ابھی تک اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا ان کے قاتل اکیلے کام کر رہے تھے یا ان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے اور نامعلوم تنظیم سے تعلق رکھنے والے دیگر لوگوں میں سے آبے کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا۔
یہ حملہ ایک تقریب کے دوران ہوا جہاں ان پر دو بار گولی چلائی گئی جس میں سے ایک ان کی پیٹھ پر لگی۔ گولی لگنے کے بعد شنزو آبے زمین پر گر گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ شنزو آبے جاپان کے سب سے طویل عرصہ تک رہنے والے وزیر اعظم ہیں جو 2006 میں ایک سال تک وزیر اعظم رہے اور پھر 2012 سے 2020 تک آٹھ سال تک وزیر اعظم رہے۔
شنزو آبے نے صحت کی خرابی کی وجہ سے استعفی دے دیا تھا۔ انھوں نے بعد میں بتایا تھا کہ ان کو بڑی آنت کی ایک بیماری لاحق ہے جسے السرائیٹیو کولائیٹس کہا جاتا ہے۔
ٹوکیو کے سابق گورنر یوئچی ماسوزی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا تھا کہ 67 سالہ سابق وزیر اعظم حملے میں زخمی ہونے کے بعد کارڈیو پلمنری اریسٹ کی حالت میں تھے۔
جاپان میں یہ اصطلاح کسی شخص کی باضابطہ طور پر موت کی تصدیق سے قبل استعمال کی جاتی ہے۔
چیف کیبنٹ سیکرٹری ہیروکازو ماٹسونو نے واقعے کے بعد رپورٹرز کو بتایا تھا کہ ’سابق وزیر اعظم کو نارا شہر میں ساڑھے گیارہ بجے کے قریب گولی ماری گئی۔ ایک شخص، جس پر حملہ آور ہونے کا شبہ ہے، حراست میں لیا جا چکا ہے۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’وجہ جو بھی ہو، ایسے ظالمانہ قدم کو کسی طرح بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا اور ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔‘
عینی شاہدین نے بڑی گن تھامے ایک شخص کو دیکھا
سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز نظر آئیں، جن کی تصدیق نہیں کی جا سکی، جن میں پیرا میڈیکل سٹاف کو ایک گلی میں شنزو آبے کے گرد گھیرا ڈالے دیکھا گیا۔ اس واقعے کے بعد ان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جب یہ حملہ ہوا۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے ایک بڑی گن تھامی ہوئی تھی اور اس نے عقب سے فائر کیا۔
پہلی گولی غالبا شنزو آبے کو نہیں لگی لیکن دوسری گولی ان کی پیٹھ میں جا کر لگی جس کے بعد وہ زمین پر گرے۔ سکیورٹی نے فوری طور پر مبینہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا جس نے فرار ہونے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
مقامی براڈ کاسٹر این ایچ کے نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شنزو آبے ہوش میں تھے جب ان کو فائرنگ کے بعد اس جگہ سے نکالا گیا۔ براڈ کاسٹر کے مطاق پولیس نے حملہ آور کی گن قبضے میں لے لی اور اس کی شناخت بھی کی جا چکی ہے۔
پولیس کی حراست میں ملزم کی شناخت 41 سالہ ٹیٹسوا یاماگامی کے طور پر ہوئی ہے جو نارا شہر کے رہائشی اور جاپان کی میری ٹائم سیلف ڈیفینس فورس کے سابق ممبر ہیں جسے نیوی کے برابر سمجھا جاتا ہے۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جس ہتھیار سے انھوں نے سابق جاپانی وزیر اعظم پر گولی چلائی وہ گھر میں تیار کیا گیا تھا۔
جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے کے مستعفی ہونے کے بعد ان کے قریبی اتحادی یوشیڈے سوگا وزیر اعظم بنے تھے جن کی جگہ بعد میں فومیو کشیڈا نے لی۔
جاپان میں ایسے واقعات بہت کم ہوتے ہیں کیوں کہ گنز پر پابندی ہے۔ یہاں سیاسی تشدد کے واقعات بھی بہت کم سننے کو ملتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
2014 میں جاپان میں گنز سے اموات کے صرف چھ واقعات ہوئے جب کہ اسی سال میں امریکہ میں تقریبا 33,599 سے زائد واقعات پیش آئے۔
جاپان میں گن خریدنے کے خواہش مند کو ایک سخت ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے اور ان کی ذہنی صحت بھی جانچی جاتی ہے۔ اس کے باوجود صرف شاٹ گن اور ایئر رائفل ہی فروخت کرنے کی اجازت ہے۔
مبینہ حملہ آور کے گھر سے بارود برآمد
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے حملہ آور کے گھر کی تلاشی لی ہے اور انھیں وہاں سے کچھ ایسا مواد ملا ہے جو پولیس کے خیال میں بارود ہو سکتا ہے۔
جاپان کے سرکاری چینل این ایچ کے کے مطابق بم ناکارہ بنانے والا عملہ مذکورہ مواد کو اسی مقام پر حفاظت سے تلف کرنے کے انتظامات کر رہا ہے۔
سرکاری حکام نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ حملہ آور نے سابق وزیر اعظم کو گولی کیوں ماری۔
’مسٹر آبے کی موت ناقابل تلافی نقصان‘
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سابق وزیر اعظم شنزو آبے کے خاندان سے رابطہ کر کے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ مسٹر آبے ’ایک غیر معمولی مدبر تھے جنھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان اچھے پڑوسیوں والے تعلقات کے فروغ کے لیے بہت کام کیا۔‘
ٹیلگرام پر اپنے پیغام میں مسٹر پوتن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں آپ اور آپ کے خاندان کے لیے اس ناقابل تلافی نقصان اور مشکل گھڑی میں ہمت اور استقامت کا دعاگو ہوں۔‘