’لمبے چھروں کی رات‘ جب ہٹلر کے قریبی ساتھی سمیت سینکڑوں ’مخالفین‘ کو موت کے گھاٹ اتارا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی و محقق، لاہور
مئی سنہ 1934 کے آخر تک ایڈولف ہٹلر کو جرمنی کا چانسلر بنے 16 ماہ ہو چکے تھے لیکن مطلق العنان اقتدار میں دو رکاوٹیں اب بھی باقی تھیں۔ ان میں سے ایک رکاوٹ تھی ہٹلر کے دیرینہ ساتھی ارنسٹ روئم۔
پہلی عالمی جنگ کے بعد ہٹلر سے پہلے انھوں نے نازی پارٹی کے قیام میں مدد کی۔ انھوں نے ہٹلر کو بویریا میں فوج کی حمایت حاصل کرنے میں مدد کی اور انھیں اپنی نجی فوج فراہم کی، جو اکتوبر سنہ 1921 میں سٹرم ابٹیلنگ (ایس اے) بن گئی۔ روئم کے یہی خاکی پوش طوفانی دستے ہٹلر کو اقتدار میں لائے تھے۔
ایرک ریخ لکھتے ہیں کہ ‘سنہ 1920 اور 1930 کی دہائیوں کے دوران ہٹلر نے ایس اے کو نجی فوج کے طور پر حریفوں کو دھمکانے اور مقابل سیاسی جماعتوں، خاص طور پر سوشل ڈیموکریٹس اور کمیونسٹس کے اجلاسوں میں خلل ڈالنے کے لیے استعمال کیا۔‘
نازی سیاسی انقلاب کے لیے انھوں نے کمیونسٹس سے لڑتے ہوئے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں اور جو بھی ہٹلر کے راستے میں آیا، اسے کچل دیا۔
روئم اور ان کے متکبر خاکی پوش نوجوان خود کو نئی ‘عوامی فوج‘ کا بنیادی جزو تصور کرتے تھے جسے نپولین کی انقلابی فوج کی طرح جرمنی کی روایتی فوج کی جگہ لینا ہو گی۔ ایسا ہونے سے ہٹلر کی خواہشات کے برعکس اسے نازی پارٹی کے ساتھ برابری حاصل ہو جاتی۔
قدامت پسند جرنیل، ایس اے کی شمولیت سے فوج کو ‘آلودہ‘ کرنے کے سخت خلاف تھے۔ یوں روئم کا فوج سے براہ راست تنازع ہو گیا جس کے صدیوں پرانے طرز زندگی کو ختم کرنے کی وہ دھمکی دے رہے تھے۔ فوج میں دولت مند اور مراعات یافتہ افراد شامل تھے، جن میں سے بہت سے جرمنی کے قرون وسطیٰ کے جنگجو شہزادوں کی نسل سے تھے۔
عروج پاتے ہوئے ہٹلر نے بار بار انھیں یہ یقین دہانی کرا کے ان کی حمایت حاصل کی تھی کہ وہ ورسائی معاہدے کی ‘بیڑیوں‘ کو توڑ کر ان کی سابقہ شان بحال کر دیں گے جس سے فوج کی تعداد ایک لاکھ تک اور اس کی تجدید محدود ہو گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہٹلر ‘دوسرے انقلاب‘ کے لیے روئم کی واضح حمایت پر بے چین
ہٹلر دولت کی دوبارہ تقسیم کے لیے ‘دوسرے انقلاب‘ کے لیے روئم کی واضح حمایت پر بے چین تھے۔ جرمن تاجروں کے لیے یہ پریشان کن تھا۔ انھوں نے ہٹلر کے اقتدار میں آنے پر پیسہ لگایا تھا۔ ہٹلر نے ان سے پریشان کن ٹریڈ یونین اور مظاہرین کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب ان کے اپنے طوفانی دستے دوسرے انقلاب کی بات کر رہے تھے۔ (پہلا انقلاب 1933 کے اوائل میں نازیوں کا اقتدار پر قبضہ تھا۔)ایسا کرنے سے کاروباری طبقہ ناراض ہوتا۔
جرمن صدر پال وان ہنڈنبرگ نے 30 جنوری 1933 کو ہٹلر کو چانسلر بنایا تھا۔ اگلے چند مہینوں میں ہٹلر نے جرمنی میں تمام حریف سیاسی جماعتوں کو ختم کر دیا اور سنہ 1933 کے وسط تک ملک یک جماعتی ریاست بن گیا تھا مگر بطور چانسلر، فوج ہٹلر کی کمان میں نہیں تھی۔
فوج ہنڈنبرگ کی باضابطہ قیادت میں رہی جو ایک انتہائی قابل احترام تجربہ کار فیلڈ مارشل تھے۔ اگر وہ چاہتے تو ریخسویر(فوج) کو اقتدار سونپ کر ہٹلر کے تمام منصوبے روک سکتے تھے۔
ہٹلر کے راستے میں دوسری رکاوٹ ہنڈنبرگ ہی تھے۔
یہ جانتے ہوئے کہ خارجہ پالیسی کے لیے فوجی طاقت ضروری ہے اور یہ کہ جرنیلوں کی مخالفت ان کے لیے مہلک ہو سکتی ہے اور ایسا ہی نتیجہ شاید کاروباری طبقے کو ناراض کرنے کا بھی ہو، ہٹلر نے اپنے ساتھیوں ہرمن گوئرنگ اور ہینرک ہملر کے مشورے سے پہلے روئم کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا۔
چانسلر بننے کے بعد ہٹلر نے روئم کو اپنی کابینہ میں شامل کیا تھا لیکن پھر ایس اے کو نازی پارٹی اور فوج کے ماتحت کر دیا۔
رچرڈ ایونز لکھتے ہیں اس سے پہلے ہٹلر نے فروری سنہ 1934 کے آخر میں ایک میٹنگ میں واضح کیا کہ ایس اے ایک فوجی طاقت نہیں ہو گی بلکہ اس کی بجائے کچھ سیاسی کاموں تک محدود رہے گی۔ روئم نے اس سے اتفاق کیا اور یہاں تک کہ وزیر دفاع، ورنر وان بلومبرگ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط بھی کر دیے۔
لیکن روئم نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ’وہ مضحکہ خیز کارپورل جو کہتا ہے، ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ میرا اس معاہدے کو برقرار رکھنے کا ذرہ برابر بھی ارادہ نہیں۔ ہٹلر ایک غدار ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس بات کی اطلاع خاکی پوشوں میں سے ایک نے ہٹلر کو دی۔ دو ماہ بعد روئم نے برلن میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں غیر ملکی نامہ نگاروں نے شرکت کی۔ یہاں روئم نے دلیری سے اعلان کیا کہ ایس اے قومی سوشلسٹ انقلاب ہے۔
ہملر نے اپنے نائب رین ہارڈ ہائیڈرچ کے ساتھ مل کر سازش کرنا شروع کر دی۔ جلد ہی ان کے ساتھ ہرمن گوئرنگ مل گئے۔ ان سب نے مل کر روئم کے بارے میں جھوٹی سچی باتوں سے ہٹلر کے کان بھرنا شروع کر دیے۔
ہملر نے فوج کے ارکان سے بھی ملاقات کی اور ایس اے کے خلاف کسی بھی کارروائی میں ایس ایس اور فوج کے درمیان تعاون کو یقینی بنانے کے لیے ایک خفیہ معاہدہ کیا۔ فوج نے بیرکوں میں رہتے ہوئے ایس ایس کو ہتھیار اور نقل و حمل فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
‘لمبے چھروں کی رات‘
یوں 30 جون سے 2 جولائی سنہ 1934 تک کے عرصے میں نازی جرمنی کو ممکنہ مخالفین سے پاک کرنے کا خون آشام سلسلہ رونما ہوتا ہے جسے تاریخ میں ‘لمبے چھروں کی رات‘ کہا جاتا ہے۔
ولیم شائرر اور ایلن بلاک اس کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں کہ ‘ہٹلر 30 جون بروز ہفتہ کی صبح میونخ میں اترے۔ انھیں بتایا گیا کہ سڑکوں پر ایس اے نے کچھ مظاہرے کیے لیکن وہ اب ختم ہو گئے ہیں۔ ان مظاہروں کی خبروں نے ہٹلر کو بہت غصہ دلایا۔ وہ میونخ میں وزارت داخلہ کی عمارت میں گئے جہاں انھوں نے ایس اے کے تین اعلیٰ عہدیداروں کی وردیوں سے نازی نشان نوچ پھینکا۔
اب انھیں روئم کا کچھ کرنا تھا۔ ہٹلر ایس ایس کے اہلکاروں کے ایک قافلے میں بیڈ ویسی کے ریزورٹ ہوٹل کی طرف بڑھے۔ راستے میں ان کے ساتھ ٹرک بھی شامل ہو گئے جن میں ہٹلر کے ذاتی محافظ تھے۔ ہٹلر کے اندر جانے سے پہلے ایس ایس نے ہوٹل کو محفوظ کیا۔‘
‘ایس ایس جوانوں کے ساتھ، ہٹلر نے روئم کے دروازے کو ٹھوکر مار کر کھولا اور کافی دیر تک چیختے ہوئے بغاوت کے الزامات لگانے کے بعد کہا کہ ارنسٹ، تم زیر حراست ہو۔‘
اس طرح ہٹلر اور نازی پارٹی کے اصل ارکان میں سے ایک کے درمیان 15 سال کی رفاقت کا خاتمہ ہوا۔
تقریباً 10 بجے ہٹلر نے برلن میں گوئرنگ کو فون کیا جس میں پہلے سے ترتیب شدہ کوڈ ورڈ ‘کولبری‘ (ہمنگ برڈ) دیا گیا۔ یہ قتل کی مہم کا اشارہ تھا۔
ایان کرشا اپنی کتاب ہٹلر میں لکھتے ہیں کہ قتل کے اس منصوبے پر عمل درآمد سے پہلے، اس کے منصوبہ ساز اسے ہمنگ برڈ (جرمن زبان میں کولیبری) کے نام سے پکارتے تھے، یہ کوڈ ورڈ قتل کرنے والے دستے کو کارروائی پر بھیجنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس سے پہلے، جرمن زبان میں ‘لمبے چھروں کی رات‘ کی ترکیب انتقامی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
رچرڈ ایونز کا کہنا ہے کہ 85 افراد تو فوری جان سے گئے۔ گوئرنگ نے ہزار کے قریب افراد کو گرفتار کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قتل ہونے والوں کی کی صحیح تعداد معلوم نہیں کیونکہ تمام گیسٹاپو دستاویزات کو تباہ کر دیا گیا تھا جبکہ کچھ لوگ شناخت کی غلطی سے بھی مارے گئے۔
ایرک لارسن سمیت بہت سے تاریخ دان قتل کیے جانے والے افراد کی تعداد 700 سے 1000 لکھتے ہیں۔
ہٹلر کے ذاتی محافظوں (ہملر کے ماتحت شٹزسٹافے یا ایس ایس)، سکیورٹی سروس اور رین ہارڈ ہائیڈرچ کے ماتحت خفیہ پولیس گیسٹاپو نے نے ایس اے کے تقریباً 400 ارکان اور سابقہ چانسلر، فان شلیچر، نازی پارٹی کے بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے سٹراسر دھڑے کے سرکردہ ارکان، بشمول اس کے سربراہ، گریگور سٹراسر اور بویرین سیاست دان گستاو فان کاہر، جنھوں نے سنہ 1923 میں ہٹلر کی میونخ بیئر ہال بغاوت کو دبایا تھا، سمیت ہٹلر کے کئی دوسرے ممکنہ مخالفین کو قتل کر دیا۔
گریگور سٹراسر سنہ 1932 تک نازی پارٹی میں ہٹلر کے بعد دوسرے نمبر پر تھے۔ گوئرنگ کی ذاتی پولیس بٹالین نے بھی ان ہلاکتوں میں حصہ لیا۔
وائس چانسلر فرانز وان پاپین متاثرین میں شامل ہونے سے بال بال بچ گئے اور انھیں تین دن بعد (3 جولائی) وائس چانسلر شپ سے برطرف کر دیا گیا۔
تھکے ماندے اور بغیر شیو کے ہٹلر تقریباً 40 گھنٹوں سے نہیں سوئے تھے۔ ہفتے کی شام انھوں نے واپس برلن کی طرف پرواز کی۔ ہوائی اڈے پر ان کی ملاقات گوئرنگ اور ہملر سے ہوئی۔
گیسٹاپو کے ایک اہلکار ہانس گیزیوس، جو وہاں موجود تھے، کا بیان ہے کہ ‘گاڑیوں کی طرف جاتے ہوئے ہٹلر کو گوئرنگ اور ہملر نے ایک فہرست دکھائی۔ ہٹلر نے اسے پڑھا۔ ہم دیکھ سکتے تھے کہ ہٹلر کی انگلی آہستہ آہستہ کاغذ کی شیٹ پر حرکت کر رہی تھی۔ دونوں سازشی اور بھی پرجوش انداز میں سرگوشی کرنے لگے۔‘
‘اچانک ہٹلر نے غصے سے اپنا سر اٹھایا۔ آخر وہ آگے بڑھے، ہٹلر آگے، اس کے بعد گوئرنگ اور ہملر۔ ہٹلر اب بھی سست رو تھے۔ اس کے برعکس، ان کے پہلو میں دو خون آلود بدمعاش زیادہ جاندار لگ رہے تھے۔‘
‘ارنسٹ روئم جیل میں تھے۔ پہلے تو ہٹلر ہچکچاتے رہے لیکن آہستہ آہستہ گوئرنگ اور ہملر نے انھیں روئم کی موت کی منظوری کے لیے اکسایا۔ اس کے بعد روئم کو ایک پستول دیا گیا جس میں ایک گولی تھی اور خودکشی کے لیے 10 منٹ کا وقت تھا لیکن روئم نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ‘اگر مجھے مارا جانا ہے تو ایڈولف خود مارے۔‘
ایس ایس کے دو افسران 15 منٹ کے بعد روئم کے سیل میں داخل ہوئے اور انھیں گولی مار دی۔ روئم کے آخری الفاظ تھے: میرا لیڈر، میرا لیڈر۔
یہ بھی پڑھیے
ایک افسر نے کہا کہ ’تمھیں پہلے سوچنا چاہیے تھا، اب بہت دیر ہو چکی ہے۔‘ بہت سے قیدیوں کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے مار دیا گیا۔
اتوار کی شام یکم جولائی کو جب ابھی قاتلانہ مہم جاری تھی، ہٹلر نے برلن میں ریخ چانسلری کے باغ میں ایک ٹی پارٹی رکھی تاکہ یوں لگے کہ حالات معمول پر آ رہے ہیں۔
صبح 4 بجے، پیر، 2 جولائی کو ہٹلر کے کہنے پر 72 گھنٹے کی خونریزی ختم ہوئی۔
13 جولائی سنہ 1934 کو ریڈیو پر نشر ہونے والی تقریر میں ہٹلر نے کہا کہ ‘ہر ایک کو جان لینا چاہیے کہ اگر وہ ریاست پر حملے کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو یقینی موت اس کا مقدر ہے۔‘
ہٹلر نے خود کو قانون سے بالاتر رکھتے ہوئے عوام کا سپریم جج ہونے کا اعلان کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فوج ہٹلر کی حامی تو عدلیہ بھی وفادار
پال جانسن کہتے ہیں کہ ہٹلر کے لیے فوج کی حمایت مضبوط اور مستحکم ہوئی۔ نازیوں کو قانونی بنیاد بھی فراہم ہو گئی کیونکہ جرمن عدالتوں اور کابینہ نے حکومت کے ساتھ اپنی وفاداری کا مظاہرہ کرنے کے لیے ماورائے عدالت قتل کے خلاف صدیوں کی قانونی ممانعت کو فوری طور پر ایک طرف کر دیا۔
عام جرمن شہری خاکی پوشوں کو ان کے گینگسٹر جیسے رویے کے باعث ناپسند کرتے تھے۔ وہ دکانوں کے مالکان سے پیسے بٹورتے، نئی نئی گاڑیوں میں پھرتے، نشے میں دھت ہوتے، مار پیٹ کرتے اور تفریح کے لیے معصوم لوگوں کو قتل کرتے۔
ولیم شائرر کے مطابق سیاسی تشدد کے بدترین مہینوں میں سے ایک، جون 1932 میں، سڑکوں پر 400 سے زیادہ لڑائیاں ہوئیں، جس کے نتیجے میں 82 افراد ہلاک ہوئے۔
کرشا لکھتے ہیں یہاں تک کہ دفتر خارجہ نے ایسے واقعات کی شکایت کی جہاں خاکی پوشوں نے غیر ملکی سفارتکاروں سے بدتمیزی کی۔
ایس اے کے ہتھکنڈوں پر سخت تنقید کرتے جرمن عوام کے سامنے ہٹلر کی حکومت کی شبیہ بھی بہتر ہو گئی۔ ایس اے ختم ہوئی اور نازی کے اندرونی مخالفین بھی نہ رہے مگر اب ایس اے کی جگہ ایس ایس نے لے لی تھی تاہم نازیوں نے اسے روئم بغاوت کی پیش بندی قرار دیا۔
‘ورنہ وہ ہمیں مٹا دیتے‘
ہٹلر نے وکٹر لٹزے کو روئم کی جگہ ایس اے کا سربراہ نامزد کیا۔ کرشا کے مطابق ہٹلر نے انھیں ایس اے میں ہم جنس پرستی، بے حیائی، شراب، اور عیاشی کو ختم کرنے کا حکم دیا۔ لٹزے نے آنے والے برسوں میں ایس اے کی آزادی پر کچھ کام نہ کیا اور یوں اس نے جرمنی میں اپنی طاقت کھو دی۔
ماہر نفسیات گستاو گلبرٹ لکھتے ہیں کہ برسوں بعد نومبر 1945 میں نیورمبرگ ٹرائلز کے دوران اپنے سیل میں انٹرویو کے دوران گوئرنگ نے غصے سے انھیں قتل کی اس مہم کا جواز کچھ یوں پیش کیا: ‘یہ بہت اچھی بات ہے کہ میں نے ان کا صفایا کر دیا، ورنہ وہ ہمیں مٹا دیتے۔‘
اب سنہ 1934 کے موسم گرما میں جرمنی میں ایڈولف ہٹلر اور ان کے مطلق العنان اقتدار کے درمیان صرف 87 سالہ صدر پال وان ہنڈنبرگ تھے۔
ہنڈنبرگ کا انتقال 2 اگست 1934 کو صبح 9 بجے کے قریب ہو گیا۔
چند گھنٹوں کے اندر نازی ریخسٹگ نے ایک قانون کا اعلان کیا، جو یکم اگست سے پہلے سے مؤثر تھا۔
یہ قانون تکنیکی طور پر غیر قانونی اور غیر آئینی تھا لیکن اس سے اب زیادہ فرق نہیں پڑا۔ کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ تیسرے ریخ، سربراہ مملکت، کمانڈر ان چیف اور واحد سیاسی جماعت کے رہنما ہٹلر اب خود قانون تھے۔








