آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نیٹو کا سربراہی اجلاس: یوکرین جنگ میں توسیع سے گریز سمیت فوجی اتحاد کے سامنے پانچ بڑے چیلنجز کیا ہیں؟
- مصنف, فرینک گارڈنر
- عہدہ, بی بی سی ، سکیورٹی نامہ نگار
رواں ہفتے سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ہونے والا نیٹو کا سربراہی اجلاس اس تنظیم کی 73 سالہ تاریخ کے ایک نازک وقت میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔
یوکرین پر روس کے حملے کو سنہ 2001 میں امریکہ میں ہونے والے حملوں کے بعد مغرب کے لیے سب سے بڑا سٹریٹجک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں نیٹو وہ واحد فوجی اتحاد ہے جو یورپ کو مزید روسی جارحیت سے بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن کیا اس کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کی کوئی حکمت عملی ہے بھی؟
لگ بھگ تین سال قبل فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں نے نیٹو کو ’دماغی‘ طور پر ’مردہ‘ قرار دیا تھا۔ مگر پھر بھی جس لمحے روسی ٹینکوں نے سرحد پار کر کے یوکرین میں داخل ہونا شروع کیا اس مغربی فوجی اتحاد کا ردعمل اپنی تیزی اور جوش کے لیے قابل ذکر رہا ہے۔ اسے سرحدوں کو مضبوط کرنے اور ہتھیاروں کی فراہمی کے نئے مقصد کے تحت گویا ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔
میڈرڈ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر نیٹو کے سیکریٹری جنرل جنز سٹولٹنبرگ نے اعلان کیا کہ اسے مشرقی سرحدوں پر اپنے دفاع کو مضبوط بنانا ہے اور اتحاد کی تیز رفتار ردعمل کی قوت کو تین لاکھ سے زیادہ فوجیوں تک بڑھانا ہے۔
یہاں کچھ انتہائی اہم مسائل پیش کیے جا رہے ہیں جن پر رواں ہفتے نیٹو اجلاس میں بات چیت ہو گی۔
1۔ یوکرین کی جنگ میں توسیع سے گریز
نیٹو کے سامنے ایک طرح کے توازن کو قائم کرنے کا معاملہ ہے۔ یہ دنیا کا سب سے طاقتور فوجی اتحاد ہے جس کے 30 رکن ممالک ہیں، جن میں سے تین جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک امریکہ، برطانیہ اور فرانس روس کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتے۔
صدر پوتن نے بارہا مغرب کو یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ ان کے پاس بڑے پیمانے پر جوہری ہتھیار ہیں اور یہ کہ ایک نچلی سطح کی سرحد پار جھڑپ بھی تیزی سے قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
اس لیے پچھلے چار مہینوں سے سب سے بڑا چیلنج یہ رہا ہے کہ جنگ میں شامل ہوئے بغیر یوکرین کی اس بلااشتعال حملے کے خلاف اپنے دفاع میں کس طرح مدد کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیئو کو بھاری ہتھیار بھیج کر ماسکو کو پریشان نہ کرنے کے بارے میں ابتدائی مغربی پس و پیش اب ختم ہو چکی ہے کیونکہ مبینہ روسی جنگی جرائم اور مظالم کی جو لرزہ خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کی توثیق سیٹلائٹ ڈیٹا سے بھی ہوتی ہیں۔
میڈرڈ سربراہی اجلاس میں یہ طے کرنے کی ضرورت ہو گی کہ نیٹو ممالک کس قدر اور کتنی دیر تک فوجی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
ابھی کے لیے ماسکو مشرقی یوکرین کے زیادہ تر روسی بولنے والے علاقے ڈونباس میں جیت رہا ہے، اگرچہ یہ جانی اور مالی نقصانات کی صورت میں بھی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔
توقعات یہ ہیں کہ روس ان علاقوں پر اپنا قبضے برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا شاید اسی طرح اس نے سنہ 2014 میں کریمیا کا الحاق کیا تھا۔
امن معاہدے کی عدم موجودگی میں نیٹو کو آنے والے دنوں میں ایک نئے مخمصے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیا نیٹو یوکرینیوں کو مسلح کرنا جاری رکھے گا کہ وہ اس سرزمین کو واپس لینے کی کوشش کریں جسے ماسکو اب قانونی طور پر روسی فیڈریشن کا حصہ سمجھتا ہے؟
کریملن نے عندیہ دیا ہے کہ روسی سرزمین پر حملہ کرنے والے مغربی ہتھیار اس سرخ لکیر کو عبور کرنے کے مترادف ہوں گے جس سے علاقے میں کشیدگی کے خطرات ڈرامائی طور پر بڑھ جائیں گے۔
2۔ یوکرین کے معاملے پر اتحاد کو برقرار رکھنا
اگر روس صرف ڈونباس پر حملہ کرتا اور پورے یوکرین پر تین اطراف سے حملہ نہ کرتا تو عین ممکن ہے کہ ہم مغرب کے ردعمل میں اتنا غیر معمولی اتحاد نہ دیکھ پاتے۔
یورپی یونین کی پابندیوں کے چھ دور روس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں جبکہ جرمنی نے فی الوقت کئی ارب ڈالر کے نورڈ سٹریم 2 پائپ لائن کو منسوخ کر دیا ہے جس کا مقصد روسی گیس کو شمالی جرمنی تک پہنچانا تھا۔
لیکن مغربی اتحاد میں اس بات پر اختلافات ہیں کہ روس کو کس حد تک سزا دی جائے اور مغربی معیشت کتنی تکلیف برداشت کر سکتی ہے۔
یہ باتیں ممکنہ طور پر میڈرڈ میں زیر غور آئیں گی۔
جرمنی پر ہتھیاروں کی فراہمی کے وعدے کو لٹکانے کا الزام عائد ہے جبکہ ہنگری جو صدر پوتن سے قریبی روابط رکھنے والے وزیر اعظم کی قیادت میں ہے، نے روسی تیل کی خریداری روکنے سے انکار کر دیا ہے۔
پورے منظر کے دوسرے سرے پر وہ ممالک ہیں جو ماسکو سے سب سے زیادہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں، ان میں بطور خاص پولینڈ اور بالٹک ریاستیں شامل ہیں اور وہ اپنی سرحدوں پر ممکنہ سخت دفاعی ترتیب اور نیٹو کی مزید کمک کے لیے زور دے رہی ہیں۔
3۔ بالٹک ریاستوں کو محفوظ بنانا
یہ خطہ نیٹو اور روس کے درمیان جھگڑے کا موجب بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رواں ماہ جب لیتھوینیا نے یورپی یونین کی طرف سے منظور شدہ کچھ سامان کو روس کے بالٹک ریاستوں سے محصور علاقے کیلینن گراڈ کی طرف جاتے ہوئے اپنے علاقے میں سفر کرنے سے روک دیا تھا تو روس نے ’عملی جوابی اقدامات' کی دھمکی دی تھی۔
ایسٹونیا کے کھل کر بولنے والے وزیر اعظم کاجا کالس نے نیٹو پر روس کے سرحد پار حملے کے لیے تیار نہ ہونے پر تنقید کی ہے۔ موجودہ حکمت عملی میں روس کے حملے کے بعد ہی ایسٹونیا کے علاقے کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ ہمیں نقشے سے مٹا سکتے ہیں۔‘
کبھی ایسٹونیا، لیٹویا اور لتھوینیا سب غیر ارادی طور پر سوویت یونین کا حصہ تھے۔ آج، وہ سب آزاد ریاستیں ہیں اور نیٹو میں شامل ہیں۔ ان تینوں ممالک میں پولینڈ کے ساتھ چار کثیر القومی جنگی گروپ تعینات ہیں۔ یہ وہاں اگلے مورچے کے طور پر تعینات ہیں۔ برطانیہ ایسٹونیا میں ایک مورچے کی قیادت کر رہا ہے، پولینڈ میں امریکہ قیادت کر رہا ہے، لیتھوینیا میں جرمنی ہے جبکہ لیٹویا میں کینیڈا پیش پیش ہے۔
اس کے باوجود نیٹو کے منصوبہ ساز اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ جنگی گروپ مستقبل کے روسی حملے کے خلاف صرف بھک سے اڑ جانے والی دیوار ثابت ہوں گے۔ وہ از سر نو تشکیل شدہ روسی فوج کے مشترکہ حملے کو روکنے کے معاملے میں انتہائی چھوٹے ہیں۔
بالٹک رہنما اتنا چاہتے ہیں نیٹو افواج کی کم از کم ایک ڈویژن ہو جو ہر ملک میں ایک سنگین رکاوٹ کے طور پر تعینات ہوں۔ میڈرڈ میں اس پر ایک گرما گرم بحث ہونے کا امکان ہے۔
4۔ فن لینڈ اور سویڈن کو شامل ہونے کی اجازت دینا
فن لینڈ اور سویڈن دونوں ایک خودمختار ملک پر روس کے مکمل حملے سے سخت پریشان ہوئے ہیں۔ ان ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ اپنی غیرجانبداری والی پالیسی کو چھوڑ کر نیٹو میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور نیٹو اتحاد ان کا کھلے عام استقبال کر رہا ہے، لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ خیال رہے کہ ترکی سنہ 1952 سے اس اتحاد کا رکن ہے۔ وہ اس بنیاد پر ان کی شمولیت کو روک رہا ہے کہ یہ دونوں نورڈک ممالک کرد علیحدگی پسندوں کو پناہ دیتے ہیں جنھیں ترکی دہشت گرد تصور کرتا ہے۔
تاہم فن لینڈ اور سویڈن نیٹو کے لیے اتنے اہم ہیں کہ وہ ان کی شمولیت کے لیے ترکی کے اعتراضات کو دور کرنے کا کوئی راستہ تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ ایک بار جب وہ شامل ہو جائیں گے تو بحیرہ بالٹک مؤثر طریقے سے ایک ’نیٹو جھیل‘ بن جائے گا، جس کی سرحد آٹھ رکن ممالک کے ساتھ ہے اور جس میں بالآخر ایک مشترکہ ڈیفنس اور مربوط میزائل سسٹم ہو گا۔
مزید دور دیکھتے ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نیٹو کو کبھی یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہو گی کہ آیا وہ جارجیا اور مولڈووا جیسے نئے ممبران کو اتحاد میں شامل کرے یا نہیں کیونکہ یہ پہلے سے ہی جلے بھنے کریملن کو اکسانے کے مترادف ہوگا۔
5۔ دفاعی اخراجات میں فوری اضافہ
فی الحال نیٹو کے ارکان اپنی سالانہ مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد دفاع پر خرچ کرنے کے پابند ہیں، لیکن سب ایسا نہیں کرتے۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکہ نے دفاع پر 3.5 فیصد خرچ کیا اور برطانیہ نے 2.2 فیصد اور جرمنی نے صرف 1.3 فیصد خرچ کیا جبکہ اٹلی، کینیڈا، سپین اور نیدرلینڈز 2 فیصد سے کم خرچ کر رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں روس اپنی جی ڈی پی کا 4.1 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر تھے تو انھوں نے کھلے عام دھمکی دی تھی کہ اگر دیگر رکن ممالک نے اپنا بوجھ نہ اٹھایا تو وہ امریکہ کو اس اتحاد سے نکال لیں گے۔
اس کا کچھ اثر ہوا، لیکن یوکرین کے حملے کا زیادہ اثر ہوا۔ اس جنگ کے شروع ہونے کے صرف تین دن بعد جرمنی نے اعلان کیا کہ وہ دفاع کے لیے اضافی 100 ارب یورو مختص کرے گا جس سے اس کا حتمی کوٹہ دو فیصد سے بڑھ جائے گا۔
رواں ہفتے، نیٹو کے سربراہ نے اعلان کیا کہ 30 میں سے نو رکن ممالک 2 فیصد ہدف تک پہنچ چکے ہیں یا اس سے آگے بڑھ چکے ہیں، جب کہ 19 ارکان کے 2024 تک اس تک پہنچنے کے واضح منصوبے ہیں۔
جنز سٹولٹنبرگ نے کہا کہ دو فیصد ’بنیادی خرچ ہونا چاہیے، زیادہ سے زیادہ نہیں۔‘
مغربی فوجی سربراہان اور تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ اگر روس کو مزید جارحیت سے روکنا ہے تو دفاعی اخراجات میں فوری اضافہ کیا جانا چاہیے۔ لیکن حالیہ دہائیوں میں لگاتار دفاعی کٹوتیوں نے ایسے سوالات کو جنم دیا ہے کہ کیا نیٹو کے پاس مستقبل میں روسی مداخلت کو روکنے کے لیے کافی صلاحیت موجود ہے۔
اگرچہ حال ہی میں برطانیہ کے دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے لیکن خریداری میں بھی بڑے پیمانے پر ضیاع ہوا ہے۔ برطانیہ کی موجودہ فوج 82,000 فوجیوں پر مشتمل ہے جن میں فی الحال تربیت لینے والے فوجی بھی شامل ہیں لیکن کٹوتیوں کے بعد یہ تعداد 72,500 رہ جائے گی۔
مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ روس اور چین دونوں ہائپر سونک میزائل تیار کرنے میں مغرب سے آگے ہیں جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ اور غیر متوقع پرواز کے راستے پر اپنے ہدف کی طرف سفر کر سکتے ہیں۔
یہ سب وبائی مرض کی شدت میں خوراک اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں زبردست اضافے کے وقت سامنے آیا ہے اور بجٹ پہلے سے ہی تنگ ہے۔ دفاع کے لیے مزید رقم مختص کرنا مقامی طور پر غیر مقبول ثابت ہو سکتا ہے اور وہ بھی ایسے میں جب حکومتی اخراجات کے حوالے سے بہت سے دیگر اہم مطالبات ہوں۔
لیکن فوجی سربراہان نے خبردار کیا ہے کہ اگر نیٹو نے ابھی اپنی سلامتی کو مضبوط نہیں کیا تو مستقبل میں مزید روسی جارحیت کی قیمت لامتناہی طور پر زیادہ ہو گی۔