یوکرین کو یورپی یونین میں ’امیدوار‘ کا درجہ ملنے سے کیا فائدہ ہو گا اور اس پر روس کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟

    • مصنف, جیسیکا پارکر، جو ان وڈ اور سٹیون روزنبرگ
    • عہدہ, برسلز، کیئو اور ماسکو سے

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے دوران ایک اہم پیش رفت میں یورپین یونین نے یوکرین کو ’امیدوار‘ کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کسی بھی ملک کے یورپی یونین کا حصہ بننے کی جانب پہلا باضابطہ قدم ہے۔

یورپین کونسل کے صدر چارلس مشیل نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے اسے ایک ’تاریخی لمحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’آج یورپی یونین میں شمولیت کے راستے پر آپ (یوکرین) نے پہلا قدم لیا ہے۔‘

واضح رہے کہ یوکرین نے فروری میں روس کے حملے کے چند دن بعد ہی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دے دی تھی جس کے بعد یہ عمل ریکارڈ تیز رفتاری سے آگے بڑھا۔

ادھر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یوکرین کا مستقبل یورپی یونین کے ساتھ ہے۔‘

واضح رہے کہ امیدوار کا درجہ حاصل ہونا یورپی یونین کی باقاعدہ ممبر شپ کی طرف پہلا قدم ہے لیکن ممبر بننے تک کا سفر طویل اور کئی برسوں پر محیط ہو سکتا ہے جس میں کامیابی حاصل ہونے کی کوئی ضمانت نہیں۔

یورپی یونین کیا ہے؟

یورپی یونین ایک معاشی اور سیاسی اتحاد کا نام ہے جس کی بنیاد دوسری جنگ عظیم کے بعد رکھی گئی۔ اس وقت اس میں یورپ کے 27 ممالک شامل ہیں۔

اس یونین میں شامل ممالک کے درمیان سامان اور سروسز کے لین دین پر کوئی پابندی نہیں جب کہ ممبر ممالک کے شہری یونین میں کہیں بھی رہائش پذیر ہو سکتے ہیں یا کام کر سکتے ہیں۔

یورپی یونین کی ایک ہی کرنسی ہے، جسے ’یورو‘ کہا جاتا ہے اور اسے استعمال کرنے والوں کی تعداد 27 میں سے 19 ممالک میں تقریباً 340 ملین ہے۔

اس کے علاوہ ممبر ممالک میں کئی معاملات میں یکساں معیار پایا جاتا ہے جیسا کہ فوڈ سیفٹی، کاشتکاری اور ملازمت کے حقوق۔

یورپی یونین غریب خطوں کی معیشت کی مدد کے لیے امداد بھی فراہم کرتی ہے۔

یورپی یونین میں شمولیت کی سخت شرائط

یورپین کمیشن کے صدر نے کہا ہے کہ شمولیت کا عمل ’میرٹ اور قانون‘ کے تحت مکمل کیا جائے گا اور باقاعدہ مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہوں گے جب تک چند اصلاحات مکمل نہیں کر لی جاتیں۔

ان میں قانون کی حکمرانی اور کرپشن کا خاتمہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور اولیگارکس کی طاقت کم کرنا بھی ان چند شرائط میں شامل ہیں جن پر یوکرین یا کسی بھی ایسے ملک کو کام کرنا ہوتا ہے جو یورپی یونین میں شمولیت کا خواہش مند ہوتا ہے۔

زیک پیکن، جو برسلز میں سینٹر آف یورپین پالیسی سٹڈیز تھنک ٹینک کے ایک ریسرچر ہیں، کہتے ہیں کہ ’یوکرین کو اپنی معیشت بھی مضبوط کرنی ہو گی جو کہ ایک سابق سوویت یونین ریپبلک کے لیے مشکل کام ہے۔‘

زیک کا ماننا ہے کہ یوکرین کو یورپی یونین کا حصہ بننے سے معاشی فائدہ تو ہو گا لیکن یہ اس کا اصل مقصد نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یورپی یونین کی ممبر شپ یوکرین کو ایک آزاد اور خود مختار یورپی ریاست کا درجہ دلائے گی اور یہ صرف روس کی دنیا کا ایک حصہ نہیں رہے گا۔‘

یوکرین کو اپنے عدالتی نظام میں بھی اصلاحات لانا ہوں گی جو تنقید کی زد میں رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ حال ہی میں یورپین یونین کا حصہ بننے والے بلغاریہ، رومانیہ اور کروشیا کو اس پورے عمل کو مکمل کرنے میں 10 سے 12 سال کا عرصہ لگا تھا۔

البانیہ، شمالی میسیڈونیا، مونٹینیگرو اور سربیا کئی برسوں سے امیدوار کا درجہ رکھتے ہیں لیکن ان کی شمولیت کی درخواست ابھی تک منظور نہیں ہو سکی۔

ترکی کو 1999 میں امیدوار کا درجہ ملا تھا لیکن اس کے بعد شمولیت پر مذاکرات انسانی حقوق کے ریکارڈ کے سوال پر تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ یوکرین اور مولڈووا کے ساتھ ساتھ جارجیا نے بھی یورپی یونین کو درخواست دی تھی جسے فی الحال قبول نہیں کیا گیا۔

’یورپی یونین متحد ہے‘

یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈر نے کہا ہے کہ ’تینوں ممالک یورپی خاندان کا حصہ ہیں اور اس فیصلے نے ہم سب کو مضبوط کیا ہے۔‘

’روسی سامراجیت کے خلاف اس فیصلے نے یوکرین، مولڈووا اور جارجیا سب کو طاقتور بنایا ہے۔ اور یورپی یونین بھی مضبوط ہوئی ہے۔ کیوں کہ اس فیصلے نے دنیا کو دکھایا ہے کہ ہم بیرونی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہیں۔‘

ادھر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی گذشتہ ایک ہفتے سے ہر تقریر میں یورپی یونین کے امیدوار کا درجہ حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس سفر کی شروعات ان کے ملک کو ہمیشہ کے لیے روس کے تسلط سے باہر نکال سکتی ہے۔

2014 میں یورپی یونین کے حق میں شروع ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں ہی روسی حمایت یافتہ یوکرینی صدر وکٹر یانوکیووچ کو اقتدار چھوڑنا پڑا تھا جس کے بعد روس نے کریمیا پر اپنا تسلط قائم کیا اور ملک میں علیحدگی پسندوں نے بغاوت کا آغاز کیا۔ یہی وہ واقعات ہیں جن کو موجودہ جنگ کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔

روس کا ردعمل کیا ہو گا؟

روس ہمیشہ سے جانتا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے، یعنی یوکرین کو یورپی یونین امیدوار کا درجہ دے سکتا ہے اور شاید اسی لیے روس نے ہمیشہ سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ ایسی کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

گذشتہ ہفتے سینٹ پیٹرزبرگ میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین کی یورپی یونین میں ممکنہ شمولیت پر ان کو کوئی مسئلہ نہیں ہے کیوں کہ ’معاشی یونین کا حصہ بننا ان کا خودمختارانہ فیصلہ ہے۔‘

ولادیمیر پوتن کے بیان پر کس حد تک یقین کیا جا سکتا ہے؟ کیا واقعی ان کو کوئی مسئلہ نہیں؟ یہ سوچنا مشکل ہے کہ روس آرام سے بیٹھ کر اس ملک کو یورپی یونین کا حصہ بنتے دیکھے گا جس پر اس نے حملہ کیا ہے۔

صدر پوتن نے ایک بار روس اور یوکرین کے لوگوں کو ایک عوام قرار دیا تھا اور وہ یوکرین کو ایک ایسی سرزمین کے طور پر دیکھتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے روس کی ملکیت رہی ہے۔ روس کے حملے کو بھی ایک ایسی کوشش کے طور پر دیکھا گیا ہے جس کا مقصد یوکرین کو روس کے زیر اثر واپس لانا ہے اور اب تک اس جنگ کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آّ رہا۔

یوکرین کو یورپی یونین میں امیدوار کا درجہ دینا ماسکو کے لیے ایک سخت پیغام بھی ہے جس کا مطلب ہے کہ یوکرین یا یورپی یونین صدر پوتن کے ایک نئے یورپی آرڈر کے نظریے سے متفق نہیں اور نہ ہی اس کو تسلیم کریں گے۔

لیکن روس یہ بھی جانتا ہے کہ امیدوار سے یورپی یونین کا باقاعدہ ممبر بننے کا راستہ کافی طویل ہے جس کے دوران یوکرین کو کافی مشکلات عبور کرنا ہوں گی، جن میں سے کچھ میں روس اضافہ بھی کر سکتا ہے۔۔

یورپی یونین کی ممبر شپ کا نئے ملکوں کو کیا فائدہ ہوا؟

رومانیہ اور بلغرایہ نے 15 سال قبل یورپی یونین میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی تھی۔ ان پندرہ برسوں میں رومانیہ کی آمدن میں تین گنا جب کہ بلغاریہ کی آمدنی میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔

یورپی یونین نے دونوں ممالک کو کئی ارب یورو امداد دی جس سے ملک کی معاشی ترقی ممکن ہوئی اور نئی سڑکیں، بندرگاہیں بنائی گئیں۔

سنہ 2014 سے 2020 کے درمیان بلغاریہ کو 11 ارب جب کہ رومانیہ کو 35 ارب یورو کی مالی امداد فراہم کی گئی۔

اس کے باوجود ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا موقف ہے کہ اس امداد کا کافی حصہ کرپشن کی نظر ہو گیا۔

بلغاریہ اب بھی یورپی یونین میں تنخواہوں، صحت اور تعلیم کی درجہ بندی میں سب سے نیچے ہے۔ دوسری جانب رومانیہ دوسرے غریب ترین یورپی یونین کے ملک سے ترقی کرتا ہوا چھٹے نمبر تک پہنچ چکا ہے۔

ادھر ورلڈ بینک کے مطابق بلغاریہ سے 15 لاکھ شہری جب کہ رومانیہ سے 40 لاکھ افراد یورپی یونین کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرون ملک گئے ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس برین ڈرین کا دونوں ملکوں کے مستقبل پر منفی اثر مرتب ہو سکتا ہے۔