تھائی لینڈ: منشیات کے خلاف جنگ کرنے والے ملک نے بھنگ کے قانونی استعمال کی اجازت کیوں دی؟

- مصنف, جوناتھن ہیڈ
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار
21 سال قبل میں اپنے صحافتی کیریئر کے ایک مشکل تجربے سے گزرا۔ ہمیں بنکاک کی بانگکوان جیل میں مدعو کیا گیا تھا جہاں پانچ قیدیوں کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جانے والی تھی۔ ہمیں سزا پر عمل درآمد دیکھنے اور کیمرے پر محفوظ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ان پانچ میں سے چار قیدیوں کو منشیات کی سمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر سزا دی گئی تھی۔
میں ان قیدیوں کے چہرے کبھی نہیں بھولوں گا۔ جب ان کو اس مقام پر لایا گیا جہاں ان کو سزا دی جانی تھی، تو ان کے قدموں کے ساتھ ساتھ پاؤں میں بندھی بیڑیوں کے چھنکنے کی آواز آ رہی تھی۔
ان قیدیوں کو ملنے والی سزا وزیر اعظم تھکسن شینا وترا کی منشیات کے خلاف جنگ کا حصہ تھی جو بعد میں شدت اختیار کر گئی اور اس کے دوران سینکڑوں ملزمان کو ہلاک کیا گیا۔
لیکن یہ مہم مقبول رہی۔ اس وقت تھائی لینڈ کے لوگ منشیات کے اثرات کے بارے میں اتنے فکرمند تھے کہ وہ حکومت کے پرتشدد کریک ڈاون کے دوران بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو نظر انداز کرنے کے لیے بھی تیار تھے۔
اس خطے کے دوسرے ممالک نے بھی اس راستے کو چنا جس میں سزا کو منشیات کا راستہ روکنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ 2016 میں روڈریگو ڈوئرٹے کے صدر منتخب ہونے کے بعد فلپائن میں بھی ایسی ہی مہم کا آغاز کیا گیا جب کہ سنگا پور اور ملائیشیا میں دہائیوں سے منشیات سمگلنگ پر موت کی سزا نافذ ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں سیاحت کی غرض سے آنے والوں کو کافی عرصے سے تنبیہ کی جاتی ہے کہ اگر ان سے منشیات کی چھوٹی سی مقدار بھی برآمد ہوئی تو سخت سزا کے لیے تیار رہیں۔
ایسے میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تھائی لینڈ میں پیش آنے والے واقعات کی حقیقیت کو تسلیم کرنا کچھ مشکل ہو جاتا ہے کیوں کہ اب یہاں پر کیفے اور سٹالز پر کھلے عام بھنگ سے تیار شدہ مصنوعات بیچی جا رہی ہیں۔
انوتن چرنویرا کول تھائی لینڈ کی حکومت کے وزیر ہیں اور وہی ایک نئی قانون سازی کے معمار بھی ہیں جس کے تحت دنیا بھر میں بھنگ سے متعلق نرم ترین پالیسی بنائی گئی ہے۔ تھائی لینڈ کے کسان، جن کو امید ہو چلی ہے کہ ان کی آمدنی میں اضافہ ہو گا، اس پالیسی اور انوتن چرنویرا کول کے گن گا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھیڑ عمر خواتین کے جتھوں کو بھنگ سے بنی مشروبات چکھتے اور حکومت کی جانب سے مفت فراہم کیے جانے والے پودوں کو حاصل کرنے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تھائی لینڈ کے نئے قانون کے تحت بھنگ کا پودہ اگانے اور استعمال کرنے پر کوئی پابندی نہیں لیکن اسے بیچنے کے بارے میں چند حدود کا تعین کیا گیا ہے۔
تھائی حکومت کی سوچ بدلنے میں مدد کرنے والے ٹام کریوسوپون کہتے ہیں کہ ’ایک بات تو واضح ہے کہ آپ صرف بھنگ کے استعمال پر جیل نہیں جائیں گے۔ ہاں، عوامی مقام پر سگریٹ پینے، جو دیگر لوگوں کے لیے نقصان دہ ہو، یا پھر بھنگ سے تیار شدہ ایسی مصنوعات بیچنے کی کوشش جن کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی سے منظوری نہیں لی گئی، جیسے کام پر سزا ہو سکتی ہے۔ لیکن تھائی لینڈ دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جہاں بھنگ اگانے یا استعمال کرنے پر کوئی سزا نہیں۔‘
راتاپون سنرک نے امریکہ میں دوران تعلیم بھنگ کے طبی فوائد کو خود جانچا اور اس کے بعد وہ بھی اس کے قانونی استعمال کی اجازت کے لیے مہم میں شامل ہو گئے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے لیے یہ سب ایک خواب جیسا ہے۔ ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہم تھائی لینڈ میں یہاں تک پہنچ جائیں گے۔‘
ان کے خاندان کے چار افراد کی موت کیسز سے ہوئی۔ دادا، دادی کے بعد والد اور پھر والدہ۔ جب وہ والدہ کا خیال رکھنے کے لیے امریکہ سے تھائی لینڈ لوٹے تو انھوں نے درد میں کمی کے لیے بھنگ سے تیار مصنوعات کے استعمال پر ان کو قائل کرنے کی کافی کوشش کی۔ لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کو یہ بھی علم ہوا کہ ایسی مصنوعات ناصرف غیر قانونی ہیں بلکہ ان تک رسائی بھی مشکل ہے۔
آخر ایسا کیا ہوا کہ فوجیوں کی رہنمائی میں چلنے والے ملک میں اتنی ڈرامائی تبدیلی آ گئی؟
اس کی وجوہات میں سیاست بھی شامل ہے۔ انوتن چرنویرا کول نے 2019 میں انتخابی مہم کے دوران بھنگ کی اجازت کی قانون سازی کو اپنی جماعت کی اہم پالیسی کے طور پر متعارف کروایا۔
ان کی جماعت کا گڑھ ملک کا غریب سمجھا جانے والے دیہی شمال مشرقی خطہ تھا اور اس پالیسی کا مقصد چاول اور گنا اگانے والے کسانوں کو ایک ایسی تیسری فصل فراہم کرنا تھا جس سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔
حال ہی میں انھوں نے اپنے آبائی حلقے بریرام میں اس نئے قانون کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا ہے۔ انوتن چرنویرا کول اس قانون سازی کے طبی فوائد بھی گنواتے ہیں۔ ان کو امید ہے کہ اب غریب تھائی لوگ مہنگی کیمیائی ادویات پر پیشے خرچ کرنے کی بجائے علاج کے لیے خود بھنگ اگا سکتے ہیں۔

سیاست کے علاوہ کاروبار نے بھی اس قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ٹام کریوسوپون کا اندازہ ہے کہ یہ کاروبار پہلے تین سال میں 10 ارب ڈالر کے حجم تک جا پہنچے گا لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ آئندہ برسوں میں اس کی وجہ سے سیاحت میں بھی اضافہ ہو گا کیوں کہ دنیا بھر سے لوگ بھنگ سے ہونے والے علاج کے لیے تھائی لینڈ آئیں گے۔
ٹام کریوسوپون نے بنکاک میں ایسے علاج کے لیے پہلا کلینک بھی کھول رکھا ہے اور متعدد بڑے کاروباری ادارے اب غور کر رہے ہیں کہ وہ کس طرح اس قانون سازی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
تھائی حکومت کو امید ہے کہ تیزی سے مکمل کی جانے والی قانون سازی سے خطے کے دیگر ممالک کو پیچھے چھوڑا جا سکتا ہے لیکن شاید ہر ملک اس راستے کو اپنانے میں دلچسپی بھی نہ رکھتا ہو۔
سیاست اور کاروبار سے ہٹ کر دیکھیں تو اس قانون سازی کے پیچھے ایک اور چیاز بھی کرفرما ہے اور وہ ہے منشیات کے استعمال کے بارے میں سوچ میں تبدیلی جس کا آغاز سات سال قبل حیران کن طور پر ایک ایسے وقت میں ہوا جب تھائی لینڈ میں فوجی حکومت قائم تھی۔
واضح رہے کہ تھائی لینڈ کی جیلوں کی آبادی دنیا بھر میں سے سے زیادہ ہے اور یہاں ایک تہائی قیدی منشیات کے کاروبار کی وجہ سے بند ہیں۔ ان میں سے کئی بہت کم عمر بھی ہیں۔ اسی وجہ سے ایک جانب تھائی لینڈ کو بین الاقوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور دوسری جانب ان جیلوں کو چلانے کے لیے خطیر رقم بھی خرچ کرنی پڑتی تھی۔
2016 میں فوجی حکومت کے وزیر انصاف جنرل پائیبون کمچایا نے اعلان کیا تھا کہ منشیات کے خلاف جنگ کی ناکامی کے بعد اب منشیات کی روک تھام کے لیے کسی نئے طریقے کی ضرورت ہے جس میں سزا کا عنصر کم ہو۔
اسی لیے انوتن چرنویرا نے جب معاشی فوائد سے بھرپور اپنی پالیسی پیش کی تو ان کو محسوس ہوا کہ وہ ایک ایسے دروازے پر دستک دے رہے ہیں جو پہلے ہی کسی حد تک کھلا ہوا تھا۔ اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ ان کو کافی محنت کرنی پڑی۔ اس قانون سازی کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ بھنگ کے مقدمات کی وجہ سے جیل جانے والے 4000 قیدی اب رہا ہو چکے ہیں۔
لیکن شاید تھائی حکومت اتنی شدت سے اس پالیسی پر عوامی ردعمل کا احساس تک نہیں تھا کیوں کہ اب بھنگ آئیس کریم سے لے کر نئے پکوانوں میں ہر جگہ نظر آ رہا ہے۔ مرغی کا ایسا گوشت بھی فروخت کیا جا رہا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کو بھنگ کھلائی جاتی تھی۔
تھائی حکومت اب بھنگ کے استعمال کے بارے میں قوائد و ضوابط طے کر رہی ہے۔ سرکاری سطح پر حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون نے صرف طبی مقاصد کے لئے بھنگ کے استعمال کی جازت دی ہے لیکن تفریحی مقاصد کے لیے اس کے استعمال کو روکنا اب مشکل ثابت ہو گا۔

بھنگ کی شوقین چڈچانوک چٹچوب، جن کے والد بریرام کی ایک قدآور سیاسی شخصیت ہیں، کہتی ہیں کہ ’سب جانتے ہیں کہ پیسہ تو بھنگ کے تفریحی استعمال میں ہی ہے۔ تو اگر ہم واقعی اس کو ایک معاشی فصل کے طور پر دیکھ رہے ہیں تو پھر میرے خیال میں یہ ایک پہلا اچھا قدم ثابت ہونا چاہیے۔‘
وہ اس وقت پودے کی مختلف اقسام کے تجربات کر رہی ہیں تاکہ مقامی کسانوں کو خطے کی مناسبت سے درست پودہ اگانے میں مدد کی جا سکے۔
ٹام کریوسوپون کا کہنا ہے کہ ان کو کسی قسم کی مذید قانون سازی سے کوئی پریشانی نہیں۔ وہ تجویز کرتے ہیں کہ صرف 18 سال سے بڑے عمر کے افراد کو لائسنس یافتہ دکانداروں سے لین دین کی اجازت دی جائے جس کے لیے نسخہ دکھانا ایک شرط ہو۔
’اس پر بہت زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ جو قانون سگریٹ کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہیں اس کے لیے بھی لاگو کریں۔ پہلے ہی سگریٹ نوشی اور شراب نوشی پر قابو پانے کے لیے قوانین موجود ہیں، انہی کو استعمال کریں۔‘
اگر تھائی حکومت کے اس قدم کو نئی دنیا کا ایک انتہائی غیر معمولی جرات مندانہ عمل قرار دیا جائے تو کچھ غلط نہیں ہو گا۔ لیکن خطے کے دوسرے ممالک اب غور سے دیکھیں گے کہ اس کا فائدہ بھی ہوتا ہے نہیں۔












