آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مزدوروں کا عالمی دن: گھریلو ملازمین کے ساتھ بدسلوکی سے لڑنے والے تارکین وطن
- مصنف, سوامی ناتھ نتارنجن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
دنیا بھر میں لاکھوں افراد مزدوروں کا عالمی دن منا رہے ہیں، جو کہ پچھلی دو صدیوں میں ہونے والی پیش رفت پر غور کرنے کا ایک موقع ہے۔
لیکن اب بھی بہت سے مزدور ایسے ہیں جن کے حقوق کا احترام نہیں کیا جاتا۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق، ایک خطہ جہاں تارکین وطن مزدوروں کے ساتھ برتاؤ پر اکثر تنقید کی جاتی ہے وہ مشرق وسطیٰ ہے، جہاں 2017 میں دو کروڑ تیس لاکھ غیر ملکی (زیادہ تر ایشیا اور افریقہ سے) کام کر رہے تھے۔
وہ جو کام کرتے ہیں وہ ان کے آبائی ممالک کی معیشتوں کے لیے اہم ہے۔ انھوں نے ورلڈ بینک کے مطابق 2020 میں 540 ارب ڈالر واپس بھیجے، جو کہ تمام کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو ملنے والی ترقیاتی امداد اور غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری سے زیادہ ہے۔
لیکن مزدوروں کے استحصال اور مصائب کی بہت سی کہانیاں ہیں جنہیں کم از کم اجرت، ملازمت کا تحفظ یا صحت کی سہولت حاصل نہیں اور وہ یونین بھی نہیں بنا سکتے۔
بی بی سی نے تین ایسے کارکنوں سے بات کی جنہوں نے متاثرین کی مدد اور زیادتیوں کو روکنے کے لیے اپنی تنظیمیں قائم کیں۔
’جیسے کوئی جرم کیے بغیر جیل جانا‘
بنچی یمر ایک ایتھوپیین ہیں جنھوں نے لبنان میں مہاجر کارکن کے طور پر سات سال گزارے۔ بعض اوقات ان کے پاس دستاویزات بھی نہیں تھیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کفالہ نظام کے تحت گھریلو ملازم ہونا کسی جرم کے ارتکاب کیے بغیر جیل جانے کے مترادف ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’مجھے ایک گھر میں کام پر رکھا گیا تھا لیکن مجھے ان کے رشتہ داروں کے گھروں اور ان کے چھٹی والے گھروں میں کھانا پکانے اور صاف کرنے کے لیے کہا گیا۔‘
وہ اکثر دن میں 18 گھنٹے کام کرتی تھی۔ انھیں متعدد مرتبہ جنسی دست درازی کو روکنا پڑا اور بنیادی سہولیات کے بغیر زندگی گزارنی پڑی۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے سردیوں میں ہیٹر یا گرمیوں میں ایئر کنڈیشننگ کے استعمال کی اجازت نہیں تھی ۔ مجھے اپنے آپ کو صاف رکھنے کے لیے پانی بھی نہیں دیا جاتا۔‘
’ایک جنہم تھی۔ میں اپنے کاغذات اپنے آجروں کے پاس چھوڑ کر گھر سے بھاگ گئی۔‘
بنچی جانتی تھی کہ استحصال کے چکر سے بچنے کے لیے اسے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، اور اس نے انگریزی کی کلاسیں لینا شروع کر دیں۔
وہاں انھوں نے اپنے جیسے بہت سے کارکنوں سے ملاقات کی، اور فوری طور پر انہیں منظم کرنے کا سوچا۔ انھوں نے 2017 میں اپنی تنظیم ’ایک عجیب ملک میں تارکین وطن‘ شروع کی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم خواتین کے لیے ایک محفوظ جگہ بنانا چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی ایسے مسئلے پر بات کر سکیں جو ان کے لیے اہم ہو۔‘
ابتدائی طور پر تقریباً 70 خواتین نے اس تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور ہر ماہ 5 ڈالر اور 10 ڈالر کے درمیان ادائیگی کی۔ بنچی نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اپنی زیادہ تر تنخواہیں ادا کیں، جیسا کہ اس نے کیا تھا۔ اراکین نے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے کافی، کھانا، مصالحے فروخت کیے اور ثقافتی تقریبات کا انعقاد کیا۔
’ہم نے رقم کا استعمال جنسی زیادتی کا شکار خواتین کو ایتھوپیا واپس بھیجنے کے لیے کیا۔ کسی خاتون کو واپس بھیجنے کے لیے ٹکٹ کے لیے تین سو ڈالر سے چار سو ڈالر درکار ہوتے تھے۔‘
2018 میں، بنچی کی این جی او نے 25 خواتین کو واپس بھیجا، جن میں سے ایک شدید جھلسنے والے زخموں کا شکار تھی۔ 2019 میں وہ کینیڈا چلی گئیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں کینیڈا میں ساڑھے تین لاکھ ڈالر سے زیادہ اکٹھا کرنے میں کامیاب رہیں، جس نے 700 سے زیادہ ایتھوپیائی اور غیر ایتھوپیائی کارکنوں کو واپس جانے میں مدد کی۔‘
بنچی بدسلوکی کرنے والے آجروں کے خلاف قانونی پابندیاں نہ ہونے پر مایوس ہیں۔
’زیادہ تر افریقی سفارت خانے اپنے کارکنوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ جب ہم شکایت کرتے ہیں تو بھی وہ مدد نہیں کرتے۔ جب ہم پولیس سے شکایت کرتے ہیں تو بعض اوقات وہ خاتون کو اسپانسر کے گھر واپس بھیج دیتے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ چند پولیس افسران آجر کو خبردار بھی کرتے ہیں، جس سے ان مسائل کو حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے کہا ’میں نے کوئی ایسا کیس نہیں دیکھا جس میں کسی اسپانسر کو گرفتار کیا گیا ہو، یہاں تک کہ مہاجر کارکنوں کی عصمت دری جیسے سنگین جرائم کے لیے بھی نہیں۔‘
'مجھے جنسی ہراسانی کے خلاف لڑنے پر قید کیا گیا'
بہت سے فلپائنیی شہریوں کی طرح، کویت میں فلپائنی گھریلو ملازمہ این ابوندا نے 2000 میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک ایجنٹ کی مدد لی۔ تین ہفتوں کے اندر وہ کویت میں تھیں اور ہر طرح کی گھریلو سرگرمیاں جیسے کھانا پکانا، صفائی، لانڈری، پلمبنگ، لائٹس ٹھیک کرنا ان کی ذمہ داریوں میں شامل تھیں۔
ان سے 450 ڈالر ماہانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن 200 ڈالر دیئے گئے۔ گھریلو ملازمہ کے طور پر وہ اپنے آجر کے گھر ٹھہری تھی۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ مجھے بچی ہوئی اور نا کافی خوارک دیتے تھے۔ میں نے کھانا چوری کرنا شروع کر دیا۔ جب انھوں نے مجھ پکڑ لیا تو میں نے کہا کہ ان کو مجھے صحیح طریقے سے کھانا نہ کھلانے پر شرم آنی چاہیے۔‘
یہ بہت سے جھگڑوں میں سے پہلا تھا۔ این کو موبائل فون استعمال کرنے پر مارا پیٹا بھی گیا۔ انھوں نے اپنے ایجنٹ کو کام کرنے کے لیے ایک نئی جگہ تلاش کرنے کے لیے کہا، لیکن جلد ہی وہاں چیزوں کو بہتر نہیں پایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے آجر نے مجھے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ میں نے اسے شیشے کی بوتل سے مار کر زخمی کر دیا۔‘
اس جرم میں ان کو دو ماہ قید کی سزا ہوئی۔ رہائی کے بعد انھوں نے گھریلو کام کرنے سے انکار کر دیا اور سیلز کی نوکری ڈھونڈ لی۔
2008 میں، این نے فلپائن کے بہت سے گھریلو ملازمین سے تقریبات میں ملاقات کی اور ان کی بدسلوکی، حتیٰ کہ عصمت دری کی کہانیاں سننا شروع کر دیں۔
’میں نے ان کی کہانیاں مرتب کیں اور انہیں اپنے سفارت خانے کو دیا، لیکن کچھ نہیں ہوا۔‘
2010 میں عالمی اقتصادی بحران نے تارکین وطن کارکنوں کو شدید متاثر کیا۔ اہلکار غیر دستاویزی تارکین وطن کو پکڑنے اور ملک بدر کرنے کے لیے سڑکوں پر تلاش کر رہے تھے۔
مشرق وسطیٰ کے بہت سے ممالک میں روزگار کو روایتی طور پر کسی خاص آجر سے جوڑ دیا گیا ہے۔ کفالہ یا کفالت اسکیم کے تحت ایک آجر کارکن کا پاسپورٹ رکھ سکتا ہے۔ اگر کارکن رضامندی کے بغیر ملازمت چھوڑ دیتا ہے تو وہ قانونی طور پر مزید کام نہیں کر سکتا۔ یہ عمل بہت متنازعہ ہے اور کچھ ممالک نے مزید لچک کی اجازت دیتے ہوئے نظام میں اصلاحات کی ہیں۔
این یاد کہتی ہیں ’اس دوران کچھ خواتین کی عصمت دری بھی کی گئی۔ چونکہ ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی، اس لیے وہ شکایت یا کوئی مدد نہیں لے سکتی تھیں۔‘
فلپائنی سفارت خانے نے این کو بتایا کہ ان کے پاس ہزاروں لوگوں کی مدد کرنے کے وسائل نہیں ہیں۔ لیکن وہ کچھ کرنے کے لیے پرعزم تھی اور اس نے سینڈیگن کویت کی بنیاد رکھی، جس کا مطلب ان کی زبان میں ’سیکھنے کے لیے کچھ‘ ہے۔
انھوں نے مصیبت میں گھرے ملازمین کے لیے ایک ہیلپ لائن شروع کی۔ تنظیم کے رضاکاروں نے ان خواتین کی رہنمائی کرنا شروع کی جو اپنے آجروں سے فرار ہونا چاہتی تھیں اور سفارت خانے سے سفری دستاویزات حاصل کرنے میں ان کی مدد کی۔
انھوں نے حساب لگاتے ہوئے بتایا کہ ’پہلے تین سالوں کے دوران، روزانہ تقریباً تین خواتین کو بچایا۔‘
سینڈیگن کو اب بھی فلپائن کے گھریلو ملازمین چلاتے ہیں، لیکن دوسرے ممالک کے لوگوں کی مدد کے لیے اس میں توسیع ہوئی ہے۔
این نے محسوس کیا کہ گھریلو ملازمین کے کام کے حالات کو منظم کرنے کے لیے قانون سازی کا فقدان بنیادی مسئلہ تھا۔ اس نے مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ آخر کار کویت نے 2015 میں گھریلو ملازمین کا قانون نافذ کیا۔
این نے کویتی شہزادی بی بی ناصر الصباح کے ساتھ بھی کام کیا، جو ایک این جی او کی سربراہ ہیں۔ انھوں نے این کی اہم عہدیداروں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی۔
اب وہ کویت میں بین الاقوامی عطیہ دہندگان اور مذہبی اداروں سے پھنسے ہوئے کارکنوں کو وطن واپس بھیجنے اور کسی بھی قانونی کارروائی میں مدد کرنے کے قابل ہیں۔
این خوش ہیں کہ انھوں نے کچھ پیش رفت دیکھی ہے لیکن وہ تسلیم کرتی ہیں کہ انصاف حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔
’ہم کچھ بدسلوکی کرنے والوں کو عدالت لے گئے ہیں، لیکن 10 میں سے صرف ایک کیس میں ہمارے حق میں فیصلہ آیا ہے۔‘
سعودی عرب میں کام کرنے والے ایک نیپالی مہندر پانڈے نے کہا کہ 'کچھ لاپتہ جیلوں میں تھے، لیکن کچھ مر چکے تھے۔‘
مہندر پانڈے بڑی امیدیں لے کر نیپال سے سعودی عرب گئے تھے۔ انھوں نے ایک ایجنٹ کو ادا کرنے کے لیے پانچ سو ڈالر سے زیادہ ادھار لیا تھا جس نے کام کی ضمانت دی تھی اور اچھی تنخواہ کا وعدہ کیا تھا۔
لیکن سعودی عرب پہنچنے کے بعد مہندرا کو معلوم ہوا کہ لمبی شفٹوں میں ماہانہ صرف 200 ڈالر ادا کیے جاتے ہیں، اور اس خوف سے کہ وہ قرض واپس نہیں کر پائے گا، اس نے رات کو تعمیراتی مزدور کے طور پر دوسری نوکری شروع کر دی۔.
تین سال تک رات میں صرف تین گھنٹے تک سونے کے بعد، مہندرا 2009 میں تھکے ہارے اور غصے میں بھرے نیپال واپس پہنچے۔
مہندر کہتے ہیں، ’میں کسی کو بھی سعودی عرب جانے سے روکنا چاہتا ہوں۔ لیکن نیپال میں بیرون ملک کام کے لیے بھیجی جانے والی ترسیلات ناقابل یقین حد تک اہم ہیں، جو کہ ورلڈ بینک کے مطابق 2020 میں ملک کی جی ڈی پی کا 24 فیصد ہے۔‘
مشرق وسطیٰ سے واپس آنے والے بہت سے کارکنان نے مل کر ایک تنظیم، پراواسی (بیرون ملک) نیپالی رابطہ کمیٹی کے ذریعے اپنے تجربات شیئر کیے۔
مہندر کہتے ہیں، ’اس وقت یہ تاثر تھا کہ ایک بار آپ خلیج چلے جائیں تو آپ جلدی امیر ہو سکتے ہیں، ایک بڑا ٹی وی خرید سکتے ہیں۔ میں اس بیانیے کو بدلنا چاہتا تھا۔‘
مہندرا نے سعودی عرب میں مذہبی آزادی کی کمی اور آزادی اظہار پر پابندی کے بارے میں بات کی۔ انھوں نے یہ بھی بے نقاب کرنا شروع کیا کہ کس طرح ریکروٹمنٹ ایجنٹ ملازمین کو تنخواہوں کے بارے میں گمراہ کرتے ہیں۔
اس کے بعد انھوں نے ان لوگوں کا سراغ لگانا شروع کیا جو مشرق وسطیٰ میں کام کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔
’کاغذ پر حقوق ہیں‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’کچھ خاندان کے افراد یہ بھی نہیں جانتے کہ اگر انھیں اپنے پیاروں کی کوئی خبر نہ ملے تو مدد کیسے حاصل کی جائے۔ بہت سے لوگوں کے رشتہ دار ناخواندہ ہوتے ہیں۔‘
مہندرا کو معلوم ہوا کہ کچھ لاپتہ لوگ جیل میں تھے، لیکن کئی مر چکے تھے اور ان کی لاشیں لاوارث ہیں۔
’ہم نے مردہ کارکنوں کی لاشیں واپس لانے میں رشتہ داروں کی مدد کرنا شروع کردی۔ اس میں سفارت خانوں اور کمپنیوں کے ساتھ کافی کاغذی کارروائی ہوتی ہے۔‘
اس نے تین کارکنوں کو ’بلڈ منی‘ دے کر سزائے موت سے بھی بچایا۔
’ہم نے قتل ہونے والے شخص کے خاندان کو معافی حاصل کرنے کے لیے رقم ادا کی۔ یہ واحد قانونی آپشن ہے۔ پہلی صورت میں ہم نے 2012 میں 20,000 ڈالر اکٹھے کیے تھے۔‘
2014 میں امریکہ منتقل ہونے کے بعد انھوں نے ایک این جی او، ہیومینٹی یونائیٹڈ میں شمولیت اختیار کی، اور کم تنخواہ والے تارکین وطن کارکنوں کے فائدے کے لیے کام کرنا شروع کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کاغذ پر حقوق ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ تارکین وطن کارکنوں کے پاس کوئی امدادی طریقہ کار نہیں ہے۔‘
وہ جب بھی قطر میں چمکتے دمکتے اسٹیڈیم کی تصاویر دیکھتا ہے، جو اس سال کے آخر میں فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا تو انھیں بے شمار مزدوروں کی کہانیاں یاد آ جاتی ہیں۔
’ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ اسٹیڈیم بنانے میں 6500 کارکن مارے گئے۔ اگر وہ نیویارک، لندن یا سڈنی سے ہوتے تو ان کے ممالک کا کیا ردعمل ہوتا؟ ہمارے لیڈر اس بارے میں کیوں نہیں بول سکتے؟‘
مہندرا کا کہنا ہے کہ بہت سے کارکن غربت کی وجہ سے خطرناک دستی کام کے خطرات کو نظر انداز کرنے پر مجبور ہیں، جیسا کہ انھوں نے کیا تھا، اور وہ سیمینارز اور ورکشاپس میں تارکین وطن کارکنوں میں بیداری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مہاجر مزدور ہی اصل ہیرو ہیں، پھر بھی انہیں بھلا دیا جاتا ہے اور پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ ان کے پاس طاقت نہیں ہے، اس لیے میرا کام ان کی آواز کو بڑھانا ہے۔‘