پراسرار کومی جیل جو کبھی دنیا کی واحد 'ہم جنس پرستوں کی جیل' تھی

کومی جیل

،تصویر کا ذریعہTHE GREATEST MENACE

،تصویر کا کیپشنکومی جیل کو کبھی صرف ہم جنس پرست مردوں کو قید کرنے کے لیے استعمال کیا گیا
    • مصنف, گیری نن
    • عہدہ, ‎سڈنی

آسٹریلیا کے سب سے سرد چھوٹے شہروں میں سے ایک میں موجود کوما جیل میں کئی راز پوشیدہ ہے۔

اسے سنہ 1957 میں نہ صرف 'ہم جنس پرست جرائم' کے لیے مردوں کو قید کرنے کے مخصوص مقصد کے لیے دوبارہ کھولا گیا تھا بلکہ اسے معاشرے سے ہم جنس پرستی کے خاتمے کے حتمی مقصد کے لیے انسانی تجربے کے میدان کے طور پر بھی استعمال کیا گیا تھا۔

ایک نئے پوڈ کاسٹ کے مطابق کوما کی جیل کو دنیا کی واحد معروف ہم جنس پرست جیل سمجھا جاتا ہے۔

یہاں تک کہ جیل کے کچھ عملے کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ہم جنس پرست قیدیوں کو وہاں الگ کرنے کی اصل وجہ کیا تھی۔

66 سالہ لیس سٹرزلیکی نے سنہ 1979 میں جیل میں ایک حراستی خدمات کے افسر کے طور پر اپنے کریئر کی شروعات کی اور بعد میں انھوں نے کوما میں اصلاحی خدمات کا میوزیم قائم کیا۔ ان کا خیال ہے کہ وہاں قیدیوں کو ان کی اپنی حفاظت کے لیے بھیجا جاتا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'کوما ایک حفاظتی ادارہ تھا۔ ہم جنس پرست قیدیوں پر ہم 'N/A' والی سرخ مہر لگا دیتے تھی یعنی ایسا شخص جسے مرکزی دھارے کی جیلوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ انھیں لانگ بے [سڈنی میں] جیسی بڑی جیلوں میں تشدد کا خطرہ تھا۔'

لیکن جیل کے ایک اور سابق ملازم کلف نیو کا دعویٰ ہے کہ یہ کم ہمدردانہ وجوہات کی بنا پر تھا۔ انھوں نے پوڈ کاسٹ سیریز دی 'گریٹسٹ مینیس' کو بتایا کہ سنہ 1957 میں جیل کے دوبارہ کھلنے کے بعد سائیکولوجسٹ اور سائکیئٹرسٹ یعن ماہر نفسیات وہاں 'ہر وقت آتے رہتے تھے۔'

لیس سٹرزلیکی

،تصویر کا ذریعہTHOMAS MCCOY

،تصویر کا کیپشن66 سالہ لیس سٹرزلیکی (بائيں) نے بعد میں کوما میں اصلاحی خدمات کا میوزیم قائم کیا

ان کے خیال میں یہ ان کو تبدیل کرنے کی کوششیں تھیں۔ 'وہ انہیں 'صحیح' راستے پر لانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ان کا علاج کر سکتے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ یہی وجہ تھی کہ ان قیدیوں کو سنگل سیلوں میں رکھا جاتا تھا۔ 'آپ دو کو ایک ساتھ نہیں رکھ سکتے تھے۔۔۔' مسٹر نیو اب 94 سال کے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان پر نظر رکھنا ہمارے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک تھا۔

تاریخی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر انصاف ریگ ڈاؤننگ کے سر اس جیل کے قیام کا سہرا جاتا ہے۔

انھوں نے مبینہ طور پر اپنے پسندیدہ منصوبے پر 'فخر' کا اظہار کرتے ہوئے سنہ 1957 میں سڈنی مارننگ ہیرالڈ کو بتایا: 'مجھے یورپ یا امریکہ میں کہیں بھی ایسی جیل نہیں ملی جہاں ہم جنس پرستوں کو دوسرے قیدیوں سے الگ رکھا گیا ہو۔'

یہ بھی پڑھیے

مسٹر ڈاؤننگ کی طرف سے سنہ 1958 کے ایک پریس بیان ملتا ہے جس میں کوما جیل کو اس وقت کی معلومات کے مطابق 'دنیا کا واحد تعزیری ادارہ' کہا گیا جو 'خاص طور پر ہم جنس پرست مجرموں کے لیے وقف' تھا۔

کوما میں قیدیوں کو ہم جنس پرست ہونے، یا ہم جنس پرست ہونے سے متعلق جرائم کی وجہ سے قید کیا جاتا تھا کیونکہ نیو ساؤتھ ویلز میں سنہ 1984 تک ہم جنس پرستی کو جرم کی فہرست سے نہیں نکالا گیا تھا۔

ریگ ڈاؤننگ

،تصویر کا ذریعہSTATE LIBRARY OF NSW

،تصویر کا کیپشنریگ ڈاؤننگ

1955 کے نئے سخت ریاستی قوانین نے ہم جنس پرستی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا۔ ان پر ریاست کے پولیس کمشنر کولن ڈیلانی کی جانب سے دباؤ تھا۔ اس وقت کے اٹارنی جنرل کے مطابق پولیس کمشنٹر کا خیال تھا کہ 'اس برائی سے نمٹنے کے لیے اصلاحی قانون سازی کی فوری ضرورت ہے۔'

تاریخ دان گیری وودرسپون بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ 'نئی شقوں میں 'جنسی فعل کے لیے منت سماجت کرنا' شامل تھا اور ایک آدمی کو محض دوسرے آدمی سے بات کرنے پر گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ قانون میں یہ تبدیلیاں ان مردوں کی شہری آزادیوں پر حملے کے معاملے میں بہت وسیع تھیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ ہم جنس پرست خواہشات رکھتے ہیں۔'

لونڈے بازی کے جرم کی سزا 14 سال قید تھی۔ لونڈے بازی کی کوشش کے لیے پانچ سال تک کی سزا ہو سکتی تھی جبکہ سخت داروگیر کے طور پر اس میں 'کسی شخص کی رضامندی کے ساتھ یا اس کے بغیر' والی ایک شق شامل کر دی گئی تھی۔

مسٹر وودرسپون اور پوڈ کاسٹ دونوں نے مردوں کو ہم جنس پرستی پر اکسانے کے لیے پولیس کو 'اشتعال دلانے والے محرک' کے طور پر کام کرنے والا بتایا ہے اور شواہد بھی فراہم کیے ہیں۔

مسٹر وودرسپون کا دعویٰ ہے کہ 'وہ ہم جنس پرستوں کو پکڑنے کے لیے، عام طور پر عوامی بیت الخلا میں پرکشش پولیس اہلکاروں کا استعمال کرتے تھے۔'

سنہ 1958 میں نیو ساؤتھ ویلز کی حکومت نے 'ہم جنس پرستی کی وجہ اور علاج' کے بارے میں تحقیقاتی کمیٹی کا اعلان کیا۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس میں 'طب، نفسیات، قلمیات اور سماجی اور اخلاقی بہبود کے شعبوں کے ماہرین شامل ہوں گے۔'

انھوں نے اس میں دو مذہبی شخصیت، دو سینیئر پینل سسٹم سٹاف اور سڈنی یونیورسٹی کے دو ماہرین تعلیم شامل کیا تھا۔

اس نے کوما جیل کا نام 'سزا یافتہ ہم جنس پرست مجرموں کے لیے ایک خصوصی ادارہ' رکھا جو کہ اس کے متعلق 'تفتیش کو آسان بنائے گا۔'

مسٹر ڈاؤننگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک بار 'مسائل کی سائنسی تشخیص اور ممکنہ حل' مل جانے کے بعد 'حکومت سمجھتی ہے کہ اس مسئلے پر بھرپور طریقے سے حملہ کیا جانا چاہیے۔'

پوڈکاسٹ کا خالق اور صحافی پیٹرک اباؤڈ نے کہا: 'ہم جانتے ہیں کہ ماہر نفسیات نے ایسے سوالات پوچھے کہ 'کیا آپ کی والدہ کا آپ پر بہت زیادہ اختیار آپ کے لیے دوسری خواتین کی ناپسندیدگی کا سبب بنا؟' پیٹرک اباؤڈ کہتے ہیں نے جیل پر تحقیق کرنے میں برسوں گزارے ہیں، اور انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ 'حد سے زیادہ ماں بننا ہم جنس پرستی کی ایک بڑی وجہ تھی۔'

وہ کہتے ہیں: 'ہم جانتے ہیں کہ وہ ہم جنس پرستی کو ختم کرنے کے اپنے مشن میں ناکام رہے کیونکہ ہمارے پوڈ کاسٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ہم جنس پرست مردوں کے جیل میں تعلقات جاری ہیں۔ کچھ نے اپنے بوائے فرینڈز کے ساتھ پھر سے جیل میں رہنے کے لیے دوبارہ جرم کیے۔'

مسٹر اباؤڈ کے مطابق جیل کے متعلق پراسرار رپورٹ کبھی نہیں ملی اور ان کے خیال میں یہ 'چھپانے' کے مترادف ہے۔

کوما سات ہزار افراد پر مشتمل شہر ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکوما سات ہزار افراد پر مشتمل شہر ہے

مسٹر وودرسپون اس سے متفق ہیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ اب کب سے ہم جنس پرست قیدیوں کو کوما میں نہیں بھیجا جا رہا ہے۔ مسٹر وودرسپون کا کہنا ہے کہ 'بہت سارے محفوظ شدہ دستاویزات کو ہٹا دیا گیا یا تباہ کر دیا گیا۔'

نیو ساؤتھ ویلز کی اصلاحی خدمات اور این ایس ڈبلیو کی ڈیپارٹمنٹ آف کمیونٹیز اینڈ جسٹس نے 'تاریخی نوعیت' کا حوالہ دیتے ہوئے ان الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

مسٹر اباؤڈ کا خیال ہے کہ ہم جنس پرستوں کو 1980 کی دہائی کے اوائل تک وہاں بھیجا جاتا رہا ہو گا۔ سنہ 1982 میں اصلاحی خدمات کے وزیر کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ پالیسی اس وقت بھی قائم تھی۔

مسٹر اباؤڈ کہتے ہیں کہ جنسی مجرموں کو بھی کوما بھیجا گیا اور اس سے ہم جنس پرست قیدیوں کو مزید بدنام کیا گیا۔

مسٹر وودرسپون کا کہنا ہے کہ مذہبی امتیازی بل کی حالیہ پارلیمانی بحث کے دوران جنسی رجحان کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی اجازت دینے کی دھمکی دی گئی ہے اور یہ چیزیں ایک سنجیدہ انتباہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل چوکسی ضروری ہے کہ کہیں ہم پرانے زمانے میں نہ چلے جائیں۔'