فلائٹ ایم یو 5735: چائنا ایسٹرن ایئر لائنز کو پیش آنے والے حادثے میں تمام 132 افراد کی ہلاکت کی تصدیق

چینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پیر کو صوبہ گوانگشی میں گر کر تباہ ہونے والے مسافر طیارے میں طیارے کے عملے سمیت سوار تمام 132 مسافر ہلاک ہو گئے ہیں۔

گذشتہ پیر کو چین کی فضائی کمپنی چائنا ایسٹرن ایئرلائنز کا یہ مسافر طیارہ صوبہ گوانگشی میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

ایم یو 5735 نامی اس پرواز نے کونمینگ سے مقامی وقت کے مطابق ایک بج کر 11 منٹ پر اڑان بھری تھی اور اس نے تین بج کر پانچ منٹ پر گوانگزو پہنچنا تھا۔

چین کے سول ایوی ایشن کے ادارے (سی اے اے) کے مطابق اس بوئنگ 737-800 طیارے پر 123 مسافر اور عملے کے نو افراد سوار تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے پر ’حیرانی‘ ظاہر کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

ایوی ایشن حکام کے مطابق امدادی ٹیموں نے ڈی این اے کی جانچ کے ذریعے ہلاک ہونے والے 120 افراد کی شناخت کر لی ہے تاہم دوسرے بلیک باکس کی تلاش ابھی تک جاری ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جہاز کا پہلا بلیک باکس بدھ کے روز ملا تھا جسے جانچ کے لیے بیجنگ بھیج دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں ویڈیوز میں حادثے کے مقام پر طیارے کا ملبہ اور دھواں اٹھتے دیکھا گیا۔ چین کے سرکاری میڈیا نے بھی بعض ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی ہیں۔

فلائٹ ٹریکنگ کرنے والی ویب سائٹس کا کہنا ہے کہ اس طیارے نے قریب ایک گھنٹے تک پرواز جاری رکھی تھی۔ فلائٹ ریڈار 23 کی معلومات کے مطابق پرواز سے متعلق مقامی وقت دو بج کر 22 منٹ پر آخری ڈیٹا موصول ہوا اور اس وقت یہ طیارہ 3225 فٹ کی بلندی پر تھا۔

اطلاعات کے تحت یہ طیارہ وازو شہر کی ٹینگ کاؤنٹی میں گِرا۔ جنوبی صوبہ گوانگشی جنوب مشرق میں واقع بڑے شہر گوانگزو کے قریب واقع ہے۔

ایئر سیفٹی کے حوالے سے چین کا ریکارڈ خاصا بہتر ہے اور چین میں آخری بڑا فضائی حادثہ اگست 2010 میں ہوا تھا جب ہاربن سے اڑنے والا ایک طیارہ یچون میں گر کر تباہ ہوا تھا اور اس حادثے میں 42 افراد مارے گئے تھے۔

چائنا ایسٹرن ایئر لائنز چین کی تین بڑی سرکاری فضائی کمپنیوں میں سے ایک ہے جبکہ باقی دو چائنا ساؤتھرن اور ایئر چائنا ہیں۔

ٹریکر ویب سائٹس کے مطابق یہ بوئنگ 737-800 طیارہ سات سال پرانا تھا اور بوئنگ 737 میکس لائن کے بعد آنے والا ماڈل ہے۔

بوئنگ 737 میکس لائن وہ طیارہ ہے جو 2018 میں انڈونیشیا اور 2019 میں ایتھوپیا کے فضائی حادثوں میں ملوث تھا۔ چین نے ان حادثات کے بعد اس ماڈل کے طیارے پر پابندی لگا دی تھی۔