ریان: مراکش میں چار روز سے ایک کنویں میں پھنسے بچے کی افسوس ناک موت

مراکش

،تصویر کا ذریعہAFP

مراکش میں ایک کنویں میں گذشتہ چار روز سے پھنسا ہوا ایک پانچ سالہ بچہ امدادی حکام کی بہترین کوششوں کے باوجود ہلاک ہوگیا ہے۔

ایک شاہی بیان میں اس بچے کے نکالے جانے کے بعد جلد ہی اس کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے۔

ریان نامی اس بچے کو کنویں سے نکالنے کی کوششوں پر ملک بھر کی توجہ مرکوز تھی، اور سینکڑوں لوگ اس کنویں پر پہنچ گئے تھے اور ہزاروں لوگ انٹرنیٹ پر اس حوالے سے لمحہ بہ لمحہ خبریں پڑھ رہے تھے۔

یہ بچہ کنویں کے ایک تنگ سے سراغ سے 32 میٹر (104 فٹ) نیچے جا گرا تھا اور اس کو نکالنے کی کوششیں لینڈ سلائڈنگ کے امکان کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہی تھیں۔

آخرکار ریسکیو حکام بچے کو سنیچر کی شام نکالنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

اس وقت بچے کی حالت کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئی تھی اور بظاہر اس ریسکیو کو وہاں موجود ہجوم نے سراہا تھا۔

People watch as Moroccan emergency services teams work on the rescue of five-year-old boy Rayan from a well shaft he fell into

،تصویر کا ذریعہAFP

ملک بھر میں سوشل میڈیا پر لوگوں نے #SaveRayan کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا تھا۔

تاہم یہ خوشی شدید افسوس میں بدل گئی جب چند منٹ بعد ہی یہ بیان سامنے آیا کہ ریان چل بسا تھا۔

اسی ہیش ٹیگ کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں نے تعزیتی پیغام بھی شیئر کیے۔

شاہی محل سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘اس افسوس ناک واقعے کے بعد جس میں ریان اورام نامی بچے کی موت واقع ہوئی، بادشاہ محمد ہشتم نے کنویں میں گر جانے والے بچے کے والدین کو فون کیا تھا۔‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ بادشاہ نے بچے کے والدین سے اظہارِ افسوس کیا۔

Graphic shows the depth of the well
Short presentational transparent line

جب یہ حادثہ پیش آیا تو اس وقت ریان کے والد اس کنویں کی مرمت کا کام کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے بیٹے پر سے ایک لمحے کے لیے نظر ہٹائی اور اسی لمحے وہ کنویں میں جا گرا۔

ملک کے شمال میں واقعہ تاموروت کے چھوٹے سے قصبے میں مراکش کی سول پروٹیکشن ڈائریکٹوریٹ کی سربراہی میں امدادی کارروائیوں منگل کے روز شروع ہوئی تھیں۔

جمعرات کو کنویں میں اتارے گئے ایک کیمرے کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا تھا کہ بچہ زندہ تھا اور ہوش میں تھا مگر اس کے بعد سے اس بچے کی حالت کے بارے میں کوئی خبر نہیں دی گئی۔

ریسکیو حکام نے بچے کو خوراک، پانی اور اکسیجن پہنچانے کی کوشش کی تھی مگر یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اسے استعمال کر سکا تھا کہ نہیں۔

وہاں پر موجود ریتیلی مٹی اور بڑے پتھروں کی وجہ سے ریسکیو حکام اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ پانی کے اس کنویں کو اگر چوڑا کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔

اس کے بجائے کنویں کے ساتھ ہی بلڈوزروں کی مدد سے ایک بڑا گڑھا کھودا گیا تھا۔

بچے کی سطح پر پہنچنے کے بعد ریسکیو حکام نے بچے تک پہنچنے کے لیے ساتھ سے کھدائی شروع کی۔ کچھ لوگ ساری ساری رات کام کرتے رہے تھے۔

اس آپریشن کو دیکھنے کے لیے سینکڑوں لوگ جمع ہوگئے تھے اور وہ وہاں پر دعائیں پڑھ رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے تو اسی مقام پر راتیں بھی گزاریں۔

یہ واقعے 2019 کے ایک واقعے کی یاد دلاتا ہے جہاں ملاگا شہر میں ایک دو سالہ لڑکا ایک اور کنویں میں گر کر ہلاک ہو گیا تھا۔