متحدہ عرب امارات میں حوثی باغیوں کا میزائل حملہ: ’حوثی باغیوں نے ابوظہبی میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا تھا‘

،تصویر کا ذریعہUS Air Force Photo
متحدہ عرب امارات اور امریکی حکام نے بتایا ہے کہ پیر کو حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والا میزائل حملہ ریاست کے دارالخلافہ ابو ظہبی میں واقع ’الظفرہ‘ فوجی اڈے پر کیا گیا تھا جہاں تقریباً دو ہزار امریکی اہلکار تعینات ہیں اور اس حملے کو روکنے کے لیے اماراتی افواج کی کارروائی کے علاوہ امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل بھی استعمال کیے گئے۔
یو ایس سینٹرل کمانڈ کے مرکزی ترجمان کیپٹن بل اربن نے اس بارے میں کہا کہ الظفرہ فوجی اڈے پر داغے گئے دو میزائلوں کے جواب میں امریکی افواج نے متعدد پیٹریاٹ میزائل چلائے اور اس کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی افواج نے بھی اپنی کارروائی کی۔
امریکی اور اماراتی حکام کے مطابق پیر کو ہونے والے حوثی باغیوں کے حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
حوثی باغیوں کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر میزائل داغنے کا واقعہ پیر کی صبح پیش آیا تھا جس کے بعد اماراتی وزارتِ دفاع نے پہلے ایک بیان میں داغے گئے میزائلوں کو تباہ کرنے کا اعلان کیا اور پھر ٹوئٹر پر ایک پیغام میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ یمن کے الجواف نامی صوبے میں نصب بیلسٹک میزائل لانچر کو حملے کے فوراً بعد کارروائی کرتے ہوئے تباہ کر دیا گیا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق اس جوابی کارروائی میں ایک ایف سولہ جنگی طیارے نے حصہ لیا۔ وزارت کی جانب سے اس حملے کی فوٹیج بھی جاری کی گئی ہے۔
متحدہ عرب امارت حوثی باغیوں کے خلاف جنگ کے لیے سعودی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد کا حصہ ہے اور یہ چند دن کے دوران دوسرا واقعہ ہے جب حوثی باغیوں نے امارات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
ان تازہ میزائلوں کا ہدف بھی ابوظہبی کی ریاست ہی تھی جہاں کی بندرگاہ پر 17 جنوری کو ہونے والے ڈرون حملوں میں ایک پاکستانی سمیت تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس حملے کے بعد حوثی باغیوں کے ترجمان کی جانب سے تنبیہ کی گئی تھی کہ مستقبل میں متحدہ عرب امارات پر مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
لگاتار دوسرے ہفتے ہونے والے اس حملے سے خطے میں حالات میں سنگینی بڑھ گئی ہے جہاں سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف گذشتہ کئی سالوں سے جنگ کر رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات اس فوجی اتحاد کا حصہ ہے تاہم ماضی میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے صرف سعودی عرب پر حملوں کی کوشش کی ہے اور بہت شاذ و نادر ہی متحدہ عرب امارات پر کسی قسم کے حملے کیے گئے ہیں، جس کا شمار مشرق وسطیٰ کی سب سے پُرامن اور محفوظ ریاستوں میں ہوتا ہے۔
حوثی باغیوں کے فوجی ترجمان نے فوجی اڈے پر کیے گئے حملے کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’الذوالفقار‘ بلیسٹک میزائل داغے اور ساتھ ساتھ دبئی پر ڈرون لانچ کیا، تاہم اماراتی حکام نے اس دعوے کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔
’ہم متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ اب یہ غیر محفوظ ہو گیا ہے۔‘
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق سات سال سے جاری جنگ کے نتیجے میں یمن میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے سعودی اور اماراتی اتحادیوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اُن کے دفاع کو مضبوط تر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
تاہم محکمے کے ترجمان نیڈ پرائس سے جب سوال کیا گیا کہ کیا امریکی صدر جو بائیڈن متحدہ عرب امارات کی جانب سے حوثی باغیوں کو امریکی کی جانب سے بنائی گئی دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں دوبارہ شامل کرنے کی درخواست منظور کر لیں گے تو انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ اس درخواست پر غور کر رہے ہیں۔
دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک یمن کی سرحد کا بیشتر حصہ سعودی عرب سے متصل ہے اور یمن کا دارالحکومت صنعا متحدہ عرب امارات کی ریاست ابو ظہبی سے تقریباً 1500 کلومیٹر دور ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ گذشتہ اتوار کی شب جنوبی سعودی عرب میں بھی حوثی باغیوں کے میزائل حملے سے ایک سوڈانی اور دوسرا بنگالی شہری زخمی ہوئے تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثی باغیوں کے ترجمان نے دونوں ملکوں میں تازہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ چھ برسوں سے سعودی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد یمن میں حوثی باغیوں سے برسرِ پیکار ہے۔
سعودی عرب اور یو اے ای پر حوثیوں کے تازہ حملے
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق تباہ کیے گئے میزائلوں کے ٹکڑے ابوظہبی میں گرے لیکن اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم حملے کے باعث ابوظہبی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ٹریفک کی آمد و رفت میں خلل پڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیے

دوسری طرف سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کا کہنا ہے کہ جنوب مغربی سعودی عرب میں اتوار کی شب ہونے والے حملے میں بعض ورکشاپس اور سویلین گاڑیوں کو نقصان پہنچا تھا۔
اقوام متحدہ نے بھی حالیہ کشیدگی پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے اور دونوں فریقین سے تحمل برتنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حوثی باغیوں کے ترجمان ٹی وی چینل کے مطابق حوثیوں نے کہا ہے کہ وہ پیر کے روز متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں کیے گئے ’فوجی آپریشن‘ کی تفصیلات جلد فراہم کریں گے۔
یو اے ای پر گذشتہ ہفتے ہونے والے حملے کے بعد سعودی اتحاد نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں باغیوں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے تھے جن میں ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سعودی اتحاد 2015 سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی شہروں پر حوثی حملوں کے بعد اس اتحاد نے حوثی اہداف پر فضائی حملے اور کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔
جمعے کو شمالی صنعا کے عارضی حراستی مرکز پر فضائی حملے میں کم از کم 60 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ جاری آپریشن میں حوثیوں کے زیر انتظام شہر میں 20 افراد مارے گئے تھے۔
سعودی اتحاد نے مارچ 2015 کے دوران یمن میں مداخلت کی تھی جب حوثیوں نے صنعا میں عالمی حمایت یافتہ حکومت کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔ اس وقت سے حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ کرپٹ نظام اور غیر ملکی مداخلت سے لڑ رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے 2019 سے یمن میں اپنی موجودگی کم کر دی تھی مگر حال ہی میں اس کی حمایت یافتہ فورسز کی یمن میں توانائی کے اہم مراکز پر حوثیوں سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔












