قطر ایئرویز کی پرواز میں بچی کی پیدائش: ’مبارک ہو لڑکی ہوئی ہے‘

عائشہ خطیب

،تصویر کا ذریعہAISHA KHATIB

کینیڈا کی ایک ڈاکٹر نے یوگینڈا کی ایک پرواز میں ’کرشمائی’ بچے کی پیدائش پر اپنی خوشی کے بارے میں بتایا ہے۔

ٹورنٹو یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر عائشہ خطیب کو اپنی قطر ایئرویز کی دوحہ سے اینٹیبے جانے والی پرواز میں بیٹھے تقریباً ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ ایک کال آ گئی۔

سعودی عرب سے اپنے گھر جانے والی یوگینڈا کی ایک تارک وطن خاتون اپنے پہلے بچے کو جنم دینے والی تھیں۔

بچہ ابھی اپنی ماں کے بطن میں 35 ہفتوں کے اوائل میں تھا لیکن اس کی صحت مند پیدائش ہوئی اور ڈاکٹر کے نام پر بچی کا نام ’میراکل عائشہ‘ یا ’کرشماتی عائشہ‘ رکھا گیا۔

ڈاکٹر عائشہ خطیب کورونا وائرس سے متاثرہ ٹورنٹو میں کام کے سخت شیڈول سے نکل کر اپنے سفر کے تیسرے مرحلے میں فرصت سے لطف اندوز ہو رہی تھیں لیکن جب انٹرکام پر آواز آئی کہ ’کیا اس پرواز میں کوئی ڈاکٹر سوار ہے‘ تو عائشہ خطیب نے کوئی پس و پیش نہیں دکھائی۔

ڈاکٹر خطیب نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’مجھے مریض کے ارد گرد لوگوں کا ایک ہجوم جمع نظر آیا۔‘

اس وقت انھیں یہ خیال آیا کہ یہ دل کے دورے جیسی کوئی نازک صورتحال ہو گی۔

ولادت کے بعد ماں اور بچی کو بزنس کلاس میں منتقل کر دیا گیا

،تصویر کا ذریعہAISHA KHATIB

،تصویر کا کیپشنولادت کے بعد ماں اور بچی کو بزنس کلاس میں منتقل کر دیا گیا

انھوں نے بتایا کہ ’جب میں قریب پہنچی تو دیکھا کہ ایک خاتون سیٹ پر لیٹی ہیں، ان کا سر راہداری کی طرف جبکہ پاؤں کھڑکی کی طرف ہیں اور بچے کی پیدائش ہو رہی ہے۔‘

ڈاکٹر خطیب کی مدد دو دیگر مسافروں نے کی۔ ان میں ایک نرس جبکہ دوسری بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کی ایک ماہرِ اطفال ڈاکٹر تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ بچہ کی رونے کی آواز ’بلند‘ تھی۔ فوری معائنے کے بعد انھوں نے بچے کو بغور معائنے کے لیے ماہر اطفال کے حوالے کر دیا۔

ڈاکٹر خطیب کہتی ہیں کہ ’میں نے بچی کی طرف دیکھا، وہ ٹھیک تھی اور پھر میں نے ماں کی طرف دیکھا اور وہ بھی ٹھیک تھیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’پھر میں نے کہا کہ مبارک ہو لڑکی ہوئی ہے۔ اس پر پورا جہاز تالیاں بجا کر خوش ہونے لگا۔ پھر احساس ہوا کہ اوہ، میں ہوائی جہاز میں ہوں اور ہر کوئی دیکھ رہا ہے۔‘

’سب سے اچھی بات یہ کہ انھوں نے بچی کا نام میرے نام پر رکھنے کا فیصلہ کیا۔‘

اپنے نام پر نام رکھنے کے لیے تحفے کے طور پر ڈاکٹر خطیب نے بچی کو اپنے گلے سے سونے کا ہار نکال کر دے دیا جس پر عربی میں عائشہ لکھا ہوا تھا۔

’میں نے سوچا کہ میں اسے بچی کو یہ تحفہ دوں گی جو اس کے پاس اس ڈاکٹر کی ایک چھوٹی سی نشانی ہو گی جو دریائے نیل کے اوپر 35,000 فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے، اسے دنیا میں لائی۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

بچی کی ولادت پانچ دسمبر کو ہوئی تھی لیکن ڈاکٹر خطیب ٹورنٹو میں کووِڈ کے مریضوں کے علاج میں اس قدر مصروف تھیں کہ وہ رواں ہفتے تک ان تصاویر کو شیئر نہ کر سکیں۔

انھیں 18 دسمبر کو یوگینڈا سے واپس بلایا گیا تھا، جہاں مقامی کارکنوں کو تربیت دی جا رہی تھی۔ اس پرواز کے دوران بھی ان کے طیارے میں طبی ماہر کے لیے ایک اور آواز لگائی گئی۔

ڈاکٹر خطیب نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’خوش قسمتی سے وہاں ایک اور ڈاکٹر موجود تھا اور میں نے کچھ اس طرح کہا کہ اسے آپ سنبھالیں، میں نے دو ہفتے پہلے ہی ایک بچی کی ولادت کروائی ہے۔ اگر آپ کو میری ضرورت ہو تو میں 25-اے سیٹ پر موجود ہوں۔‘