کووڈ 19: ’بلائنڈ ڈیٹ‘ پر گئی خاتون جو لاک ڈاؤن کے باعث ایک اجنبی کے گھر چار روز تک پھنسی رہیں

    • مصنف, کیری ایلن
    • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ

آپ نے بالی وڈ کا وہ گیت تو سُن رکھا ہو گا ’ہم تم ایک کمرے میں بند ہوں اور چابی کھو جائے‘، کچھ ایسا ہی معاملہ چین میں ایک خاتون کے ساتھ پیش آیا جب وہ اپنی بلائنڈ ڈیٹ پر گئیں اور اجنبی سے ہونے والی اس ملاقات کے دوران ہی باہر لاک ڈاؤن نافذ ہونے کا اعلان ہو گیا۔

اطلاعات کے مطابق چین کے ایک شہر میں کووڈ کی وبا میں تیزی کے بعد لگنے والے اچانک لاک ڈاؤن کے نتیجے میں ایک خاتون اس شخص کے گھر میں پھنس کر رہ گئیں جس سے اُن کی یہ پہلی ملاقات تھی۔ چینی خاتون مِس وانگ نے چینی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’وی چیٹ‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ گذشتہ ہفتے جب وہ ایک شخص کے ہاں کھانے کے لیے گئیں تو وہاں سے نکل نہ سکیں۔‘

خاتون کا کہنا تھا کہ وہ نئے سال کی تقریبات کے لیے کچھ ہی عرصہ پہلے گوانگزو سے واپس اپنے شہر جنگجاؤ آئی ہیں۔

انھوں نے اپنی اس لاک ڈاؤن مںی بدلنے والی پہلی ہی ملاقات کے متعلق لکھا کہ ’میری عمر خاصی زیادہ ہوتی جا رہی ہے، اسی لیے میرے والدین نے دس مختلف اجنبی افراد سے مجھے ملوانے کا اہتمام کیا۔ ان میں سے پانچویں شخص نے بتایا کہ وہ کھانا بہت اچھا پکاتے پیں، پھر انھوں نے مجھے اپنے گھر پر مدعو کیا تاکہ وہ اپنے ہاتھ کا بنایا ہوا کھانا مجھے کھلا سکیں۔‘

لیکن جب وہ کھانا کھا رہے تھے اسی دوران مس وانگ کو معلوم ہوا کہ اس علاقے میں کووڈ کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے علاقے میں لاک ڈاؤن لگانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ اس شخص کے گھر تک محدود ہو کر رہ گئیں اور اگلے کئی دنوں تک اس گھر سے باہر نہیں نکل سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مِس وانگ کا کہنا تھا کہ وہ چار دن تک اپنی ’بلائینڈ ڈیٹ‘ کے گھر میں محصور رہیں اور یہ صورتحال ’کچھ زیادہ اچھی‘ نہ تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان چار دنوں میں اُن کے میزبان نے ہر روز ان کے لیے کھانا پکایا۔

خاتون کے بقول ’وہ شخص زیادہ باتیں نہیں کرتے۔‘ خاتون کی گفتگو سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ابھی تک اس گھر میں محصور ہیں، تاہم گذشتہ دنوں سے جنگجاؤ شہر میں حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن کی پابندی لگتی رہی ہے۔

روزنامہ ’گلوبل ٹائمز‘ کے مطابق گذشتہ ہفتے کے دوران جنگجاؤ شہر میں کووِڈ 19 کے ایک سو سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ 11 جنوری کو شہر میں اشیائے ضروریہ کے علاوہ تمام کاروبار بند رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ چین اپنی ’زیرو کووڈ‘ کی پالیسی پر کاربند ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں جہاں بھی کسی نئے کیس کی نشاندہی ہوتی ہے، حکومت وہاں فوراً لاک ڈاؤن نافذ کر دیتی ہے۔

مِس وانگ وہ پہلی فرد نہیں ہیں جنھیں اچانک اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گذشتہ ماہ ایک شخص کو عین اس وقت لاک ڈاؤن میں جانا پڑ گیا جب وہ اپنا مکان تبدیل کر رہے تھے اور انھوں نے ابھی اپنا پورا گھریلو سامان نئے گھر میں منتقل بھی نہیں کیا تھا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس شخص کا کہنا تھا کہ انھیں کار سے سامان نکالنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی اور انھیں اپنے پڑوسی سے درخواست کرنا پڑی کہ وہ سردی سے بچنے کے لیے انھیں لحاف مہیا کریں۔