آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: چین کی ویکسین کتنی مختلف اور کتنی موثر ہیں؟
کووڈ 19 کی ویکسین بنانے کی دوڑ جاری ہے اور چین اس سلسلے میں تیزی سے آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ چینی حکام نے ملک میں کورونا سے بچاؤ کے لیے سرکاری دوا ساز کمپنی سائنو فارم کی تیار کردہ ویکسین کی عام عوام کو لگانے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔
اس اقدام کی اجازت دوا ساز کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ویکسین کے عبوری اعداد و شمار کے فیز تھری ٹرائلز میں 79 فیصد افادیت کی شرح سامنے آنے کے بعد دی گئی ہے۔ جس کے بعد چین کی دو کمپنیوں سائنو ویک اور سائنو فارم کی تیار کردہ ویکسین دوسرے ممالک میں پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ہم چین میں تیار ہونے والی ویکسین کے بارے میں کیا جانتے ہیں اور ان کا موازنہ دوسرے ممالک کی ویکسین سے کیسے کیا جا سکتا ہے۔
سائنوفارم ویکسین کیسی ہے؟
سائنو فارم چین کی ایک سرکاری دوا ساز کمپنی ہے۔ یہ کمپنی کووڈ 19 سے بچاؤ کی دو ویکسین تیار کر رہی ہے۔ اس کی ویکسین بھی سائنوویک کی طرح ان ایکٹیویٹڈ ویکسین ہیں اور اسی طرح کام کرتی ہیں۔
سائنو فارم نے 30 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ اس کی ویکسین کے تیسرے مرحلے کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ 79 فیصد موثر ہے۔ تاہم یہ شرح فائزر اور موڈرنا کی تیارکردہ ویکسین سے کم ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ تیسرے مرحلے کے عبوری نتائج کے مطابق یہ ویکسین 86 فیصد موثر ہے۔ متحدہ عرب امارات نے سائنو فارم ویکسین کو اس ماہ کے شروع میں منظور کر لیا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کمپنی کی ترجمان نے اس فرق پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تفصیلی نتائج بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم تیسرے مرحلے کے نتائج سے پہلے ہی ایمرجنسی پروگرام کے تحت چین میں یہ ویکسین تقریباً 10 لاکھ لوگوں کو دی چکی تھی۔
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے پروفیسر ڈیل فشر کا کہنا ہے کہ ایک غیر روایتی بات ہے کہ آخری مرحلے کے تجربات سے پہلے ہی ایک ویکسین کا بڑے پیمانے پر استعمال شروع کر دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے نیوز سائٹ سی این بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا 'یہ ایک معمول کی بات ہے کہ کسی ویکسین پروگرام کو بڑے پیمانے پر شروع کرنے سے پہلے تیسرے درجے کے تجربات کا انتظار کیا جائے۔'
دسمبر کے آغاز میں پیرو میں بھی ایک رضاکار کی طبیعت خراب ہونے کے بعد سائنوفارم ویکسین کے تجربات روک دیے گئے تھے۔ لیکن بعد میں بتایا گیا کہ تجربات دوبارہ شروع کر دیے گئے ہیں۔
کلینیکل ٹرائل یا تجربات کا کو وقتی طور پر روکنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ ستمبر میں برطانیہ میں بھی کووڈ 19 کی ویکسین کے تجربات روکے گئے تھے کیونکہ ایک رضاکار میں منفی اثرات ظاہر ہوئے تھے۔ تاہم یہ معلوم ہونے کے بعد کہ اس کی وجہ ویکسین نہیں تھی تجربات کو دوبارہ شروع کر دیا گیا۔
چین میں سائنوویک اور سائنو فارم کے علاوہ مزید کم از کم دو ویکسین تیاری کے مراحل میں ہیں۔ ان میں سے ایک کین سائنو بائیولوجکس ہے جو سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں تیاری کے تیسرے مرحلے میں ہے۔
جبکہ ایک دوسری ویکسین این ہوئی زی فائی لونگ کوم نامی کمپنی تیار کر رہی ہے۔ ان کی ویکسین میں وائرس کا ایک اصلی ٹکڑا لے کر جسم میں داخل کیا جاتا ہے تا کہ جسم کا دفاعی نظام چوکنا ہو جائے۔ یہ ویکسین بھی حال ہی میں تیاری کے تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
سائنوویک ویکسین کیسے کام کرتی ہے؟
بیجینگ میں قائم بائیو فارماسوٹیکل کمپنی سائنوویک نے کوروناویک نامی ویکسین بنائی ہے جو ایک ان ایکٹیویٹڈ ویکسین ہے۔
ان ایکٹیویٹڈ ویکسین ایک ایسی ویکسین ہوتی ہے جس میں وائرس یا بیکٹریا کو گرمی یا کیمیکلز سے ہلاک کرنے کے بعد شامل کیا جاتا ہے۔ جب یہ ویکسین جسم میں داخل کی جاتی ہے تو ان کے مردہ خلیوں سے جسم کا مدافعتی نظام زندہ وائرس یا بیکٹریا کا مقابلہ کرنا سیکھ جاتا ہے اور ویکسین کے نتیجے میں کسی منفی ردعمل کا خطرہ بھی نہیں ہوتا۔
چینی ویکسین کے مقابلے میں مغربی ممالک میں بننے والی موڈرنا اور فائزر ویکسین ایم آر این اے ویکسین ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کورونا وائرس کے جنیاتی کوڈ کا ایک حصہ جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ جسم کے مدافعتی نظام کی یاداشت کا حصہ بن جاتا ہے اور یہ اس نظام کو اصل کورونا وائرس کے خلاف لڑنا سیکھانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
سنگاپور کی نینیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر لوو داہائی کہتے ہیں کہ کوروناویک کو ویکسین بنانے کے زیادہ روایتی طریقے سے بنایا گیا ہے جو دوسری کئی ویکسین بنانے میں کامیابی سے استعمال ہو چکا ہے۔
'ایم آر این اے نئی قسم کی ویکسین ہیں جن سے متعلق فی الحال ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے کہ انھیں انسانی آبادیوں میں بڑی تعداد میں کامیابی سے استعمال کیا گیا ہو۔'
سائنوویک ویکسین کے دیگر فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ اسے بھی آکسفورڈ ویکسین کی طرح ایک عام سے ریفریجیریٹر میں 2 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھا جا سکتا ہے۔ آکسفورڈ ویکسین کو اس وائرس میں جنیاتی تبدیلی کر کے بنایا گیا ہے جو بندروں کو عام نزلے میں مبتلا کرتے ہیں۔
ان دونوں ویکسین کے مقابلے میں موڈرنا کو منفی 20 ڈگری جبکہ فائزر کی ویکسین کو منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ سائنوویک اور آکسفورڈ کی ویکسین ترقی پزیر ممالک کے لیے زیادہ مناسب ہیں کیونکہ یہ ممالک شاید اتنے کم درجہ حرارت پر ویکسین نہ رکھ سکیں۔
یہ کتنی موثر ہے؟
اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ سائنس کے جریدے لینسٹ کے مطابق ابھی کوروناویک ویکسین کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے تجربات کے بارے میں معلومات ہیں۔
جریدے میں چھپنے والے مضمون کے مصنفین میں سے ایک زو فنگ سائی کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں اس ویکسین کے نتائج 144 افراد جبکہ دوسرے مرحلے میں 600 افراد پر مبنی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ویکسین ایمرجنسی میں استعمال کے لیے مناسب ہے۔
برازیل، ترکی اور انڈونیشیا میں کوروناویک کے تیسرے مرحلے کے تجربات ہو رہے ہیں۔ ترکی میں آخری مراحل سے اب تک موصول ہونے والے ڈیٹا کے مطابق یہ ویکسین 91 عشاریہ 25 فیصد موثر ہے۔ جبکہ برازیل میں تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کے موثر ہونے کی شرح 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ لیکن وہاں تمام نتائج کو روک دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی شفافیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
برازیل میں اس ویکسین کے آخری مراحل کے تجربات اس سال اکتوبر میں شروع ہوئے جہاں اموات کی تعداد دنیا میں دوسرے نمبر پر رہ چکی ہے۔ نومبر میں ایک رضاکار کی موت کے بعد ان تجربات کو روک دیا گیا تھا لیکن یہ معلوم ہونے کے بعد کے اس ہلاکت کا ویکسین سے کوئی تعلق نہیں ہے تجربات کو دوبارہ شروع کیا گیا۔
سائنوویک کو چین میں ایمرجنسی میں استعمال کرنے کے لیے جولائی سے منظور کیا گیا ہے۔
سائنوویک کمپنی کے مسٹر یِن نے کہا تھا کہ ایک ہزار رضاکاروں پر تجربہ کیا گیا جن میں سے صرف پانچ فیصد کو معمولی سے بے چینی محسوس ہوئی۔
پروفیسر لوو کا کہنا تھا کہ ابتدائی ڈیٹا کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوروناویک ایک موثر ویکسین ہے۔ لیکن ہمیں تیسرے مرحلے کے نتائج کا انتظار کرنا ہو گا۔
'ویکسین کے یہ تجربات بغیر کسی ترتیب کے کیے جا رہے ہیں، ان تجربات کی نگرانی کرنے والے بالکل غیر جانبدار ہیں اور ایسے تجربات کے بین الاقوامی طریقہ کار پر پوری طرح عمل کیا جا رہا ہے۔ ویکسین کے یہ تجربات ہزاروں رضاکاروں پر کیے جا رہے ہیں۔ یہی ایک طریقہ ہے جس سے ثابت ہو سکتا ہے کہ بڑے پیمانے پر انسانی آبادیوں پر استعمال کرنے کے لیے یہ ویکسین کتنی محفوظ اور موثر ہے۔'
کون سے ممالک چین کی ویکسین لے رہے ہیں؟
دسمبر کے آغاز میں سائنوویک ویکسین کی پہلی کھیپ انڈونیشیا پہنچی۔ یہ بڑے پیمانے پر ملک میں ویکسینیشن پروگرام کی تیاری کا حصہ ہے۔ جنوری میں انڈونیشیا میں 18 لاکھ ویکسین کی دوسری کھیپ پہنچے گی۔
جبکہ پاکستان نے بھی چینی کمپنی سائنو فارم سے ویکسین خریدنے کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ویکسین کی خریداری کے حوالے سے تکنیکی مرحلہ مکمل نہیں ہوا اور ابھی اس کی پاکستان میں حتمی قیمت نہیں بتائی جا سکتی ہے۔ خیال رہے کہ سائنو فارم نامی چینی کمپنی کی دو ویکسینز تصدیق کے بعد استعمال میں لائی جا رہی ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ پاکستان کونسی ویکسین خریدے گا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ابتدا میں 12 لاکھ ویکسین کی ڈوز خریدے گا جو فرنٹ لائن ورکر کو مفت فراہم کی جائیں گی۔ اس سے قبل وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹر پیغام میں بتایا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر اگر کوئی اور بین الاقوامی طور پر منظور شدہ ویکسین درآمد کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں اس وقت ایک اور چینی کمپنی کی تیار کردہ ویکسین کے تیسرے مرحلے کے ٹرائلز جاری ہیں۔
انڈونیشیا کے فیصلے کے کچھ روز کے بعد کئی عرب ممالک نے، جن میں متحدہ عرب امارات اور بحرین بھی شامل ہیں، سائنوفارم ویکسین کی منظوری دے دی۔
اس کے علاوہ سنگاپور نے کہا ہے کہ سائینوویک، موڈرنا اور فائزر - بائیو این ٹیک سمیت ویکسین بنانے والی کئی کمپنیوں سے خریداری کے معاہدے کر لیے گئے ہیں۔
چین میں بڑی تعداد میں مختلف ویکسین کی تیاری
سائنوویک کمپنی کے چیئرمین نے سرکاری ٹی وی سی جی ٹی این کو بتایا کہ ان کے 20 ہزار مربع میٹر پر پھیلے ہوئے پیداواری پلانٹ میں ہر سال 30 کروڑ ویکسین تیار ہوں گی۔ دوسری ویکسین کی طرح اس کی بھی دو خوراکوں کی ضرورت ہو گی۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ہر سال 15 کروڑ افراد کے لیے کافی ہو گی جو چین کی آبادی کا تقریباً دسواں حصہ ہے۔
تجزیہ نگاروں کے خیال میں چین کی کوشش ہے کہ وہ ویکسین سفارت کاری کی دوڑ جیت جائے۔ چین کے صدر شی جن پنگ افریقہ کے لیے پہلے ہی دو ارب ڈالر کا وعدہ کر چکے ہیں۔ جبکہ لاطینی امریکہ اور کیریبیئن ممالک کو بھی ویکسین خریدنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی پیشکش کی گئی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ رقوم کن شرائط پر دی جائیں گی۔
تجزیہ نگار جیکب مارڈل کہتے ہیں 'بیجنگ یقیناً زندگی بچانے والی اس ٹیکنالوجی کو تجارتی اور سفارتی فوائد کے لیے استعمال کرے گا۔`