کووڈ 19: انٹارکٹیکا کے تحقیقاتی سٹیشن میں 16 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص

،تصویر کا ذریعہINTERNATIONAL POLAR FOUNDATION
دنیا کے نقشے پر نظر دوڑائی جائے تو دوردراز واقع ایک ایسے براعظم پر جا کر نظر ٹھہرتی ہے جو سائز میں کئی گنا بڑا ہے مگر یہاں شدید موسم کی وجہ سے آبادی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ خطہ انٹارکٹیکا کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہاں بیلجیئم نے کورونا وائرس پر تحقیق کے لیے ایک سائنسی مرکز بھی قائم کر رکھا ہے۔
یہاں آنے والے افراد کو ویکسین اور ٹیسٹ کے مراحل سے گزر کر یہاں تک رسائی ملی مگر پھر بھی اس تحقیقاتی مرکز میں اس وقت تشویش پھیلی جب مرکز کے عملے میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔
’سرد، خشک اور کم آبادی والے خطے میں وائرس کا پھیلاو اچھنبے سے کم نہیں‘
یہ وائرس جس تیزی سے اس سرد، خشک اور کم آبادی والے خطے میں پھیل رہا ہے وہ یہاں کے محققین کے لیے کسی اچھنبے سے کم نہیں۔
واضح رہے کہ 14 دسمبر کے بعد سے، ’پرنسز الزبتھ پولر سٹیشن‘ کے 25 میں سے کم از کم 16 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک وائرس کے اثرات زیادہ خطرناک نہیں۔
انٹرنیشنل پولر فاؤنڈیشن کے پروجیکٹ مینیجر جوزف چیک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ابھی صورتحال ڈرامائی نہیں۔‘
جوزف کے مطابق ’اگرچہ یہ ایک تکلیف دہ عمل تھا کہ عملے کے کچھ ارکان کو وائرس کی تشخیص کے بعد قرنطینہ میں رکھنا پڑا لیکن مجموعی طور پر اس وائرس نے سٹیشن پر ہمارے کام کو متاثر نہیں کیا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سٹیشن کے تمام رہائشیوں کو 12 جنوری کو ایک پرواز پر روانہ کرنے کی پیشکش کی گئی تھی تاہم ان سب نے اپنا کام جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس وبا کی خبر سب سے پہلے بیلجیئم کے اخبار ’لی سوئر‘ میں شائع ہوئی۔
پہلی بار 14 دسمبر کو ایک ٹیم میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی جو یہاں سات دن پہلے پہنچی تھی۔ وہ افراد جن میں وائرس کی تشخیص ہوئی انھیں قرنطینہ میں رکھا گیا مگر اس کے باوجود وائرس کا پھیلاؤ جاری رہا۔
سٹیشن پر پہنچنے والے عملے کے لیے ویکسین اور ٹیسٹ کی شرائط لازمی ہیں۔
سٹیشن پر ایمرجنسی جیسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دو ڈاکٹر موجود ہیں اور اس جگہ پر نئے آنے والوں کو وائرس کے خاتمے تک روک دیا گیا ہے۔
’پرنسز الزبتھ سٹیشن‘ کو انٹرنیشنل پولر فاؤنڈیشن چلاتی ہے جو سنہ 2009 سے کام کر رہی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ انٹارکٹیکا میں تحقیقی سٹیشن کورونا وائرس کے پھیلنے سے متاثر ہوئے ہوں۔
گذشتہ برس برنارڈو او ہیگنز ریسرچ سٹیشن پر مقیم چلی کے متعدد فوجی اہلکار اس وقت کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے جب مال بردار بحری جہاز کے ملاحوں میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔









