اسرائیل کی مخالفت اور فلسطین کی حمایت کرنے والے پادری ڈیزمنڈ ٹوٹو کی وفات

،تصویر کا ذریعہReuters
نوبل انعام یافتہ، جنوبی افریقہ کے آرچ بشپ ڈیزمنڈ ٹوٹو جنھوں نے اپنے ملک کو نسلی امتیاز والے قوانین کے دور آپارتھائڈ سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، 90 سال کی عمر میں وفات پاگئے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے اس موقعے پر کہا کہ ڈیزمنڈ ٹوٹو کی وفات، جنوبی افریقہ کے ماضی کے عظیم رہنمائوں کو خیرآباد کہنے کے سلسلے میں ایک اور انتہائی افسوس ناک اضافہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ آرچ بشپ ڈیزمنڈ ٹوٹو نے آزاد جنوبی افریقہ کے قیام میں اہم مدد کی۔
ڈیزمنڈ ٹوٹو جنوبی افریقہ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی معروف شخصیات میں سے ایک تھے۔
نسل پرستی کے خلاف لڑنے والے نیلسن منڈیلا کے ہم عصر، ڈیزمنڈ ٹوٹو جنوبی افریقہ میں آپارتھائڈ کے خلاف چلنے والی تحریک کے اہم ترین رہنمائوں میں سے ایک تھے۔
صدر رامافوسا نے کہا کہ ڈیزمنڈ ٹوٹو ایک معروف روحانی رہنما، آپارتھائڈ مخالف کارکن اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کے کارکن تھے۔
انھوں نے ڈیزمنڈ ٹوٹو کو کہا کہ وہ ‘ایک ایسا محب الوطن جس کا کوئی ثانی نہیں تھا، اصول پسندی اور عملیت پسندی کا ایک ایسا لیڈر جو بائیبل کے اس خیال کو عملی جامعہ پہناتا تھا کہ عمل کے بغیر عقیدہ کچھ نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ٹوٹو ‘غیر معمولی ذہانت، اصولی سالمیت اور ناقابل تسخیر شخصیت کے مالک رہنما جو آپارتھائڈ کے خلاف لڑے مگر ان میں دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے شفقت اور ہمدردی بھری ہوئی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک باغی شخصیت
ڈیزمنڈ ٹوٹو جنوبی افریقہ کے آرچ بشپ تھے جن کی باغی شخصیت اور ہر وقت مسکراتے چہرے کی وجہ سے دنیا بھر ان کے دوست اور مداح تھے۔
چرچ کے ایک معروف سیاہ فام عہدیدار ہونے کے ناطے یہ بات ناگزیر تھی کہ وہ اپنے ملک میں سفید فام اقلیت کی ظالمانہ حکمرانی کے خلاف جدوجہد میں شامل نہ ہوتے لیکن ان کا ہمیشہ اصرار رہا کہ ان کے مقاصد مذہبی تھے، سیاسی نہیں۔
انہیں نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ کے مصالحتی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا تھا جو نسل پرستی کے دور میں دونوں فریقوں کی طرف سے کیے گئے جرائم کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
جنوبی افریقہ میں مختلف نسلوں کے بسنے کے حوالے سے رینبو نیشن کی اصطلاح بھی ڈیزمنڈ ٹوٹو نے ہی بنائی تھی۔
ڈیزمنڈ ٹوٹو 1931 میں اس وقت ٹرانسوال نامی ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئے جہاں مرکزی ذریعہِ معاش سونے کی کان کنی تھی۔
انھوں نے پہلے اپنے والد کے کی طرح ایک استاد کا کریئر چنا، لیکن 1953 میں بنٹو ایجوکیشن ایکٹ کی منظوری کے بعد انھوں یہ کریئر ترک کر دیا۔ ان قوانین کے تحت سکولوں میں نسلی امتیاز کی بنیاد کو متعارف کرایا۔
انھوں نے چرچ میں نوکری ملک کے بہت سے سفید فام پادریوں، خاص طور پر نسل پرستی کے ایک اور مضبوط مخالف، بشپ ٹریور ہڈلسٹن سے سخت متاثر ہو کر شروع کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے 1976-78 تک لیسوتھو کے بشپ، جوہانسبرگ کے اسسٹنٹ بشپ اور جوہانسبرگ کے بشپ کے طور پر اپنی تقرری سے قبل سوویٹو میں ایک پارش کے ریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
جب وہ ایک ڈین کے طور انھیں ذمہ داریاں نبھا رہے تھے، اس وقت انھوں نے سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا شروع کی اور پھر 1977 سے جنوبی افریقی کونسل آف چرچز کے جنرل سیکرٹری کے طور پر بھی انھوں نے اس کی طرف توجہ دلائی۔
وہ سیاہ فام بستیوں میں 1976 کی بغاوت سے پہلے ہی ایک معروف شخصیت تھے اور سوویٹو کے پر تشدد واقعات سے چند مہینوں بعد وہ پہلی بار سفید فام جنوبی افریقیوں میں اصلاحات کے لیے ایک مہم چلانے والے کے طور پر مشہور ہوئے۔
مشتبہ پولیس مخبر کو بچانا
ان کی کوششوں کے لیے انہیں 1984 میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا جس کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے جنوبی افریقہ کے سفید فام حکمرانوں پر تنقید کے طور پر دیکھا گیا۔
کیپ ٹاؤن کے آرچ بشپ کے طور پر ڈیزمنڈ ٹوٹو کی تقریری کی تقریب میں اس وقت کے کینٹربری کے آرچ بشپ ڈاکٹر رابرٹ رنسی اور مارٹن لوتھر کنگ کی بیوہ نے شرکت کی۔
جنوبی افریقہ میں چرچ کے سربراہ کے طور پر، انھوں نے نسل پرستی کے خلاف آواز اٹھانے کی مہم جاری رکھی۔ مارچ 1988 میں، انھوں نے اعلان کیا کہ ‘ہم حکومت کے بوٹوں کو صاف کرنے کے لیے ڈور میٹ بننے سے انکار کرتے ہیں۔‘
چھ ماہ بعد، انھوں نے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کی کال دے کر خود جیل کا خطرہ مول لیا۔
وہ اگست 1989 میں جب پولیس نے کیپ ٹاؤن کے قریب ایک ٹاؤن شپ میں چرچ سے نکل رہے لوگوں کے خلاف کارروائی کی تھی، تو وہ آنسو گیس کے بادل میں پھنس گئے تھے۔ اگلے مہینے انھیں ایک ممنوعہ ریلی سے نکلنے سے انکار کرنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بحیثیت آرچ بشپ، جنوبی افریقہ کے خلاف پابندیوں کے لیے ان کے مطالبات نے پوری دنیا میں گونجے، خاص طور پر کیونکہ وہ ساتھ میں تشدد کی مکمل مذمت کرتے تھے۔
1985 میں، ٹوٹو اور ایک اور بشپ نے بہادری اور ڈرامائی انداز میں ایک مشتبہ پولیس مخبر کو بچایا جب اس پر حملہ کیا جا رہا تھا اور اسے جنوبی افریقہ کے مرکزی شہر جوہانسبرگ کے مشرق میں واقع ایک ٹاؤن شپ میں مشتعل ہجوم نذرِ آتش کرنے والا تھا۔
اس موقعے پر پادریوں نے ہجوم کو پیچھے دھکیلا اور اس زخمی شخص کو بچانے کے لیے کھینچ لیا، اس سے پہلے کہ اس کی گردن میں پیٹرول میں بھیگے ہوئے ٹائر کو آگ لگائی جائے۔
ڈیزمنڈ ٹوٹو نے بعد میں اس شخص کے حملہ آوروں پر تنقید کی اور انہیں یاد دلایا کہ ‘صادق اور منصفانہ جدوجہد کے لیے منصفانہ طریقے استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
ڈیزمنڈ ٹوٹو نے اپنے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ہی صدر ایف ڈبلیو ڈی کلرک کی طرف سے اعلان کردہ آزادانہ اصلاحات کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔ ان میں افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) پر سے پابندی اٹھانا اور فروری 1990 میں نیلسن منڈیلا کی رہائی شامل تھی۔
اس کے فوراً بعد، ٹوٹو نے پادریوں کی سیاسی جماعتوں میں شمولیت پر پابندی کا اعلان کیا، جس کی دیگر گرجا گھروں نے مذمت کی۔
اسرائیل اور فلسطینیوں پر ان کا موقف
وہ اپنی رائے کا اظہار کرنے سے کبھی نہیں ڈرتے تھے۔ اپریل 1989 میں، جب وہ برطانیہ میں برمنگھم گئے، تو انھوں نے برطانیہ میں ‘دو قومیں‘ ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ملک کی جیلوں میں بہت زیادہ سیاہ فام لوگ ہیں۔
بعد میں انھوں نے ایک کرسمس یاترا کے دوران، سیاہ فام جنوبی افریقیوں کا مغربی کنارے اور غزہ کے عربوں سے موازنہ کیا جس پر اسرائیلیوں کو شدید غصہ آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ جن لوگوں نے بطور یہودی مشکلات برداشت کی تھیں، وہ فلسطینیوں کو اس طرح کی تکلیفیں کیسے پہنچا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈیزمنڈ ٹوٹو نیلسن منڈیلا کے بہت بڑے مداح تھے، لیکن وہ ہمیشہ ان کے ساتھ انصاف کے حصول کے لیے تشدد کے استعمال جیسے مسائل پر متفق نہیں تھے۔
نومبر 1995 میں، منڈیلا، اس وقت کے جنوبی افریقہ کے صدر نے، ٹوٹو سے کہا کہ وہ ایک مصالحتی کمیشن کی سربراہی کریں، جس کا کام نسل پرستی کے دور کے جرائم کے شواہد اکٹھے کرنا تھا اور یہ تجویز کرنا تھا کہ اعترافِ جرم کرنے والے افراد کو عام معافی ملنی چاہیے یا نہیں۔
کمیشن کی انکوائری کے اختتام پر ٹوٹو نے جنوبی افریقہ کے سابق سفید فام رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے اکثر نے اپنے بیانات میں جھوٹ بولا تھا۔
کمیشن نے اے این سی پر نسل پرستی کے خلاف لڑائی کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی الزام لگایا۔ دونوں فریقین نے رپورٹ کو مسترد کر دیا۔
ٹوٹو اکثر ان لوگوں کی کہانیاں سن کر رو پڑتے تھے جو نسل پرستی کا شکار رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہOryx Media Archive/Gallo Images
انھوں نے جنوبی افریقہ کی نئی سیاہ فام اکثریتی حکومت پر بھی کافی تنقید کی۔ انھوں نے صدر تھابو ایمبیکی کی قیادت میں اے این سی انتظامیہ پر بھی سخت تنقید کی۔
انھوں نے کہا کہ اے این سی نے ملک کے غریب ترین لوگوں میں غربت کے خاتمے کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا ہے اور بہت زیادہ دولت اور طاقت ایک نئی سیاہ فام سیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرکوز ہے۔
بعد میں انھوں نے جیکب زوما پر زور دیا، جن پر جنسی جرائم اور بدعنوانی کے الزامات تھے، کہ وہ صدر بننے کی اپنی کوششیں ترک کر دیں۔
وہ رابرٹ موگابے کی مذمت میں بھی آواز اٹھاتے تھے، جس نے ایک بار زمبابوے کے صدر کو ‘ایک قدیم افریقی آمر کی کارٹون شخصیت` کے طور پر بیان کیا تھا۔ موگابے نے بدلے میں ٹوٹو کو ‘باطل‘ قرار دیا۔
انھوں نے اپنے چرچ پر بھی تنقید کی خاص طور پر ہم جنس پرستوں کے بشپس بننے کے بعد اٹھنے والے تنازعے کے نتیجے میں۔
ہمیشہ کا باغی
ایک مرتبہ انھوں نے چرچ پر الزام لگایا کہ عالمی غربت کے خلاف جنگ پر توجہ دینے کے بجائے وہ ہم جنس پرستی کے موضوع کو ترجیح دیا ہے۔ اس موقعے پپر انھوں نے کہا کہ ‘خدا رو رہا ہے۔‘
2010 میں جب انھوں نے آئرلینڈ کا دورہ کیا تو وہ غربت کے موضوع کو ایک مرتبہ پھر اٹھایا۔ انھوں نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ معاشی بدحالی کے تناظر میں بیرون ملک امداد میں کٹوتی کے اثرات پر غور کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹوٹو نے اسی سال اپنی پبلک زندگی سے باضابطہ طور پر ریٹائرمنٹ لے لی۔ انھوں نے کہا کہ ‘ہوائی اڈوں اور ہوٹلوں میں زیادہ وقت گزارے کے بجائے ’ریڈ بش چائے پینے اور کرکٹ دیکھنے‘ میں گزارنا چاہتے ہیں۔
لیکن ہمیشہ کے باغی، وہ 2014 میں (ایسے مریضوں جن کا علاج ممکن نہیں ہوتا، ان میں ) خودکشی میں مدد کرنے کی حمایت میں پھر میدان میں اتر آئے، اور کہا کہ زندگی کو ہر قیمت پر تحفظ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
چرچ سے وابستہ بہت سے لوگوں کے خیالات کے برعکس، ان کا خیال تھا کہ انسانوں کو موت کا انتخاب کرنے کا حق ہونا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کے عظیم دوست اور ساتھی نیلسن منڈیلا، جو دسمبر 2013 میں وفات پا گئے تھے، ایک طویل اور تکلیف دہ بیماری میں مبتلا تھے جو ان کے خیال میں ‘مادیبہ کے وقار کی توہین‘ تھی۔
2017 میں، ٹوٹو نے میانمار کی رہنما اور ساتھی نوبل امن انعام یافتہ، آنگ سان سوچی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے ملک کی قیادت کرنا جہاں مسلم اقلیت کو ‘نسل کشی‘ کا سامنا ہو، ‘صداقت کی علامت کے لیے متضاد‘ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسی سال کے آخر میں، انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا سرکاری دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر لکھا کہ ‘خدا رو رہا ہے۔‘
ان کا مذاج مذاح سے بھرپور تھا اور ان کی گفتگو میں اکثر قہقہے سنائی دیتے تھے۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ ڈیزمنڈ ٹوٹو ایک بے مثال اخلاقیات کے حال شخص تھے جنھوں نے جنوبی افریقہ کو پرامن بنانے کی کوشش کی۔









