پولینڈ، بیلاروس کی سرحد پر تارکین وطن کی بڑی تعداد جمع ہونے لگی، فوجی دستے تعینات

پولینڈ نے ان خدشات کے پیش نظر کہ بیلاروس سے تارکین وطن کا ایک بڑا ریلہ اس کی مشرقی سرحد کی جانب بڑھ رہا ہے، سرحد پر حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے ہیں۔

وہاں سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے سرحد پر سینکڑوں لوگ خاردار تار کے قریب موجود ہیں جن میں سے کچھ سرحد کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پولینڈ کی حکومت نے سرحد کی صورتحال پر ایک ہنگامی اجلاس کے بعد وہاں 12 ہزار اضافی فوجی تعینات کر دیئے ہیں۔

پولینڈ نے بیلاروس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تارکین وطن کو پولینڈ کی سرحد کی جانب دھکیل رہا ہے۔

پولینڈ، لیتھونیا اور لیٹویا نے کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ان کے ہاں بیلاروس سے تارکین وطن کے داخلے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان تارکین وطن میں کئی کا تعلق مشرق وسطی اور ایشیائی ممالک سے ہے۔

یورپی یونین نے بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کے بدلے تارکین وطن کو یورپ بھیج رہے ہیں۔

سردی میں سرحد پر پھنسے ہوئے مہاجرین کے حالات انتہائی ابتر ہیں اور سخت موسم میں تارکین وطن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

پولینڈ کسی مہاجر کو اپنے ملک میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اسی طرح بیلاروس بھی کسی تارک وطن کو واپس اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے نہیں دے رہا جس کی وجہ سے یہ افراد سرحدی جنگلات میں پھنس گئے ہیں جن میں سے کئی ٹھنڈ کی وجہ سے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی کے پال ایڈمز نے شامی نوجوانوں کے ایک ایسے گروپ سے ملاقات کی جن کے پاس کھانے اور پینے کا سامان ختم ہو چکا تھا اور ان میں سخت سردی س بچنے کے لیے آگ جلانے کی بھی ہمت نہیں تھی کیونکہ انھیں ڈر تھا کہ آگ دیکھ کر سیکورٹی اہلکاروں کو ان کی موجودگی کا پتا چل جائے گا اور انھیں حراستی کیمپ پہنچا دیا جائے گا۔

پیر کے روز نیٹو اتحاد نے کہا ہے کہ اسے پولینڈ کی سرحد پر جاری تناؤ پر تشویش ہے اور وہ خطے میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔

سرحدوں پر تناؤ کی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب کچھ ویڈیوز میں تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں، پولینڈ کی سرحد کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھے گئے۔

کچھ اور ویڈیوز میں وردی میں ملبوس مسلح افراد تارکین وطن کو کسی جانب لے جاتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ پیوتر واورجیک نے بیلاروس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سرحدی گاؤں کوزنیکا بائیولوسٹاکا کے قریب کوئی بڑا واقعہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نائب وزیر خارجہ نے پولش ریڈیو کو بتایا کہ تارکین وطن اجتماعی طور پر سرحد کو عبور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد پولینڈ کے وزیر دفاع ماریوش بلاشٹیک نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے بیلاروس کے ساتھ اپنی سرحد پر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

وزیر دفاع نے ایسی فوٹیج بھی جاری کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد سرحد پر پہنچی ہے لیکن وہ خاردار تار کی وجہ سے وہاں رک گئے ہیں۔

لیکن بعد میں پولش بارڈر گارڈ نے کہا ہے کہ کچھ تارکین وطن نے زبردستی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی ہے۔

ایک اور ڈرامائی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرحدی گارڈز حفاطتی شیلڈ لیے ایک قطار میں کھڑے ہیں اور ہیلی کاپٹر فضا سے نگرانی کر رہا ہے۔

دوسری جانب بیلاروس کے سرحدی محافظوں نے کہا ہے کہ مہاجرین کا ایک بڑا گروہ پولینڈ کی سرحد کی جانب بڑھ رہا ہے۔