’نائیکی جورڈن‘ کے سابق سربراہ کا انکشاف: ’میں نے 56 برس قبل ایک نوجوان کو قتل کیا تھا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جوتے اور ٹریک سوٹ بنانے والی مشہور کمپنی نائیکی کے جورڈن برینڈ کے طویل عرصہ چیئرمین رہنے والے لیری ملر کا کہنا ہے کہ انھوں نے 56 برس قبل سنہ 1965 میں ایک 18 برس کے نوجوان کو امریکی ریاست ویسٹ فلاڈلفیا میں قتل کیا تھا۔
سپورٹس الیوسٹریٹڈ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے انکشاف کیا کہ کیسے انھوں نے سنہ 1965 میں ایک نوجوان کو قتل کر دیا تھا۔
لیری ملر کے مطابق جب وہ محض 16 برس کی عمر میں ایک پشہ ور مجرم تھے تو انھوں نے اپنی عمر سے دو برس بڑے نوجوان کا قتل کیا ’(اس جرم کے بعد) جو مجھے اندر ہی اندر سے کھا رہا تھا۔‘
اس قتل کی پاداش میں لیری ملر نے جیل کی سزا کاٹی۔ ان کے مطابق انھوں نے اس متعلق کوئی جھوٹ نہیں بولا مگر اس نے اسے ایک راز ہی رہنے دیا۔
یہ انکشاف اگلے برس تک ان کی یادوں پر مشتمل کتاب کے شائع ہونے سے قبل سامنے آیا ہے۔
لیری ملر کا کہنا ہے کہ وہ ویسٹ فلاڈلفیا میں 13 برس کی عمر میں سیڈار ایونیو گینگ کا حصہ بنے تھے۔ اس سے پہلے وہ ایک ایسے انتہائی قابل طالبعلم تھے جو اے گریڈ میں ہر امتحان پاس کرتے تھے مگر اب وہ ہر روز شراب پینا شروع ہو گئے۔
لیری کا کہنا ہے کہ جب ان کے ایک دوست کا مخالف گینگ کے ہاتھوں قتل ہوا تو اس وقت وہ 16 برس کے تھے اور انھوں نے اے ڈاٹ 38 بندوق اٹھائی، تین دوستوں کے ساتھ شراب پی اور دوست کے قاتل سے بدلہ لینے نکل پڑے۔
ان کے مطابق 30 ستمبر 1965 کے دن جو پہلا شخص ان کے سامنے آیا انھوں نے اس کے سینے پر گولیاں ماریں۔ قتل ہونے والے 18 برس کے شخص کا نام ایڈورڈ وائٹ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق یہ ان کے لیے ایک بہت مشکل امر بن گیا کہ کیسے انھوں نے بغیر کسی وجہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا۔
لیری ملر نے اپنے ماضی کو صاف کرنے کے لیے اس معاملے کی وضاحت کی ہے جسے اس نے طویل عرصے سے اپنے بچوں، دوستوں اور قریبی کاروباری ساتھیوں سے خفیہ رکھا تھا جو کہ صیحح معنوں میں بہت مشکل تھا۔
انھوں نے سپورٹس الیوسٹریٹڈ کو بتایا کہ ’میں سالہا سال تک اس واقعے سے بھاگتا رہا۔ میں نے اسے خفیہ رکھنے کی کوشش کی اور یہ امید لگائے رکھی کہ لوگوں کو اس بارے میں کچھ پتا نہیں چل سکے گا۔
لیری ملر سنہ 1997 تک نائیکی کا حصہ رہے اور وہ نائیکی باسکٹ بال، جورڈ برینڈ اور کانورس کے معاملات کو روزانہ کی بنیاد پر چلاتے رہے۔
یہ بھی پڑھیے
لیری کرافٹ فوڈز اور کیمپ بیل سوپ کے سابق منتظم رہنے کے علاوہ پورٹ لینڈ ٹریل بلیزرز کی پروفیشنل باسکٹ بال ٹیم کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔
ان کے مطابق انھوں نے ملازمت کے حصول کے لیے اپنی درخواستوں میں جھوٹ کا سہارا نہیں لیا۔
اطلاعات کے مطابق انٹرویو سے قبل لیری ملر نے اپنے قریبی لوگوں، جن میں باسکٹ بال کے لیجنڈ مائیکل جورڈن اور این بی اے کے کمشنر ایڈم سلور شامل ہیں، کو اس واقعے سے متعلق مطلع کر دیا تھا۔
لیری ملر نے یہ کتاب، جو ابھی اشاعت کے مرحلے میں ہے، ’جمپ: مائی سیکرٹ جرنی فرام دی سٹریٹس ٹو دی بورڈروم‘ اپنی سب سے بڑی بیٹی کے ساتھ مل کر لکھی ہے، جس میں اس واقعے کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے اس کتاب میں بچپن میں محتلف جرائم میں قید و بند کے متعدد واقعات کو قلمبند کیا ہے۔
نائیکی کمپنی نے بی بی سی کو ایک بیان میں بتایا کہ لیری ملر کی زندگی ’سیکنڈ چانسز‘ کی حیرت انگیز کہانی ہے۔
کمپنی کے مطابق ہمیں لیری ملر پر فخر ہے اور ان کی زندگی کی کہانی سے جو امید اور حوصلہ دی سکتی ہے۔ نائیکی کے مطابق وہ ایسی پالیسیز کی حمایت کرتے ہیں جن کے تحت سابقہ قیدیوں پر مواقع کے نئے دروازے کھولے جا سکیں اور پھر جو اس کے بعد اپنی زندگی آگے بڑھا سکیں۔
لیری ملر کا کہنا ہے کہ انھیں یہ امید ہے کہ ان کی کہانی خطرات کے دھانے پر موجود نوجوانوں کو تشدد کی زندگی سے باہر نکلنے میں مدد دے سکتی ہے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں کو یہ حوصلہ دے سکتی ہے کہ وہ اس سب کے باوجود بھی معاشرے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ایک شخص کی غلطی یا سنگین غلطی جو وہ اپنی زندگی میں کر گزرتے ہیں وہ ان کی باقی پوری زندگی پر حاوی نہیں ہونی چائیے۔









