چین، تائیوان کے مابین کشیدگی بلند ترین سطح پر، ’کوئی حادثہ ہو سکتا ہے‘

چینی طیارہ

،تصویر کا ذریعہEPA

تائیوان کے وزیر دفاع نے کہا ہے چین کے ساتھ چار عشروں سے جاری کشیدگی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جس میں حادثاتی حملے کا امکان بڑھ چکا ہے۔

تائیوان کے وزیر دفاع چیو کیو چینگ کا یہ بیان چین کے فوجی طیاروں کے مسلسل چوتھے روز تائیوان کی ایئر ڈیفنس حدود میں داخلے کے بعد سامنے آیا ہے۔

تائیوان اپنے آپ کو ایک خود مختار ملک گردانتا ہے جبکہ چین کا موقف ہے کہ وہ چین کا ہی صوبہ ہے جو اس سے علیحدہ ہو گیا ہے۔

چین نے کبھی بھی طاقت کے زور پر تائیوان کو دوبارہ اپنےساتھ ملانے کے امکان کو رد نہیں کیا ہے۔

ون چائنہ پالیسی کیا ہے؟

کئئ عشروں سے امریکی صدور کو اس حساس مسئلے سے نمٹنا پڑا ہے جسے ون چائنہ پالیسی کا نام دیا گیا ہے۔ ون چائنہ پالیسی چینی حکومت کی پوزیشن کو قبول کرنے کا نام ہے۔ اسی پالیسی کے تحت امریکہ نے تائیوان کی بجائے چین کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ چین تائیوان کو اپنا باغی صوبہ گردانتا ہے جو ایک دن مرکزی چین کے ساتھ مل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیئے

امریکہ اور چین کے سفارتی تعلقات ون چائنہ پالیسی کے گرد گھومتے ہیں ۔ چین کا اصرار ہے کہ تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے اور اس کا ایک نہ ایک دن چین سے الحاق ہو جائے گا۔

Honour guards prepare to raise the Taiwan flag in the Chiang Kai-shek Memorial Hall square ahead of the Taiwanese presidential election on 14 January 2016 in Taipei, Taiwan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکیمونسٹوں سے شکست کھانےکے بعد چینی قوم پرستوں نے تائیوان میں اپنی حکومت قائم کر لی تھی

امریکہ کے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں جبکہ اس کے تائیوان کے ساتھ ’غیر سرکاری‘ مضبوط تعلقات ہیں۔ امریکہ تائیوان کو اسلحہ بیچتا ہے تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکے۔

تائیوان کی حکومت اپنے آپ کو ایک خود مختار حکومت گرداتنی ہے اور اپنے آپ کو ریپبلک آف چائنہ کہتی ہے۔ لیکن اگر کوئی چین کے ساتھ تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے تو اسے تائیوان سے تعلقات توڑنے ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سےتائیوان عالمی تنہائی کا شکار ہے۔

ون چائنا پالیسی کی تاریخ؟

اس پالیسی کو سمجھنےکے لیے 1949 تک جانا ہو گا جب چین میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا جس میں کیمونسٹوں نے قوم پرستوں کو ہرا دیا تھا۔ قوم پرست پسپائی کے بعد تائیوان پہنچ گئے اور اسے اپنی حکومت کا مرکز بنا لیا جبکہ کیمونسٹوں نے مرکزی چین میں حکومت قائم کر لی۔ دونوں اپنے آپ کو چین کا نمائندہ کہتے تھے۔

چین کی کیمونسٹ پارٹی کا موقف ہے کہ اگر تائیون نے کبھی باضابطہ طور چین سے آزادی کا اعلان کیا تو طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ البتہ کیمونسٹ چین نے حالیہ برسوں میں تائیوان کے ساتھ سفارتی طور پر نرم روا رکھا ہوا ہے۔

ابتد میں امریکہ سمیت کئی ممالک نے کیمونسٹ چین سے دور رہنے کو ترجیح دی اور تائیوان کو ہی چین تسلیم کر لیا تھا۔ لیکن پھر سفارتی ہواؤں نے رخ بدلا اور امریکہ نے ستر کی دہائی میں کیمونسٹ چین کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے تائیوان سے تعلقات منقطع کر لیے۔

لیکن اب بھی کئی ممالک نے تائیوان سے غیر رسمی تجارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور امریکہ تائیوان کا سب سے اہم سیکیورٹی اتحادی ہے۔

امریکہ نے کب چین کو قبول کیا؟

File photo shows former US President Jimmy Carter and China's paramount leader Deng Xiaoping hugging each other 29 June 1987 in Beijing, after signing an agreement between China and Global 2000

،تصویر کا ذریعہGetty/AFP

،تصویر کا کیپشنصدر جمی کارٹر کے دور میں امریکہ نے 1979 میں چین کو تسلیم کر لیا تھا

امریکہ نے 1979 میں صدر جمی کارٹر کے دور میں کیمونسٹ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، لیکن پھر اسی برس تائیوان ریلشنز ایکٹ ( Taiwan Relations Act) نامی قانون منظور کیا جس میں تائیوان کو حفاظت کی ضمانت دی گئی۔

اس قانون کے تحت امریکہ تائیوان کو اپنے دفاع میں مدد دینے کا پابند ہے جس کے تحت امریکہ تائیوان کو اسلحہ کی فروخت کرتا ہے۔ امریکہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کے پرامن حل کےلیے دونوں فریقوں میں تعمیری بات چیت کا حامی ہے۔

امریکہ کے تائیوان کے سفارتی تعلقات تو نہیں لیکن امریکہ نے تائیوان میں امریکین انسٹیٹوٹ کے ذریعے اپنی غیر رسمی موجودگی برقرار رکھی ہوئے ہے۔ امریکن انسٹیوٹ ایک پرائیوٹ کارپوریشن ہے جو سفارتی سرگرمیاں سرانجام دیتی ہے۔

اس میں فتح کس کی ہوئی ہے؟

یقیناً اس کا فائدہ بیجنگ کو ہوا ہے اور تائیوان سفارتی تنہائی میں چلا گیا ہے۔

تائیوان کو دنیا میں چند ممالک کےعلاوہ کوئی تسلیم نہیں کرتا۔ اسے اولمپکس گیمز، یا ورلڈ ٹریڈ آرگنآئزیشن میں شرکت کے لیے اپنے نام کو تبدیل کرنے کی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے لیکن اس کےباوجود تائیوان مکمل طور پر ناکام نہیں ہوا ہے۔

A handout picture released by the Office of the President Taiwan on 3 December 2016 shows Taiwanese President Tsai Ing-wen having a phone conversation with US President-elect Donald Trump late evening in Taipei, Taiwan, 2 December 2016.

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ نے تائیوان کی صدر سائی اینگ وین سے براہ راست بات کی تھی

تائیوان نے اپنے ہمسائیوں کے ساتھ ثقافتی اور تجارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات کی وجہ سے وہ امریکہ سے مراعات حاصل کرتا ہے۔

تائیوان واشنگٹن میں ایک چھوٹے سے لابی گروپ کے ذریعے اپنے تعلقات قائم رکھتا ہے۔ سابق امریکی سینیٹر باب ڈول کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو تائیوان کے لیے لابی کرتے ہیں ۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ باب ڈول ہی تھے جنھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تائیوان کی صدر سائی اینگ وین سے براہ راست فون پر بات چیت کرنے پر رضامند کیا تھا۔

جہاں تک امریکہ کا سوال ہے چین کے ساتھ اس کے تعلقات میں اس کا فائدہ ہے کیونکہ چین اس کا سب سے بڑا قرض خواہ اور تجارتی پارٹنر ہے۔ لیکن ساتھ ہی امریکہ نے تائیوان کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات قائم کیے ہوئے ہے۔

ون چائنا پالیسی ایک ایسا پچیدہ عمل ہے جس پر عمل کرنےمیں امریکہ نے مہارت حاصل کر رکھی ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اسی توازن کو برقرار رکھ پائےگا۔