ایئر لائنز مستقبل میں مسافروں کے سامان کی گمشدگی کیسے روکیں گی

Cargo being moved at an airport

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, برنڈ ڈیبسمین جونیئر
    • عہدہ, بزنس رپورٹر

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چیف انفارمیشن آفیسر پاسکل بشنر کہتے ہیں کہ ’ایئرلائنز عام طور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال میں زیادہ اچھی نہیں ہوتیں۔‘

آپ میں سے جس کسی کو بھی اپنی فلائٹ میں تاخیر یا منسوخ ہونے کا تجربہ ہوا ہو یا دوران سفر سامان گم ہو گیا ہو وہ شاید اس رائے سے اتفاق کریں گے۔

لیکن اب ایئرلائز کی صنعت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بڑی سرمایہ کاری کے ذریعے اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پاسکل بشنر کہتے ہیں ’اب ہم جانتے ہیں کہ ایئر لائنز کی کارکردگی کا بڑا انحصار ڈیٹا پر ہے۔‘

’جہازوں کی ممکنہ دیکھ بھال، سامان کی منتقلی اور سامان کو ٹریک کرنے سے لے کر مسافروں کے لائلٹی پروگرام تک سب کا انحصار اس پر ہے کہ ان معلومات کا تجزیہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ایئرلائنز کی کامیابی میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہوگئی ہے۔‘

فضائی صنعت سے منسلک ادارے ’ایس آئی ٹی اے‘ کے سینیئر نائب صدر یاک ڈیمیل کا کہنا ہے کہ ایک سفر کے دوران مسافر کو شاید دس مختلف محکموں، ایئرلائنز اور سامان منتقل کرنے والوں کے علاوہ کم از کم دو ایئرپورٹس کے عملے سے ڈیل کرنا ہوتا ہے، اور اس سفر کو ممکن بنانے کے لیے مسافر کی سفری دستاویزات اور سامان کی تفصیلات کے تبادلے کے بغیر اس سفر کا مکمل ہونا ممکن نہیں۔‘

Checked baggage

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے سامان کے گم ہونے کی شرح پچاس فیصد تک کم ہوئی ہے

یاک ڈیمیل کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ برسوں میں مسافروں کی معلومات کے تبادلے میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے۔ مسافروں کو تو شاید اس کا علم بھی نہ ہو لیکن مسافروں کی سفری دستاویزات اور ان کے سامان کی تفصیلات کے تبادلے کے بغیر سفر کا باآسانی مکمل ہونا ممکن ہی نہیں رہا ہے۔

یاک ڈیمیل کہتے ہیں کہ دوران سفر سامان کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے کی صلاحیت اور پھر ان معلومات کے تبادلے سے سامان کے گم ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسافروں کے سامان کی ٹریکنگ کی صلاحیت سے ایئرلائنز کے نرخوں میں 66 فیصد تک بہتری آ سکتی ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے عالمی سطح پر مسافروں کا سامان گم ہونے کے واقعات میں ایک عشرہ پہلے کے مقابلے میں پچاس فیصد تک کمی آ چکی ہے۔

اس بہتری کے باوجود ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ایس آئی ٹی اے کی 2020 کی رپورٹ میں سامنے آیا تھا کہ 2019 میں مسافروں کے لگ بھگ 25.4 ملین بیگ غلط جگہ پہنچ گئے اور اس سے ہوابازی کی صنعت کو تقریباً ڈھائی ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے

کووڈ کی وبا ہوا بازی کی صنعت کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ہوا بازی کی صنعت 2022 میں 2019 کی سطح پر واپس آ پائے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ سنہ 2022 میں ہوا بازی کی صنعت اپنے خسارے کو ختم کر پائے گی۔

اس بہتری کے لیے انھیں بہت سی معلومات کو اکٹھا کرنا ہوگا۔

اطلاعات کی فوری فراہمی کے سبب ایئرپورٹ اپنے وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کر سکتے ہیں جیسے کتنے چیک آؤٹ کاؤنٹرز کی ضرورت ہے اور بیگیج کی منتقلی کے لیے کتنے عملے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح موسمی حالات اور فلائٹ کی منسوخی جیسے معاملات پر بھی فوری معلومات کے تبادلے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔

Air Canada plane with cargo

،تصویر کا ذریعہAir Canada

،تصویر کا کیپشنایئر کینیڈا اب فون ایپس کے ذریعے معلومات اپنے عملے تک پہنچاتی ہے

یاک ڈیمیل کہتے ہیں کہ کووڈ کے بعد مسافروں کی معلومات بہت اہم ہوں گی۔

ایئر کینیڈا نیویارک کی کمپنی سینس کے تیارہ کردہ پلیٹ فارم کو استعمال کر رہی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے تمام عملے بالخصوص فرنٹ لائن پر کام کرنے والے عملے تک معلومات پہنچاتی ہے۔

ایئر کینیڈا کے مینیجر سیفٹی اینالیٹِکس اور اِنوویشن شاول شیلیو کا کہنا ہے کہ ’ہم پیمائش سے ہی بہتری لا سکتے ہیں اور پیمائش کا عمل فوری معلومات کی فراہمی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔‘

پہلے ڈیٹا کی منتقلی ای میل الرٹس، پی ڈی ایف اور ڈیش بورڈز کے ذریعے ہوتی تھی لیکن اب ایئر کینیڈا ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مختلف ایپس، ڈیجیٹل گھڑیوں اور تھری ڈی کے استعمال سے معلومات کا تبادلہ کر رہی ہے۔

شاول شیلیو کہتے ہیں کہ صحیح وقت پر صحیح لوگوں تک معلومات پہنچانا بہت ضروری ہے۔ ’میں ایک صارف سے یہ توقع نہیں کرتا کہ وہ اپنا کام چھوڑ کر دفتر جائے اور وہاں سے ایک پی ڈی ایف فائل کا پرنٹ لے یا ڈیش بورڈ یا ای میل کو پڑھ کر معلومات حاصل کرے۔‘

لیکن اب ایئر کینیڈا کے مسافر صرف چند کلکس کے ذریعے ان تمام معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جنھیں حاصل کرنے کے لیے پہلے انھیں کئی دن لگ جاتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگلا قدم یہ ہے کہ مسائل کو پیدا ہونے سے پہلے ان کا پتہ چلایا جائے۔

ذرا سوچیں کہ جہاز کے ایک پرزے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اگر ٹیکنالوجی کی مدد سے اس پرزے کی مدت ختم ہونے سے پہلے یہ فیصلہ ہو جائے کہ اسے کب اور کہاں تبدیل کرنا ہے، تو اس سے وقت بچایا جا سکتا ہے۔

امیریکن ایئرلائنز میں کارگو کے نظام کو مربوط بنانے کے لیے ایک سو مختلف سسٹمز کو دس سسٹمز میں اکٹھا کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی سے آٹھ ہزار سٹاف ممبرز اور 30 ہزار مسافروں کے کام پر فرق پڑا ہے۔

امیریکین ایئرلائنز کارگو پریزیڈنٹ جیسیکا ٹیلر کا کہنا ہے کہ اب مسافروں کے رویے، سامان کی روانگی کی معلومات فوری طور پر مہیا ہو پا رہی ہیں۔

’کئی بار ہم رجحانات کو دیکھ کر سامان کی روانگی میں پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل کو بھانپ کر انھیں پہلے ہی حل کر لیتے ہیں۔‘