گرمی کے نئے ریکارڈ: کینیڈین صوبے برٹش کولمبیا میں 486 افراد ہلاک، گرمی کی لہر مشرقی علاقوں کی طرف بڑھنے لگی

Woman trying to keep cool

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کینیڈا کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے دوران سینکڑوں اموات کی ملنے والی اطلاعات میں سے زیادہ تر اموات گرمی کے باعث ہونے کا شبہ ہے۔

کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں ہی صرف گذشتہ پانچ روز کے دوران 486 اموات ہوئی ہیں جو کہ اس عرصے کے دوران معمول سے 195 فیصد زیادہ شرح ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ چند روز سے پورے شمالی امریکہ میں ریکارڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کی چیف کورونر لیزا لاپونٹے کا بدھ کو کہنا تھا کہ ’یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں اچانک اضافے کی خبروں کا تعلق ہمارے صوبے میں جاری گرمی کی شدید لہر سے ہے جو بہت سے علاقوں کو متاثر کر رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں زیادہ تر وہ تھے جو ایسے گھروں میں اکیلے رہتے تھے جو ہوا دار نہیں تھے۔‘

بدھ کی شام کو صوبے برٹش کولمبیا کے قصبے لٹن کو جنگل میں آگ لگنے کے بعد خالی کروا لیا گیا تھا۔ وینکور سے 155 میل شمال میں واقعے ایک چھوٹے سے قصبے لٹن میں منگل کے روز 49 اعشاریہ چھ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔

یہاں کے میئر جان پولڈرمین نے سی بی سی نیوز کو بتایا کہ 'تمام قصبے میں آگ لگی ہوئی تھی، پہلی چنگاری سے لے کر ہر طرف آگ پھیلنے تک میں صرف 15 منٹ لگے تھے۔'

کہا جا رہا ہے کہ شمال مغربی امریکہ اور کینیڈا میں گرمی کی لہر کی وجہ آرکٹک خطے کی ہائی پریشر گرم ہوائیں ہیں۔ ساحلی علاقوں میں گرمی کی شدت میں قدرے کمی آئی ہے لیکن میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت برقرار ہے۔

کینیڈا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبرٹش کولمبیا کی پارلیمان کی عمارت کے باہر لوگ اپنے آپ کو فوارے کے پانی سے ٹھنڈک پہنچاتے ہوئے

کینیڈا کے محکمہ موسمیات نے ہیٹ ویو کا انتباہ جاری کیا ہے اور اب ہیٹ ویو کا یہ نظام مشرق کی جانب کینیڈا کے البرٹا اور سسکاچوان صوبے اور مانبٹوٹا کے علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔

برٹش کولمبیا کی رہائشی جینس ہوڈورتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گذشتہ چار روز سے گھر سے باہر نہیں نکلی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنی 70 سالہ زندگی میں اتنی گرمی پہلے نہیں دیکھی ہے۔ ہم نے تمام کھڑکیوں کو کالا کر دیا ہے، 24 گھنٹے پنکھے چل رہے ہیں، اہم پیروں کو ٹھنڈے پانی میں ڈال رہے ہیں، بار بار نہا رہے ہیں اور بہت سا پانی پی رہے ہیں۔‘

برٹش کولمبیا کے سربراہ جان ہارگن نے کہا ہے کہ صوبے کو تاریخ کے گرم ترین ہفتے کا سامنا ہے اور اس کے فیملیز اور کمیونٹیز کے لیے تباہ کن نتائج نکل رہے ہیں۔

جمعے تک وینکوور میں ہی صرف گرمی کی لہر کہ باعث 65 افراد کی ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔

لٹن میں کیا ہو رہا ہے؟

بدھ کو وینکوور کے شمال مشرق میں تقریباً 260 کلومیٹر دور ایک گاؤں کو جب دھوئیں اور آگ کے شعولوں نے اپنی لپیٹ میں لیا تو بہت سے رہائشی اپنا سازو سامان چھوڑ کر وہاں سے نکل گئے۔

میئر جان پولڈرمین نے 18:00 بجے انخلا کے آرڈر پر دستخط کرنے کے بعد سی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’پورے شہر میں آگ لگی ہوئی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایک علاقے میں آگ ایک دیوار کی طرح تین، چار فٹ اونچی باڑ تک آرہی تھی۔‘

سی بی سی کی محکمہ موسمیات کی ماہر جوہانا واگسٹاف نے اطلاع دی تھی کہ بدھ کی شام 71 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز رفتار ہواؤں نے اس آگ کو شمال میں دھکیل دیا تھا۔ علاقے میں گرم ، خشک اور تیز ہواؤں کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آگ 10 یا 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے۔

وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا اظہار افسوس

کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے ان درجنوں افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا جو ملک میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے متاثرین کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ موسم کی یہ لہر ہمارے لیے یاد دہانی ہے کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔

گذشتہ کئی روز سے پورے شمالی امریکہ میں ریکارڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔ وینکوور میں پولیس نے جمعہ سے اب تک اچانک اموات کی 130 اطلاعات پر کارروائی کی ہے۔ ان اموات میں اکثریت عمر رسیدہ افراد یا ایسے افراد کی ہے جو پہلے سے کسی عارضے میں مبتلا تھے۔ اتوار سے پہلے کینیڈا میں کبھی درجہ حرارت 45 ڈگری سے زیادہ نہیں ہوا تھا۔

کینیڈا

،تصویر کا ذریعہReuters

کاناٹا اونٹاریو میں سستے گھروں کے منصوبوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹروڈو نے گرمی کی شدید لہر کے باعث ہلاک ہونے کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور گرمی کی لہروں کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ 'وفاقی حکومت ہمیشہ کی طرح ان افراد کی مدد کے لیے موجود ہے۔

ٹروڈو نے کہا کہ گرمی کی لہروں کے دورانیوں میں اضافہ گذشتہ کئی برسوں سے دیکھنے میں آ رہا ہے 'حقائق دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ گرمی کی لہر آخری نہیں ہو گی۔' انھوں نے ایک مرتبہ پھر کینیڈا کی موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عزم دہراتے ہوئے کہا کہ ہمیں ’اپنے آج اور مستقبل کے لیے اپنی ہوا اور معیشت کو صاف بنانا ہے۔‘

ہیٹ ویو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

'ہم گرمی کے عادی ہیں لیکن 30 ڈگری اور 47 ڈگری میں بہت فرق ہے'

وینکور سے 155 میل شمال میں واقعے ایک چھوٹے سے گاؤں لٹن میں منگل کے روز 49 اعشاریہ چھ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ لٹن کی رہائشی میگھن فینڈرک نے کہا اب گھر سے باہر نکلنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ گھروں کے اندر ہی رہیں۔ انھوں نے کہا 'ہم گرمی کے عادی ہیں لیکن 30 ڈگری اور 47 ڈگری میں بہت فرق ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ناقابل برداشت ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ انھوں نے اپنی نو عمر بیٹی کو خاندان کے ساتھ برٹش کولمبیا میں کہیں اور رہنے کے لیے بھیجا ہے جہاں درجہ حرارت قدرے کم ہے۔ برٹش کولمبیا کے اکثر گھروں میں ایئرکنڈیشن کی سہولت نہیں ہے کیونکہ وہاں عام طور پر موسم معتدل ہوتا ہے۔

وینکوور کے ایک رہائشی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہوٹلوں میں ایئرکنڈیشنگ کی سہولت کی وجہ سے شہر کے تمام ہوٹل مکمل طور پر بھر چکے ہیں۔

'میں نے کبھی اس طرح کا موسم پہلے نہیں دیکھا اور امید کرتا ہوں کہ پھر کبھی ایسا نہیں ہو گا۔'

کینیڈا کے محکمہ موسمیات 'اینوائرمنٹ کینیڈا' نے برٹش کولمبیا اور البرٹا صوبوں میں گرم موسم کی وارننگ جاری کی ہے۔ گلوبل نیوز کے جوڈی ہیوز نے بی بی سی کو بتایا کہ اس گرم موسم کی وجہ سے جنگلوں میں آگ لگنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور آگ پر قابو والا عملہ تشویش کا شکار ہے۔

محکمہ موسمیات کینیڈا نے برٹش کولمبیا، البرٹا، شمال مغربی علاقوں اور یوکون میں رہنے والوں کے لیے ہیٹ ویو کا انتباہ جاری کیا ہے۔

A girl cools down in Richmond, British Columbia

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ بھی پڑھیے

کیا گرمی کی لہر کو موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے؟

میٹ میگرا کا تجزیہ، نامہ نگار برائے ماحولیات

میں نے سائنس دانوں سے سنا ہے جو کہتے ہیں کہ صرف چند ہی دنوں میں وہ اس بات کا تعین کر لیں گے کہ برٹش کولمبیا میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت میں انسانوں نے کتنا حصہ ڈالا ہے۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ رات کو برٹش کولمبیا میں درجہ حرارت دو سینٹی گریڈ مزید بڑھ جاتا ہے اور رات کو بھی عوام کو یہاں راحت نہیں مل رہی جو کہ عام دنوں میں موسم گرما کے درجہ حرارت سے زیادہ ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں مسلسل گرمی کا رہنا انسانوں کے لیے بہت خطرناک ہے۔ گذشتہ برس ایک تحقیق شائع ہوئی تھی جس میں اس بات کی جانب اشارہ کیا گیا تھا کہ بڑھتے درجہ حرارت کی تعلق گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کے باعث ہے۔

قدرتی تغیر اور مقامی عوامل جیسے سمندری ہوائیں شدید گرمی کے اثرات کو بڑھا یا محدود کرسکتے ہیں۔ عالمی سطح پر بڑھتا ہوا درجہ حرارت تمام واقعات کو متاثر کر رہا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر فریڈرائک اوٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ 'آج پیدا ہونے والی گرمی کی ہر لہر کو زیادہ شدید بنانے میں انسانی کے پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہیں۔'

'کینیڈا کی اس ہیٹ ویو میں موسمیاتی تبدیلی ایک وجہ ہے لیکن یہ ہی صرف ایک وجہ نہیں ہے۔'

People look for ways to cool off in British Columbia

،تصویر کا ذریعہReuters

حتی کہ اگر وہ براہ راست اس کا موسمیاتی تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں جوڑ سکتے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر درجہ حرارت بڑھنے کی نشانیاں ہر جگہ پر موجود ہیں۔

کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور امریکی صدر بائیڈن دونوں نے گرمی کی شدید لہر کے دوران جنگلات میں آگ لگنے کے امکانات پر خبردار کیا ہے۔ بدھ کو صدر بائیڈن نے مغربی ریاستوں کے گورنروں اور آگ پر قابو پانے والے حکام سے ملاقات کی۔

ہیٹ ویو نے امریکہ کو کیسے متاثر کیا ہے؟

امریکہ کے شمال مغربی علاقے بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور وہاں بھی گرم موسم کی شدت کی وجہ سے اموات ہوئی ہیں۔ امریکہ کے نیشنل ویدر سروس کے مطابق حالیہ گرمی کی لہر سنہ 1940 کے بعد سے اب تک کی سب سے شدید لہر ہے۔

اسی طرح امریکی شہروں پورٹ لینڈ اور سیئیٹل میں بھی ریکارڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یو ایس نیشنل ویدر سروس کے مطابق اوریگون کے علاقے پورٹ لینڈ میں درجہ حرارت 46.1 سینٹی گریڈ (115 فارن ہائیٹ) اور سیئٹل میں 42.2 سینٹی گریڈ (108 فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا۔

اوریگون میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران گرم موسم کے باعث کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 45 کا تعلق ملٹنوماہ گاؤں سے ہے۔ جبکہ ریاست واشنگٹن کی گاؤں کنگ اور سنہومش میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اپنی تقریر میں گرمی کی لہر کو موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ جوڑا ہے۔

پورٹ لینڈ میں اتنی گرمی پڑ رہی ہے کہ پائپ تک گرمی سے پھٹ گئے ہیں اور اسی وجہ سے اتوار کے روز پورٹ لینڈ سٹریٹ کار سروس کو اپنا کاروبار بند کرنا پڑا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

واشنگٹن کے علاقے سپوکین میں بجلی فراہم کرنے والی ایک سروس نے بجلی کی بڑھتی مانگ سے نمٹنے کے لیے لوڈ شیڈنگ شروع کر دی ہے کیونکہ رہائشی ایئر کنڈیشنر چلا رہے ہیں۔

سیئیٹل کے ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ واشنگٹن کا شہر صحرا کی طرح محسوس ہو رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’عام طور پر 60، 70 ڈگری کو بہتر دن سمجھا جاتا ہے اور ہر کوئی شارٹس اور ٹی شرٹس میں پہنے نظر آتا ہے لیکن یہ گرمی تو ناقابلِ برداشت ہے۔‘

People rest at the Oregon Convention Centre cooling station in Oregon, Portland

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنپورٹ لینڈ کے رہائشیوں نے ٹھنڈے مراکز کا رخ کیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہیٹ ویو جیسے انتہائی شدید موسمی واقعات کی تعدد میں اضافہ متوقع ہے۔ تاہم کسی بھی واقعہ کو گلوبل وارمنگ سے جوڑنا پیچیدہ معاملہ ہے۔