آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسرائیل میں نئی قسم کے قدیم انسان کی باقیات دریافت
- مصنف, پلاب گھوش
- عہدہ, نامہ نگار سائنس
اسرائیل میں محققین نے ایسے نئی قسم کے قدیم انسانوں کی باقیات کی شناخت کی ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے وہ ایک لاکھ سال قبل ہماری نسل کے انسانوں کے ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ راملہ شہر کے نزدیک دریافت کی جانے والی باقیات ایک انتہائی قدیم انسانوں کی نسل کے ’آخری بچ جانے والوں‘ کی ہیں۔
اس دریافت میں ایک ایسے انسان کی کھوپڑی اور جبڑا ملے ہیں جو 140000 سے 120000 سال قبل یہاں رہتا تھا۔
اس دریافت کی تفصیلات سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہوئی ہیں۔
محققین کی ٹیم کے مطابق یہ انسان اس نسل سے تعلق رکھتا ہے جو اس خطے میں لاکھوں سال قبل پھیل گئی تھی اور انھی کی نسل سے یورپ میں نینڈرتھل آئے تھے۔
سائنسدانوں نے اپنی اس دریافت کو ’نیشر رملاہ ہومو‘ کا نام دیا ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی کی ڈاکٹر ہلا مے نے کہا کہ اس دریافت کے انسانی ارتقا کی کہانی بدل سکتی ہے، بالخصوص نینڈرتھل نسل کے انسانوں کے بارے میں۔
نینڈرتھلز کے ارتقا کو عمومی طور پر یورپ سے جوڑا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'یہ سلسلہ اسرائیل میں شروع ہوا۔ ہمارا خیال ہے کہ یہاں کا ایک مقامی گروپ اس آبادی کا ذریعہ تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نیشر رملہ نسل کے لوگ مشرق وسطی سے پھر یورپ منتقل ہوتے چلے گئے۔‘
محققین کی اس ٹیم کا کہنا تھا کہ اس گروپ سے تعلق رکھنے والے پہلے ممبران کوئی چار لاکھ برس قبل موجود تھے۔ محققین کو اس نسل میں اور یورپ میں ملنے والے نینڈرتھلز نسل سے بھی پہلے کے انسانوں میں کچھ مماثلت نظر آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
تل ابیب یونیورسٹی کی ڈاکٹر ریچل سارگ کہتی ہیں کہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ہم نے لیوانت (بحیرۂ روم کا مشرقی علاقہ) میں رہنے والے ماضی کے انسانوں میں سے کوئی تعلق جوڑا ہو۔
’قاسم، زوتیاہ اور تبون کی غاروں سے ایسے کئی انسانی فوسلز ملے ہیں جنھیں ہم اس زمانے میں موجود ہیں انسانوں کے کسی مخصوص گروہ سے منسوب نہیں کر سکت۔ لیکن ان کی شکلوں کا نوشیر رملا سے ملنی والی نئی باقیات سے موازنہ کرنے سے (نئے انسانی) گروہ میں ان کی شمولیت کا جواز بنتا ہے۔‘
ڈاکٹر مے کے مطابق یہ انسان نینڈرتھل نسل کے آباؤ اجداد تھے۔
’یورپی نینڈرتھل دراصل یہاں لیوانت سے شروع ہوئے تھے اور پھر یورپ ہجرت کر گئے، جبکہ انسانوں کے دوسرے گروہوں کے ساتھ ان کے جنسی تعلق سے بچے پیدا ہوتے رہے۔
پروفیسر اسرائیل ہرشکوٹز کہتے ہیں کہ باقی کچھ افراد مشرق میں انڈیا اور چین کی طرف نکل گئے۔ اس طرح وہ یورپ میں قدیم مشرقی ایشیائی انسان اور نینڈرتھلز کے درمیان تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مشرقی ایشیا میں دریافت ہونے والے کچھ فوسلز کی خصوصیات نیشر راملہ کی طرح نینڈرتھل سے ملتی جلتی ہیں۔
محققین کہتے ہیں کہ ان کے دعوے اس بنیاد پر ہیں کہ اسرائیل میں ملنے والے فوسلز اور یورپ اور ایشیا سے ملنے والے فوسلز میں کئی خصوصیات مشترک ہیں، اگرچہ ان کا یہ دعویٰ متنازعہ ہے۔ لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم سے تعلق رکھنے والے پروفیسر کرس سٹرنگر حال ہی میں چینی انسانی باقیات کا مطالعہ کر رہے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’نیشر رملہ اس لیے اہم ہے کہ یہ تصدیق کرتی ہے کہ زحتلف سپیشیز اُس وقت خطے میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتی تھیں اور اب ہمارے پاس مغربی ایشیا میں بھی یہی کہانی ہے۔‘
’تاہم، میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت اسرائیل کے کچھ پرانے فوسلز کو نینڈرتھلز سے جوڑنا ایک دور کی کوڑی ہے۔ میں نیشر رملہ اور چین کے فوسلز کے مابین کسی تعلق کی بات پر بھی حیران ہوں۔‘
نیشر رملہ کی باقیات ایک ایسی جگہ سے ملی تھیں جو کبھی ایک سنک ہول ہوا کرتا تھا، اور اس علاقے میں قدیم انسان آیا کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ وہ علاقہ رہا ہو جہاں وہ جنگلی جانوروں، گھوڑوں اور ہرنوں کا شکار کرتے ہوں، جسکا اشارہ ہزاروں پتھر کے آلے اور شکار کیے گئے جانوروں کی ہڈیوں سے ملتا ہے۔
یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے ڈاکٹر یوسی زیدنر کے ایک تجزیے کے مطابق یہ اوزار بھی اسی انداز میں بنائے گئے تھے جس طرح اس وقت کے جدید انسان نے اپنے لیے بنائے تھے۔
ڈاکٹر زیدنر کہتے ہیں کہ ’یہ حیران کن بات ہے کہ قدیم انسان بھی اسی طرح کے آلات استعمال کر رہے تھے جو عموماً ہومو سیپیئنز یا موجودہ نسل کے انسان استعمال کرتے تھے۔‘
’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف اسی طرح ممکن ہے کہ آلات کو (بنتا) دیکھ کر یا زبانی طریقے سے سیکھ کر ہی بنایا جا سکتا ہے۔ ہماری دریافتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی ارتقا بالکل سادہ نہیں ہے اور اس میں انسان کی مختلف سپیشیز کے درمیان بہت سا انتشار، روابط اور تعامل شامل ہے۔‘