آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ: میامی میں 12 منزلہ رہائشی عمارت منہدم، چار افراد ہلاک، 159 لاپتہ
امریکی ریاست فلوریڈا میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز میامی شہر کے شمال میں 12 منزلہ عمارت گرنے سے کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ 159 لاپتہ ہو گئے ہیں۔
میامی کے مئیر نے کہا ہے کہ انھیں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی ’امید ابھی بھی ہے۔‘
لوگوں کو تلاش کرنے والی ٹیموں کے مطابق انھوں نے ملبے کے نیچے سے لوگوں کی آوازیں سنی ہیں تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ 40 برس قدیم اس عمارت کے گرنے کی وجہ کیا تھی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ’عمارت بری طرح سے پچک گئی ہے۔ دو منزلوں کے بیچ کا فاصلہ کو دس فٹ ہوتا تھا اب محض ایک فٹ رہ گیا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ اس میں کسی کے زندہ نکلنے کے امکانات بہت کم ہیں۔‘
یہ عمارت 1980 میں تعمیر کی گئی تھی اور 130 ہاؤسنگ یونٹوں میں سے نصف حصے اس کے منہدم ہونے سے متاثر ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاطینی امریکہ سے آنے والے تارکین وطن اس واقعے میں لاپتہ ہیں۔
حکام نے بتایا کہ امدادی عملے نے 35 افراد کو ملبے کے نیچے سے نکالا ہے ، جن میں سے 10 کو طبی امداد دی گئی اور دو کو ہسپتال بھیج دیا گیا۔
جمعرات کی سہ پہر فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے جائے حادثہ کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا ’ٹی وی میں کچھ بھی نہیں دکھائی دے رہا، حقیقت میں یہ بہت بہت تکلیف دہ ہے، اتنی بڑی عمارت کا انہدام دیکھ کر واقعی تکلیف پہنچتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا ’میں فلوریڈا کے شہریوں سے کہتا ہوں، آپ جو بھی مدد چاہتے ہیں ، وفاقی حکومت جو بھی کر سکتی ہے ، ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہیں ، ہم آپ کے ساتھ رہیں گے۔‘
یہ 9/11 کی طرح لگ رہا تھا
امدادی کارکنوں کو قریبی اپارٹمنٹس میں رہائشیوں تک پہنچنے میں مدد کے لیے کرین کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
ایک راہ گیر نے اپنے بھائیوں اور ان کے کتے کے ساتھ چلتے ہوئے عمارت کے گرنے کی آواز سنی۔
انھوں نے سی بی ایس میامی کو بتایا کہ ’ ہم نے واقعی ایک بہت بڑا دھماکا سنا، ہم نے سوچا کہ یہ موٹرسائیکل ہے، ہم نے مڑے تو راستے میں دھول کے بادل کو دیکھا۔‘
انھوں نے مزید کہا ’ہم پوچھ رہے تھے (کیا ہو رہا ہے؟) ہم اس کی طرف بڑھے اور اپنے چہروں پر قمیضیں ڈالیں اور سیکیورٹی گارڈ باہر آگیا، ہم نے پوچھا (کیا ہوا؟) اور اس نے کہا کہ عمارت گر گئی۔‘
نائن الیون حملوں کے بعد ہونے والی تباہی کے عینی شاہد ایک شخص نے سی این این کو بتایا کہ یہ بالکل نائن الیون جیسا لگ رہا تھا۔
50 سالہ سانٹو میگوئل نے بتایا کہ وہ اپنی بیوی کی فون کال سے جاگے جو زیمپین ٹاورز کی تین عمارتوں میں سے ایک کی نویں منزل پر ایک معذور عورت کی دیکھ بھال کر رہی تھیں۔
میگوئل نے میامی ہیرالڈ کو بتایا ’(ان کی اہلیہ) نے کہا کہ انھوں نے ایک بڑا دھماکا سنا ہے۔ یہ زلزلے کی طرح محسوس ہوا۔‘ ان کی اہلیہ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھیں بچا لیا گیا ہے۔
قریبی عمارت میں رہنے والے ایک شخص نے بتایا کہ ’پوری عمارت لرز اٹھی اور پھر میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا لیکن مجھے کچھ نظر نہیں آیا۔ مجھے لگا تھا کہ یہ طوفان جیسی کوئی چیز ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’جب مٹی صاف ہو گئی تو میں نے دیکھا کہ عمارت کے پیچھے سے دو تہائی عمارتیں زمین پر گر گئیں۔‘