بوتل میں ملنے والے پیغام نے سمندر پار دو لڑکوں کو دوست بنا دیا

A stock image of a message in a bottle

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشان سمتھ کا کہنا ہے کہ سنہ 2018 میں انھوں نے ایسی کئی بوتلیں سمندر میں پھینکی تھیں

تین سال قبل شیشے کی بوتل میں ڈالے گئے ایک پیغام نے بحرِ اوقیانوس کی دو مخالف سمتوں میں رہنے والے دو نو عمر لڑکوں کو آپس میں ملا دیا ہے۔

بوتل میں ڈالا گیا یہ پیغام تین سال تک پانیوں میں تیرتا رہا۔

16 برس کے شان سمتھ نے سنہ 2018 میں اس پیغام کو امریکہ کی مشرقی ریاست رہوڈ آئی لینڈ میں چھٹیوں کے دوران بھیجا تھا۔

اس پیغام میں انھوں نے لکھا تھا: آج تھینکس گیونگ کا دن ہے۔ میں 13 سال کا ہوں اور رہوڈ آئی لینڈ میں اپنے خاندان سے ملنے آیا ہوں۔ میرا تعلق ورمونٹ سے ہے۔ اگر کسی کو یہ پیغام ملے تو اس آئی ڈی [email protected] پر مجھے ای میل کریں۔‘

تین سال بعد یہ پیغام 3000 میل (4820 کلومیٹر) دور ملا ہے۔

17 برس کے کرسچن سانتوس کو یہ بوتل مشرقی بحرِ اوقیانوس کے پرتگالی جزیرے آزورز میں ملی۔

انھوں نے بوسٹن گلؤو اخبار کو بتایا کہ وہ اپنے کزن کے ساتھ مچھلیاں پکڑ رہے تھے، اور جس جگہ سے وہ باقاعدگی سے کوڑا کرٹ اٹھاتے ہیں وہاں پر انھوں نے اس بوتل کو دیکھا۔

کرسچن نے بتایا ’میں نے اسے اٹھا کر اندر دیکھا تو وہاں ایک کاغذ موجود تھا۔ مجھے یہ دلچسپ لگا اور میں اسے اپنی ماں کو دکھانے کے لیے گیا تھا۔‘

ان کی والدہ مولی سانٹوس نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ یہ پیغام میساچوسٹس کے قریب سے آیا ہے، جہاں وہ پیدا ہوئے تھے اور ازورز منتقل ہونے سے قبل وہیں رہتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اس پیغام کو لکھنے والے کے بارے میں مزید جاننے کے تجسس میں، کرسچن اور ان کی والدہ نے بوتل کے اندر موجود ہدایات پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے ایک ای میل بھیجی، لیکن جواب نہیں ملا کیونکہ شان بوتل کے بارے میں طویل عرصے سے بھول چکے تھے اور آنے والی جوابی ای میلز نہیں پڑھ رہے تھے۔

آخر کار ان تک یہ پیغام پہنچ ہی گیا۔ لیکن کیسے؟

دراصل کرسچن کی والدہ نے گذشتہ سنیچر اس پیغام کے بارے میں ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس سے میڈیا کو اس میں دلچسپی پیدا ہوئی۔

Facebook پوسٹ نظرانداز کریں

مواد دستیاب نہیں ہے

Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.

Facebook پوسٹ کا اختتام

ایک ہفتے بعد، شان نے اپنے پیغام کے متعلق ایک خبر دیکھی۔

شان نے بی بی سی پارٹنر سی بی ایس نیوز کو بتایا ’میرا پہلا رد عمل کچھ ایسا تھا، یہ کیا ہو گیا؟‘

انھوں نے بتایا کہ یہ بوتل ان متعدد بوتلوں میں سے ایک تھی جسے انھوں نے سنہ 2018 میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ مل کر سمندر میں پھینکا تھا۔

شان نے بتایا کہ ان میں سے کافی سارے پیغام کچھ عرصے بعد کسی نہ کسی کو مل گئے تھے لیکن پھر ڈھائی سال بعد میں اس بارے میں مکمل طور پر بھول گیا تھا۔

اب شان کے پاس ایک اچھی یاد کے علاوہ ایک دوست بھی ہے۔۔ جسے وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔

شان کا کہنا ہے ’میار خیال ہے کہ ہم رابطے میں رہنے کی کوشش کریں گے۔ یہ ایک بہت خاص واقعہ ہے۔‘