دوسری عالمی جنگ: تائیوان کے حراستی کیمپوں میں جنگی قیدی جنھیں جانوروں کی طرح رکھا گیا

،تصویر کا ذریعہMichael Hurst
- مصنف, سنڈی سوئی
- عہدہ, بی بی سی نیوز، تائیپے
تائیوان کے شمال مشرقی ساحل پر پہاڑوں میں گھرا جنگواشی ایک سیاحتی مقام ہے جو کان کنی کی جگہ ہوا کرتی تھی۔ لیکن اس سبزے اور ساحل کے مناظر کے نیچے تاریخ کا سیاہ باب دفن ہے۔
یہ کنکاسیکی کیمپ کا مقام بھی تھا جو ایک درجن سے زیادہ جنگی قیدیوں کے کیمپوں میں سے ایک تھا۔ یہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران اتحادی فوج کے قریب 4350 فوجیوں کو قید کیا گیا تھا۔
اس وقت تائیوان جاپان کا ایک نوآبادیاتی علاقہ ہوا کرتا تھا۔ سنہ 1942 سے 1945 کے درمیان جاپانی فوج کی جانب سے یہاں قید کیے گئے فوجیوں سے مشکل حالات میں تانبے کی کانوں میں زبردستی مزدوری کرائی جاتی تھی۔
کیمپوں میں گنوں کی فارمنگ، چاولوں کی فصل کے لیے مصنوعی جھیل اور پانی ملے سبزیوں کے سوپ کے لیے ان قید فوجیوں سے جبری طور پر بڑے پتھر اٹھوائے جاتے تھے۔
کئی فوجی بیریبیری کی بیماری میں مبتلا ہو گئے جس میں وٹامن کی کمی سے ان کی ٹانگیں اور ٹیسٹیکل (خصیوں) میں سوجن ہو جاتی تھی لیکن اس کے باوجود ان سے زبردستی کام لیا جاتا تھا۔
موسم گرما میں ان قیدیوں کو 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجۂ حرارت میں تانبے کی کانوں میں کام کرنا پڑتا تھا اور سردیوں میں موسم کی شدت کی وجہ سے کئی اموات ہوتی تھیں۔ اگر وہ یومیہ اہداف پورے نہ کرتے تو انھیں کان کنی کے ہتھوڑے سے ضرب لگائی جاتی۔
کئی دہائیوں بعد اب ان کیمپوں کو بھلا دیا گیا ہے۔ اب یہاں اس سیاہ تاریخ یا جنگی قیدیوں کا کوئی نام و نشان نہیں۔ مگر کینیڈین تاریخ دان مائیکل ہرسٹ یہ بدلنا چاہتے تھے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ غلاموں سے جبری مشقت کرنے کے کیمپ تھے۔۔۔ مجھے احساس ہوا کہ ہمیں ان قیدیوں کو ڈھونڈ کر ان کی کہانی سننا ہو گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
73 سالہ ہرسٹ سنہ 1988 سے تائیوان میں رہائش پذیر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMichael Hurst
گذشتہ دو دہائیوں میں انھوں نے تائیوان میں ان کیمپوں کے اصل مقام کو ڈھونڈ کر یہاں یادگار قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہاں قید ہزاروں قیدیوں کی کھوج میں وہ ایسے 800 افراد سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انھوں نے ان کے ساتھ اپنی بات چیت کو اپنی کتاب ’نیور فرگاٹن‘ میں قلمبند کیا ہے۔
ان میں سے تمام افراد اب وفات پا چکے ہیں لیکن ایک سابقہ قیدی زندگی ہے۔ ان کی عمر 100 برس سے زیادہ ہے۔
ہرسٹ کا کہنا ہے کہ ’ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہاں مرنا آسان تھا مگر ہر روز زندہ رہنا مشکل۔‘
’میں ان کی کہانیوں سے بہت متاثر ہوا اور مجھے ان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ پر حیرانی ہوئی۔۔۔ میں نے کئی بار اس پر آنسو بہائے۔ وہ اپنے دل کی باتیں مجھے بتا رہے تھے، وہ باتیں جو شاید انھوں نے اپنے خاندان والوں کو بھی نہیں بتائیں۔‘
ہرسٹ کا اس منصوبے سے ذاتی تعلق بھی ہے۔ ان کے رشتہ دار یورپ میں تعینات رہے تھے اور وہ ہمیشہ ہی سے جنگ میں زندہ بچنے والوں کو خراج تسحین پیش کرنا چاہتے تھے۔
وہ تسلیم کرتے ہیں کہ بحر الکاہل کی جانب جنگ میں کی جانے والی کوششوں کو اتنا سراہا نہیں گیا۔ حتٰی کہ اس علاقے میں تین کروڑ اموات ہوئی تھیں۔
’ہم ہمیشہ بھوکے ہوتے تھے‘
جاپانی انخلا سے اتحادیوں کے دفاع کے لیے پورے دنیا سے فوجی ایشیا بھیجے گئے تھے۔ ہرسٹ بتاتے ہیں کہ تائیوان میں سینیئر فوجی افسران ہوتے تھے اور انھیں اس خطے میں سب سے بے رحم سمجھا جاتا تھا۔
ان کی تحقیق محفوظ شدہ دستاویزات، جنگی ٹریبونل میں دی گئی شہادتوں، ذاتی ڈائریلز، تائیوان کے گارڈز کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور قیدیوں کی اپنی شہادتوں پر مبنی ہے۔
ان میں سے ایک امریکی فوج کے سارجنٹ کارل اے پاسرکا تھے جنھوں نے 24 سال کی عمر میں جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ بھرتی ہونے پر ان کے باس نے ان کی تعیناتی ملتوی کرنے کی پیشکش کی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔
مرنے سے پہلے ہرسٹ کو لکھے خط میں وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ہمیشہ بھوک ہوتے تھے۔ ہم یہی سوچتے کہ زندہ کیسے رہنا ہے اور گھر واپس کیسے جانا ہے۔‘
وہ یاد کرتے ہیں کہ ایک بار تائیوان کی کچھ نوجوان لڑکیوں نے انھیں کھانا فراہم کرنے کی کوشش کی مگر جاپانی گارڈز نے انھیں ’فوراً تھپڑ لگائے‘ اور اس سے روک دیا۔

،تصویر کا ذریعہLorrane Pasurka
امریکہ میں قائم دوسری عالمی جنگ کے نیشنل میوزیم کے مطابق ایشیا کے جاپانی کیمپوں میں شرح اموات یورپ میں جرمنی یا اٹلی کے کیمپوں سے کہیں زیادہ تھا۔
قریب 27 سے 42 فیصد اتحادی فوجی ایشیا میں بھوگ، بیماریوں کے عدم علاج یا سزائے موت سے مرے۔ جبکہ یورپ میں یہ شرح ایک سے دو فیصد تھی۔
جاپان جنگی قیدیوں پر جنیوا کنونشن کا شراکت دار تھا مگر اس نے عمل نہیں کیا۔ ہرسٹ کا کہنا ہے کہ ’ان کے مطابق یہ قانون نہیں تھا۔‘
’(جاپانی فوج کے لیے) اگر آپ ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو آپ خود کو، اپنے خاندان کو اور اپنے بادشاہ کی ذلت کا باعث بنتے ہیں۔ سب سے ذلت آمیز حالت جنگی قیدی ہونا تھا۔ اس لیے ان قیدیوں سے جانوروں جیسا سلوک رکھا جاتا تھا، جیسے ان کی کوئی قدر نہیں۔‘
گھر واپسی پر خوشی کے ساتھ مایوسی بھی
بچنے والے ان تمام قیدیوں کو رہا کر دیا گیا تھا مگر یہ آزادی ان کی توقعات جیسی نہیں تھی۔ ہرسٹ کے مطابق کئی حکومتوں نے ان فوجیوں سے کہا کہ اپنی قید کے بارے میں کسی سے بات نہ کریں تاکہ جنگی حکمت عملی میں کمزوریاں منظر عام پر نہ آئیں۔
کچھ لوگ عمر بھر معذوریوں اور بیماریوں میں مبتلا رہے اور بعض کی وقت سے پہلے موت ہوئی اور بچنے والوں کے ذہنوں پر کئی برسوں تک صدمے کے آثار کم نہ ہوئے۔
ایلین ایسٹلی اپنے شوہر اور برطانیہ کی رائل آرٹلری کا حصہ رہنے والے فوجی جان فارمر کے بارے میں بتاتی ہیں کہ وہ حراستی کیمپوں میں اپنے تجربے کے بارے میں کبھی بات نہیں کرتے تھے۔
’اس سے مجھے مایوسی ہوتی تھی کہ ان پر زندگی میں کیا گزری ہے۔ میری ان کے ساتھ شادی ہوئی تھی مگر مجھے بھی اس کا اندازہ نہیں کہ انھوں نے کیا کچھ برداشت کیا۔‘
اپنی بیٹی ِلن ماؤنٹ کے ہمراہ وہ دو بار تائیوان کے دورے پر آئیں اور یہاں حراستی کیمپوں کی باقیات کو دیکھا جہاں ان کے شوہر کو قید کیا گیا تھا۔
اپنے دوسرے دورے کے دوران لِن ماؤنٹ نے کہا 'ان کیمپوں کو دیکھ کر مجھے غصہ بھی بہت آیا اور غم بھی بہت ہوا، خاص طور پر جب کنکاسیکی میں یادگاری دیوار پر میں نے اپنے والد کا نام درج دیکھا۔ اس کیمپ میں جا کر مجھے محسوس ہوا کہ میں اپنے والد کے بہت قریب ہوں۔'
لِن ماؤنٹ کے والد کی وفات اسی کیمپ میں ہوئی جب وہ 11 برس کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہLin Mount
تاریخ پر دھبہ
تائیوان سے تعلق رکھنے والوں کے لیے یہ کیمپ ان کی تاریخ پر دھبہ ہیں۔ لیکن لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اُس وقت ان کی جزیرہ جاپان کے قبضے میں تھا۔
مائیکل ہرسٹ کہتے ہیں کہ تائیوان نے جنگ میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا کیونکہ وہاں پر ایک بڑا فوجی اڈہ تھا جہاں سے جاپان نے متعدد حملے لانچ کیے تھے۔
تائیوان میں گو کہ دوسری جنگ عظیم کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے، ناقدین کے مطابق یہ کافی نہیں ہے اور تائیوان میں رکھے گئے اتحادی افواج کے قیدیوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا جاتا اور نہ ہی تائیوان کی جنگ میں سٹریٹجک اہمیت کے بارے میں زیادہ بتایا جاتا ہے۔
لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ چند تائیوانی شہریوں نے اپنی مرضی سے جاپان کے لیے جنگ لڑی اور ان کے لیے کام کیا۔
مائیکل ہرسٹ کی تحقیق سے انھیں معلوم ہوا کہ ان افراد کو جاپان سے وفاداری نبھانے کے لیے تربیت دی گئی اور ان افراد نے کیمپوں میں بطور گارڈ کام کیا یا جاپانی بحریہ میں خدمات انجام دیں۔
اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے کامیکازے پائلٹس کا بھی کردار ادا کیا، جو جاپان کے مشہور زمانہ پائلٹس کا وہ گروپ تھا جو خودکشی کے مشنز پر جاتا اور اتحادی افواج کو نشانہ بناتا۔
اس کے بعد سے تائیوان میں اس بارے میں شدید بحث چھڑ گئی ہے کہ وہ جنگ میں اپنے کردار کے بارے میں کیا کیا پڑھاتا ہے۔
مائیکل ہرسٹ نے نشاندہی کی کہ دوسری جنگ عظیم میں یورپ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے برعکس بحرالکاہل کے محاذ پر ہلاک ہونے والے اتحادی فوجیوں کے لیے بہت کم یادگاریں منائی جاتی ہیں۔
مائیکل ہرسٹ کا ماننا ہے کہ تاریخ ضرور پڑھانی چاہیے اور ان فوجیوں کو عزت بخشنے کے لیے مزید کوشش کرنا ہو گی جنھوں نے ایشیا پسیفک کے محاذ پر جنگ لڑی۔
جنگ ختم ہونے کے بعد ان کیمپوں میں تعینات جاپانی آفیسرز اور تائیوانی گارڈز کو سزا ہوئی اور جیل بھیجا گیا البتہ ان میں سے اکثرت کو بعد میں معاف کر دیا گیا۔
مائیکل ہرسٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ 50 فیصد سے زیادہ لوگوں کو سزا نہیں ملی البتہ چند تائیوانی گارڈز نے جنگ کے قیدیوں ںے بعد ازاں معافی ضرور مانگی تھی۔ ’جب یہ گارڈ معافی مانگتے ہیں اور وہ قیدی کہتے ہیں کہ میں نے تمہیں معاف کر دیا، وہ گارڈ بھی پھر سکون کی موت حاصل کر سکے گا۔ معافی دینا بہت عمدہ عمل ہے۔‘
لیکن مائیکل ہرسٹ کے لیے سب سے خوشی کی بات یہ تھی کہ اس کی مدد سے سابق قیدیوں کو اس بات کی پہچان مل رہی تھی انھوں نے اپنی جوانی کے عروج میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا اور قربانیاں دیں۔
'جن جن سے میں نے بات کی، ان میں سے ہر ایک شخص نے مجھے کہا کہ شکر ہے کسی کو تو پروا ہے۔ یہ سب بہت شکر گزار تھے کہ انھیں بھولا نہیں گیا ہے، ان لوگوں نے جنگ لڑی تاکہ ہمیں آزادی ملے۔‘







