آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سینیگال: جیل سے ’12 مرتبہ فرار‘ ہونے والا مجرم جس نے حکام کی ناک میں دم کر رکھا ہے
سینیگال میں جیل سے متعدد مرتبہ فرار ہونے والا 'سیریئل جیل بریکر' چند روز قبل ایک مرتبہ پھر جیل سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تھا تاہم اسے ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اس شخص کا کہنا ہے کہ وہ بارہویں مرتبہ کسی جیل سے فرار ہوا تھا۔ بائے مودو فال نامی اس شخص کو جمعرات کو دوبارہ اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ موٹر سائیکل پر سوار ہمسایہ ملک مالی میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
مئی میں جیل سے فرار ہونے کے بعد بائے مودو فال نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ کیسے وہ روشندان کی جالی کو توڑ کر اور ایک رسی کے ذریعے دیوار پر چڑھ کر فرار ہوئے۔
اُن کا کہنا ہے کہ وہ نو سال سے جیل میں ٹرائل کا انتظار کر رہے ہیں۔ کچھ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ ان کے کیس سے معلوم ہوتا ہے کہ سینیگال کے نظامِ انصاف کو کس قدر اصلاحات کی ضرورت ہے۔
بائے مودو فال کون ہیں؟
اُن کی عمر 32 سال ہے اور وہ خود کو ایک کاروباری شخصیت قرار دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُنھیں اپنے فوت ہوچکے والد سے جائیداد ورثے میں ملی ہے۔
مگر وہ لڑکپن سے ہی جیل جاتے رہے ہیں اور زیادہ تر اُنھیں ڈاکہ زنی کے الزام میں جیل میں رکھا گیا ہے۔
وہ کبھی بھی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کر سکے ہیں تاہم وہ مختلف ورکشاپس میں کمپیوٹر سیکھنے سے قبل ایک مدرسے میں بھی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھیں پہلی مرتبہ اُن کے بچپن میں دیوربل نامی شہر سے گرفتار کیا گیا تھا جو سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار سے 160 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔
اور یہیں پر وہ دیوربیل کی بچہ جیل سے پہلی مرتبہ فرار ہوئے تھے۔
اس کے بعد اُن کی قانون کے ساتھ آنکھ مچولی چلتی رہی یہاں تک کہ وہ 2015 میں ایک مرتبہ پھر گرفتار ہوئے، مگر اس کے اگلے ہی سال فرار ہو کر گیمبیا چلے گئے۔
اُنھیں گیمبیا میں بھی حراست میں رکھا گیا مگر وہاں کی حکومت نے اُنھیں سینیگال کے حوالے کر دینے سے انکار کر دیا۔
گیمبیا میں پانچ ماہ گزارنے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر سینیگال میں گرفتار ہوئے۔
چار سال بعد اُنھیں نومبر 2020 میں ڈاکہ زنی کا مرتکب پایا گیا مگر وہ دیگر مقدمات میں ٹرائل کا انتظار کرتے ہوئے جیل سے فرار ہو گئے۔
حکام نے فال کے 12 مرتبہ جیل توڑنے کے دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اُن کے سابق وکیل عبدالائی بابو نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کم از کم 10 مرتبہ یہ کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
'سپرمین نہیں'
سینیگال میں اُنھیں مقامی وولوف زبان میں 'جن' کہا جاتا ہے مگر اُن کے سابق وکیل کو لگتا ہے کہ یہ نام اُن کے حقیقی کردار کی عکاسی نہیں کرتا۔
بابو نے کہا کہ 'پریس نے اُنھیں سپرمین بنا دیا ہے۔ اُن کے پاس کوئی ماورائی طاقتیں نہیں ہیں۔'
'وہ دھان پان اور مختصر قد کاٹھ کے شخص ہیں اور بے پناہ شرمیلے بھی۔'
بابو نے فال کا 10 سال تک دفاع کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ 'وہ کبھی آپ سے نظر نہیں ملائیں گے۔ وہ بدمعاش نہیں ہیں۔ اُنھوں نے کبھی کسی کی جان نہیں لی ہے۔'
تازہ ترین فرار کے بعد فال نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ وہ اس لیے فرار ہوئے کیونکہ عدالتی کارروائی میں بہت وقت لگ رہا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں ڈاکے اور گرفتاری سے بچنے کے الزام میں نو سال تک بغیر مقدمہ چلائے جیل میں رکھا گیا ہے۔
'میں جانتا ہوں کہ فرار ہونا ایک جرم ہے۔ مگر میں نے بغیر کسی جرم کے جیل میں نو سال گزارے ہیں۔ یہ فرار میرے لیے ایک قربانی ہے۔ میں اس لیے لڑ رہا ہوں تاکہ سچ سامنے آئے۔ چنانچہ میں نے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔‘
اُنھوں نے سینیگال کے آئی ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں بتایا کہ 'میں ہمیشہ جانتا تھا کہ چاہے دن ہو یا رات، میں کسی بھی وقت جیل سے فرار ہو سکتا ہوں۔
’جس پینل کیمپ میں مجھے رکھا گیا تھا، وہاں کوئی سکیورٹی نہیں ہے حالانکہ لوگ اس کے برعکس خیال کرتے ہیں۔'
اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ کیسے روشن دان کی جالی توڑ کر سیل سے باہر نکلے اور بجلی کے ایک کھمبے سے رسی باندھ کر دیوار عبور کر گئے۔
اُنھوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ اُن کے ساتھ کوئی شخص شامل نہیں تھا مگر حکام کو اس بات پر یقین نہیں ہے۔
ڈاکار میں جیلوں کے ریجنل انسپکٹر ایمبائے سار کا اصرار ہے کہ وہ جیل کے ایک ہائی سکیورٹی علاقے میں تھے چنانچہ اُنھیں کسی نہ کسی کی مدد ضرور حاصل رہی ہوگی۔
اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے صبح پانچ سے چھ بجے کے درمیان ڈیوٹی پر موجود گارڈز سے تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔
جیل کے ڈائریکٹر کو بھی تفتیش کے دوران دوسری ڈیوٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔
'ناکارہ نظام کے شکار'
فال کے معاملے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سینیگال میں ٹرائل سے پہلے طویل حراست کا مسئلہ کتنا سنگین ہے۔
سینیگال کی تعزیرات میں اس حوالے سے کوئی حد مقرر نہیں کہ کسی شخص کو ٹرائل سے پہلے کتنے عرصے تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔
سینیگالی قانون دان عثمانے سیئے نے کہا 'جب کوئی شخص جیل میں ہو تو اُنھیں یا رہا کر دینا چاہیے یا اُن پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے، ورنہ اُنھیں ضمانت پر آزاد کر دینا چاہیے۔'
اُنھوں نے نشاندہی کی کہ کئی لوگوں کو اتنی طویل حراست میں رکھا گیا کہ اُن پر عائد الزام کی سزا بھی اتنی نہ ہوتی۔
'اس لیے مجھے لگتا ہے کہ سینیگال کے عدالتی نظام کو زبردست اصلاح کی ضرورت ہے۔'
بابو کا کہنا ہے کہ اُن کے سابق کلائنٹ 'ناکارہ نظام' کا شکار بنے۔
'وہ جیل میں ہیں اور اُنھیں ان مقدمات کے نتیجے کا کوئی اندازہ ہی نہیں۔ اُنھوں نے حکام کو کتنے خطوط لکھے جن کا جواب نہیں دیا گیا ہے۔ اُنھیں مقدمے کا سامنا کرنے کا موقع نہیں دیا گیا جو کہ ناانصافی ہے۔'
کئی سال سے انسانی حقوق کے کارکن جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو رکھنے پر تنقید اور سزاؤں میں کمی کے اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے سب سے بڑی پیش رفت 2020 میں ہوئی جب حکام نے برقی کڑے پہننے کو جیل میں رہنے کا متبادل قرار دیا۔
اس سے لوگ مقدمے سے قبل حراست میں رہنے کے بجائے گھر پر رہ سکتے ہیں، یہاں تک کہ کچھ ملزموں کی برقی طور پر نگرانی بھی کی جا سکتی ہے۔
اس کا نفاذ ہونا باقی ہے مگر ایک حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مانیٹرنگ سینٹر بنایا جا رہا ہے۔