پکاڈلی 1965: 60 اور 70 کی دہائی میں برطانیہ آ کر رہنے والے چھ انڈین دوستوں کی زندگیوں پر ایک نظر

Praful, second left, with YMCA friends at Piccadilly Circus in 1965

،تصویر کا ذریعہPraful Patel

،تصویر کا کیپشنوائی ایم سی اے کے دوست: لندن کے مشہور پکاڈلی سرکس پر چندو، پراون، پرافل اور فضل

1960 کی دہائی میں مشرقی افریقہ سے انڈین تارکینِ وطن کی ایک نسل جو برطانیہ منتقل ہوئی تھی وہ اب 70 اور 80 کے پیٹے میں ہے۔ بی بی سی کی کروپا پادھے کے والد بھی ان میں سے ایک تھے۔ یہاں وہ اپنے والد کی برطانوی معاشرے میں اپنا مقام بنانے کی کہانی پیش کر رہی ہیں۔

Short presentational grey line

سنہ 1965 میں لندن کی رسل سٹریٹ پر واقع ینگ مینز کرسچیئن ایسوسی ایشن (وائی ایم سی اے) کی عمارت میں قدرے مایوس نظر آنے والا ایک 21 سالہ شخص داخل ہوا۔ اس کا نام پرافل پیٹل تھا۔ وہ ڈش واشر کے طور پر کام کر رہا تھا لیکن برتن صاف کرنے سے اتنے پیسے نہیں ملتے تھے کہ وہ کسی مناسب جگہ پر کمرہ ڈھونڈ سکے، اس لیے وائی ایم سی اے ہی اس کی آخری امید تھی۔

پرافل اپنے ذہن پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مرکزی لندن میں سینٹرلی ہیٹڈ کمرہ 10 شیلنگ فی ہفتہ پر ملے گا۔ میں نے سوچا، یہ بہتر ہے۔‘

کچھ عرصہ پہلے تک ان کے پاس ایک اچھی تنخواہ والی نوکری بھی تھی۔ درحقیقت ایک نہیں تین نوکریاں، ہیٹن گارڈنز میں گلڈا جیولرز کے پاس ریسیپشنسٹ کی نوکری، آکسفورڈ سٹریٹ پر واقع فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ومپی پر ویٹر کی نوکری اور وائی ایم سی کے قریب ہی ہارس شو پب میں بار مین کی نوکری۔

ایک شام جب وہ وائی ایم سی اے میں آئے تو لاؤنج میں بیٹھے پانچ نوجوانوں کے ایک گروپ پر ان کی نگاہ پڑی۔ وہ ان کی طرح انڈین ہی تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انگلینڈ کے کسی ایسے ادارے میں جانا جہاں واقعی سب انڈین بیٹھے ہوں اور گجراتی زبان میں بات چیت کر رہے ہوں ایک حیرت انگیز بات تھی۔‘

انھوں نے انگلینڈ میں کبھی بھی اپنی مادری زبان کو کسی کو اتنی آسانی سے بولتے ہوئے نہیں سنا تھا۔

یہ مرد تقریباً پرافل کی ہی عمر کے تھے، یا شاید کچھ سال چھوٹے یا بڑے ہوں۔ وہ بھی ان خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے جنھوں نے گجرات چھوڑ کر مشرقی افریقہ کی برطانوی نوآبادیات میں کام تلاش کرنے کے لیے بحرِہند پار کیا تھا۔

وہ نوجوانوں کی اس لہر کا حصہ تھے جن کا تعلق ہندوستانی ورثے سے تھا اور وہ ان نئی نئی آزاد ہونے والی ریاستوں کو چھوڑ کر کام، مطالعہ اور زندگی میں کامیابی کے بڑے منصوبوں کے ساتھ برطانیہ آ رہے تھے۔

Short presentational grey line

پرافل ابھی حال ہی میں برطانیہ پہنچے تھے۔ لیکن ان میں جو غیر معمولی بات تھی وہ یہ تھی کہ انھوں نے اپنے بچپن کا زیادہ تر حصہ انگلینڈ میں ہی گزارا تھا۔

ان کے والد جیٹھابھائی پٹیل سنہ 1900 کی دہائی کے اوائل میں نو عمری میں ہی گجرات سے کینیا منتقل ہو گئے تھے اور مشرقی افریقی ریلوے نیٹ ورک میں سرکاری ملازم تھے۔ بعد میں وہ کینیا کی پارلیمان کے لیے منتخب بھی ہوئے۔ انھوں نے 1952 میں لندن میں ملکہ کی تاج پوشی کی تقریب میں شرکت بھی کی تھی۔

ان کی بڑی خواہش تھی کہ ان کے بچے برطانوی تعلیم حاصل کریں، چنانچہ 1954 میں، جب پرافل صرف 10 سال کے تھے، ان کے والد نے انھیں لندن کے لیے 48 گھنٹے کے سفر پر جہاز میں بٹھا دیا۔

جب پرافل اپنی روتی ہوئی ماں کو الوداع کہہ رہے تھے تو انھیں اس بات کا اندازہ ہی نھیں تھا کہ وہ مزید تین سال تک اپنے خاندان کو نہیں دیکھ سکیں گے۔ اس سے پہلے انھوں نے کبھی لمبی پتلون، موزے اور جوتے نہیں پہنے تھے اور ان کی انگلش بھی ’پلیز‘ اور ’تھینک یو‘ تک ہی محدود تھی۔

پرافل

،تصویر کا ذریعہPraful Patel

،تصویر کا کیپشندس سالہ پرافل پہلی مرتبہ لندن آتے ہوئے

انگلینڈ میں ان کی سرپرست سٹیلا مونک تھیں، جو ایمپائر ڈے موومنٹ کے لیے کام کرتی تھیں جس کا مقصد برطانیہ اور اس کی نوآبادیات کے سکولوں کے بچوں کے مابین تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ وہ اسے ایسٹبورن کے ایک پریپ سکول میں لے گئیں۔ ان کی کلاس میں پٹیل نامی دو اور لڑکے پہلے ہی موجود تھے، لہذا انھیں ’پٹیل نمبر تھری‘ کہا جانے لگا۔

ان کی پرورش بطور ایک سبزی خور مسالے دار سالن، دال اور نرم نرم چپاتیاں کھاتے ہوئے ہوئی تھی، اس لیے پرافل کو سکول کی بغیر مسالوں کے ابلی ہوئی سبزیاں کھانے میں بہت جدوجہد کرنی پڑتی اور اس لیے مزہ پورا کرنے کے لیے انھوں نے سبزیوں میں سرکہ ڈالنا شروع کر دیا۔ یہ عادت ان میں آج تک ہے۔

جب چھٹیاں ہوتی تو ’آنٹی سٹیلا‘، جو ایک کاروان میں رہتی تھیں، پرافل کا ملک بھر پھیلے ہوئے میزبان خاندان میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنے کا بندوبست کرتیں۔

ان کی ایک کرسمس سمرسیٹ میں ایک ڈاکٹر اور اس کے نوجوان خاندان کے ساتھ ایک چھوٹے سے گاؤں میں گزری۔ جب وہ اپنی ہی عمر کے ایک نائیجیریائی لڑکے کے ساتھ گاؤں سے گزرتے تو سارا گاؤں انھیں دیکھتا رہتا۔

پرافل ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ کہ ’کچھ لوگ ہمارے پاس آتے، ہمارے چہروں کو دیکھتے اور پوچھتے کہ کیا یہ پینٹ ہے؟ ہمیں ہر ایک کرسمس پارٹی میں مدعو کیا جاتا۔‘

لیکن سب سے زبردست چھٹیاں وہ تھیں جن میں پرافل نے انگلینڈ آنے کے تین سال بعد گھر کا پہلا سفر کیا تھا۔ تب تک وہ اپنی والدہ کے ساتھ صرف اپنی پہلے سے بہت بہتر انگریزی میں خط لکھ کر رابطہ کرتے رہے تھے، بس مسئلہ صرف یہ تھا کہ ان کی والدہ وہ خط نہیں پڑھ سکتی تھیں کیونکہ وہ نہ انگریزی زبان پڑھ سکتی تھیں اور نہ ہی لکھ سکتی تھیں۔

لیکن اس وقت تک پرافل گجراتی بولنا کافی حد تک بھول چکے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے والد چاہتے تھے کہ میں کسی انگریز کی طرح ہو جاؤں اور حقیقت میں میں انگریز ہی بن گیا تھا۔ لیکن میرے دل کے کسی کونے میں مجھے پتہ تھا کہ انگریز مجھے کبھی بھی پوری طرح قبول نہیں کریں گے۔

پرافل اپنے بچپن میں اپنے والدین اور بہنوں کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہPraful Patel

،تصویر کا کیپشنپرافل اپنے بچپن میں اپنے والدین اور بہنوں کے ساتھ

برطانیہ واپس آنے کے بعدپرافل کو سیون اوکس کے ایک پبلک سکول میں منتقل کر دیا گیا، جہاں یہ معمول تھا کہ لڑکوں کو عیسائی عقیدے کی پیروی کرنے والا بنا دیا جاتا تھا یعنی ’کنفرم‘ کیا جاتا تھا۔

انگلینڈ میں ہر کوئی پرافل کو ’پرف‘ کہتا تھا، لہذا جب 14 سالہ لڑکے کو عیسائی عقیدے میں ’کنفرم‘ کرنے کی باری آئی تو پادری کو یہی نام دیا گیا۔ پادری نے کہا کہ ’مجھے معاف کریں لیکن یہ مسیحی نام نہیں ہے۔‘

پرافل کہتے ہیں سو انھوں نے مجھے بیپٹائز (بپتسمہ) کیا اور پھر اسی دن مجھے کنفرم بھی کیا۔‘ اس نام سے اب بھی وہ اکثر اپنی شناخت کرواتے ہیں۔

اس وقت تک تعلیمی اعتبار سے پرافل کچھ زیادہ کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے اس لیے او لیول کے بعد ہی ان کے والد نے انھیں گھر واپس بلا لیا۔

نیروبی واپس آ کر انھوں نے استاد بننے کی تربیت حاصل کی۔ لیکن ایک سکول میں کچھ سال کام کرنے کے بعد وہ اپنے والد کے پاس گئے اور کہا ’ڈیڈ میں یہاں فٹ نہیں ہو پا رہا۔ میں ایک گول سوراخ میں چکور پیگ (میخ) کی طرح ہوں۔‘

اس کے کچھ عرصے بعد جیتھابھائی نے پرافل کا لندن کا ٹکٹ کٹا دیا۔ لیکن اس مرتبہ وہ یکطرفہ تھا۔

Short presentational grey line

یہ بھی پڑھیے

لیکن اگر کینیا برطانوی سلطنت کے خاتمے کی وجہ سے بدل رہا تھا اسی طرح برطانیہ بھی تبدیل ہو رہا تھا۔

پرافل نے دیکھا کہ سیاہ فام اور ایشیائی لوگوں کے متعلق رویہ سخت ہو رہا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے رہنے کے لیے جگہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ نوٹنگ ہل گیٹ میں اوپر نیچے گیا، لیکن بس یہ کہہ سکتا ہوں کہ رہنے کے لیے کمرہ تلاش کرنے کی کوششیں بہت ہی حوصلہ شکن ثابت ہوئیں۔ ہر جگہ بورڈ لگا ہوتا: ’کلرڈ اور سیاہ فام کو درخواست دینے کی ضرورت نہیں۔‘

کینیا کے برطانوی انسٹیٹیوٹ سے حاصل کی گئی ان کی تدریسی قابلیت کو انگلینڈ تسلیم نہیں کرتا تھا، اسی وجہ سے انھیں ڈش واشر کی نوکری ملی اور وہ وائی ایم سی اے تک پہنچے، جہاں ان کی ملاقات دیگر پانچ ہندوستانی نوجوانوں سے ہوئی۔

Praful at 23

،تصویر کا ذریعہPraful Patel

،تصویر کا کیپشن23 سال کے پرافل

نوجوانوں کے اس گروہ کی وائے ایم سی کی وہ ملاقات بعد میں پکی دوستی میں بدل گئی۔ ان میں سے ایک میرے والد چندرکانت ٹھاکر ہیں جنھیں ان کے دوست چندو کے نام سے پکارتے ہیں۔

سبھی کوشش کرتے کہ اپنے بہترین سوٹ پہنیں اور اپنے بالوں کو اچھی طرح بنائیں، لیکن پرافل ان سب سے ایک قدم آگے تھے۔ عام خیال تھا کہ وائی ایم سی اے کے سبھی عملے کو ملا کر بھی وہ سب سے زیادہ انگلش تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ میرے کپڑے اور میرے طور طریقے ان کے طریقوں سے بہت مختلف تھے۔ میں کارنیبی سٹریٹ جایا کرتا تھا۔ میں نے ارغوانی رنگ کے رول نیک سویٹر اور نہرو۔کولرڈ چمکیلی قمیضیں خریدی تھیں۔ اس وقت وہ لڑکے اس طرح کی چیزیں نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ وہ ابھی یہاں آئے ہی تھے اس لیے وہ بہت زیادہ قدامت پسند تھے۔

’انھوں نے مجھے وہ کام کرتے ہوئے دیکھا جن کا انھوں نے کبھی خواب میں کرنے کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ میرا مطلب ہے کہ میری گرل فرینڈز ہوتی تھیں، انگلش گرل فرینڈز، اور وہ مجھ سے ملنے وائی ایم سی اے آتی تھیں اور ہم باہر جاتے تھے۔ اور وہ وہاں کھڑے ہو کر ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور کہتے۔ اسے دیکھو!‘

ایک مشترکہ تاریخ نے انھیں جڑنے میں مدد دی: برطانوی سامراج کے سائے میں گزارا ہوا بچپن، اپنے ہندوستانی نسب پر فخر اور ان ختم ہوتی ہوئی نو آبادیات میں موجود ان خاندانوں کے لیے ذمہ داری کا احساس جنھیں وہ پیچھے چھوڑ کر آئے تھے۔

ان سب کی کام کرنے کی اخلاقیات بہت مظبوط تھیں، جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ انھیں اپنے خاندانی بزرگوں سے وراثت میں ملی ہیں، اور جو کئی دہائیاں پہلے اقتصادی مواقع کی تلاش میں ہندوستان چھوڑ کر آئے تھے۔

وائی ایم سی اے کے لاؤنج میں ایک شام معمول کے مطابق بیٹھے ہوئے پرافل کے ایک نئے دوست اندو ممتورا نے ان سے سوال کیا کہ ’پرافل کیا بس آپ نے یہی کرنا ہے، کلرک، ویٹر اور بارمان کی حیثیت سے کام کرتے رہنا؟ کیا آپ کوئی پیشہ ورانہ قابلیت حاصل نہیں کرنا چاہتے؟‘

بس یہی وہ دھکا تھا جس کی انھیں ضرورت تھی۔ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی سے پرافل نے اپنا اے لیول مکمل کیا اور ہولبرن کالج میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔ اس دوران وہ تین ملازمتیں بھی کرتے رہے۔ آخر کار انھوں نے لندن کے لنکنز ان میں شمولیت اختیار کر لی۔

presentational grey line

وائی ایم سی اے کے ساتھی

Praful's YMCA friends sitting on the railings at Piccadilly Circus

،تصویر کا ذریعہPraful Patel

،تصویر کا کیپشنوائی ایم سی اے کے ساتھ پکاڈلی سرکس پر

پرافل کی کھینچی ہوئی اس تصویر میں بائیں سے دائیں:

  • چمک پنچل ۔ جنھوں نے تیل کی صنعت میں ایک انجینیئر کی حیثیت سے کام کیا اور بعد میں امریکہ منتقل ہو گئے
  • فضل موسیٰ کی ایک آسٹریلوی خاتون سے ملاقات ہوئی، اور وہ آسٹریلیا کی کسی رینچ میں جا بسے۔ ان کے متعلق اب کچھ نہیں پتہ
  • چندو ٹھاکر ۔ جو گروہ میں سب سے بڑے ہیں، اب 80 سال کے ہیں اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننے کے بعد ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں
  • اندو ممتورا، ایک کامیاب وکیل بنے لیکن اب ان کا انتقال ہو چکا ہے
  • پراون چوسکی ۔ اب دادا بن چکے ہیں لیکن ابھی تک لندن کی ایک ٹیک شاپ میں کام کرتے ہیں
presentational grey line

پرافل نے ڈگری حاصل کرنے کے بعد پہلی نوکری بطور ٹریژری سالیسٹرز کے محکمہ میں کی، جس کے متعلق انھیں اندو نے بتایا تھا۔ لیکن ایک دن انھیں ایک سینئر وکیل نے فون کیا اور مشورہ دیا کہ وہ اتنی تیز رفتار سے کام نہ کریں۔

بظاہر ایسا لگتا تھا کہ پرانے انداز سے کام کرنے والے پرانے لوگ، جو آہستہ آہستہ کام کرتے تھے ان سے بدظن ہو رہے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نہیں چاہتا تھا کہ بس وہاں بیٹھا رہوں اور یہ سب کچھ ہونے دوں۔ میں متحرک رہنا چاہتا تھا۔ اس لیے میں نے سولیسیٹرز کو چھوڑ دیا۔‘

قانون کے شعبے میں ایسی نوکری نہیں مل سکنے پر جس میں تنخواہ اچھی ہو۔ وہ میرے والد کے مشورے پر مینجمنٹ اکاؤنٹینسی میں چلے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ اکاؤنٹس سنبھالتے سنبھالتے وہ کئی ملین پاؤنڈ کے معاہدوں کو سنبھالنے لگے اور بعد میں سیلز میں بھی کامیابی سے طلع آزمائی کی۔

انھوں نے وہ پیشہ ورانہ قابلیت حاصل کی جس کی ان کے والد کو بہت عرصے سے خواہش تھی۔ لیکن اکثر انھیں آگے راستہ بند ملتا۔

ایک کمپنی میں نوکری کے لیے درخواست دینے کے بعد انھیں بتایا گیا کہ پہلے انھیں انگریزی کا ٹیسٹ دینا ہو گا، جس کی کوئی تُک نہیں بنتی تھی کیوں کہ برطانیہ کے سرکاری سکول میں پڑھائی کی وجہ سے وہ بالکل روانی سے انگریزی بولتے تھے۔

بعد میں نوکری دینے والے نے انھیں بتایا کہ ڈیپارٹمنٹ ابھی کسی ’بلیک سیلزمین‘ کو ملازمت پر رکھنے کے لیے کے لیے تیار نہیں ہے۔

پرافل کہتے ہیں کہ ’آج شاید اسے نسل پرستی کہا جائے۔ لیکن میں نے اسے ایسے نہیں سمجھا تھا۔ میں نے اسے ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھا جسے مجھے عبور کرنا تھا۔ میں نے یہ کوشش نہیں کی کہ نسل پرستی کی رکاوٹوں کو توڑ دوں کیونکہ ایسا ہی ہونا تھا۔‘

Praful Patel at 66

،تصویر کا ذریعہMark Patel

،تصویر کا کیپشن66 سال کے پرافل

اسی طرح کی لچک سینٹرل وائی ایم سی اے کے گروپ کے دوسرے دوستوں نے بھی دکھائی۔ ان میں سے ایک چمپک پنچال تھے، جو اب ایک کامیاب انجینئر ہیں اور ٹیکساس میں رہتے ہیں۔ لندن میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے ہینڈلے پیج ائیرکرافٹ میں اپنی پہلی ملازمت شروع کی، جو بعد دیوالیہ ہو گئی۔

چمپک سے کہا گیا کہ وہ سرکاری بینیفٹس کے لیے سائن اپ کریں۔ اس کے بعد وہ بے روزگاری کے دفتر کے چکر لگانے لگے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے مجھے 2.10 پاؤنڈ کی پیش کش کی۔ میں اس پر گزارا نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے اس شخص کو کہا کہ میں ایک گریجویٹ انجینئر ہوں اور میں اس رقم کو قبول نہیں کر سکتا۔‘

اس کے بجائے انھوں نے ان کی مدد سے ملازمت ڈھونڈنی شروع کر دی اور ایک سرکاری دفتر میں کامیابی کے ساتھ کلرک کی نوکری حاصل کر لی۔

میرے اپنے والد اکاؤنٹینسی پڑھنے کے ساتھ ساتھ سنٹرل مڈل سیکس ہسپتال میں حساب کتاب دیکھنے لگے۔ وہ چند مرتبہ امتحانات میں ناکام بھی ہوئے لیکن انھیں اپنے والد کے الفاظ ہمیشہ یاد رہے: ’چندو ان دروازوں پر دستک دیتا رہے گا۔‘

ایک کامیاب کیریئر کے بعد اب وہ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں، لیکن اب بھی وہ ہمیں یہ یاد دلانا نہیں بھولتے کہ وہ ایک ’چارٹرڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹ‘ ہیں۔

Praful with his wife, Lizzie

،تصویر کا ذریعہPraful Patel

،تصویر کا کیپشنپرافل اپنی بیوی لزی کے ہمراہ

ان کی دوستیاں ہر قسم کے اتار چڑھاؤ کے باوجود اب تک قائم رہی ہیں، جن میں بیماری، مالی مشکلات اور بیرون ملک منتقل ہونا وغیرہ بھی شامل ہیں۔

جہاں تک پرافل کی بات ہے تو وہ کینیا میں بچپن سے لے کر ایک برطانوی شہری کی حیثیت سے لندن میں رہنے تک، ان کی زندگی کے متعلق کچھ بھی ایسا نہیں جس کی پہلے پیشنگوئی کی جا سکتی تھی۔

پرافل کہتے ہیں کہ ’میں جب ایک چھوٹا سا لڑکا تھا تو مجھے کینیا میں اپنے گرد و نواح سے باہر نکال کر انگلینڈ میں ڈال دیا گیا۔ میرے پاس کوئی بھی ایسا شخص نہیں تھا جو مجھے یہ بتاتا کہ مجھے کیا کرنا ہے یا کیا نہیں کرنا۔ میں کبوتر تھا جسے ہوا میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ میں بس اڑتا رہا جہاں جہاں میرا دل چاہا۔ اس کے باوجود میں انگلینڈ سے پیار کرتا ہوں۔ کبھی کبھی یہ تکلیف دہ ہو جاتا ہے، لیکن یہ گھر ہے۔‘

70 کے پیٹے میں پرافل لیوکیمیا سے صحتیاب ہو رہے ہیں اور اپنی بیوی لیزی کے ساتھ چیشائر کے ایک دیہی علاقے میں رہتے ہیں۔

اور اپنے لڑکپن میں لندن سے کینیا واپس جانے کے اپنے پہلے سفر کے بعد سے جب انھوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی مادری زبان کو کبھی فراموش نہیں کریں گے، وہ اب گجراتی زبان بڑی روانی سے بولتے ہیں۔