فلسطین، اسرائیل تنازع: 11 روزہ لڑائی کے بعد کیا شیخ جراح سے فلسطینی شہریوں کی بیدخلی کا خطرہ ٹل چکا؟

،تصویر کا ذریعہPAUL ADAMS
- مصنف, پال ایڈمز
- عہدہ, سفارتی نامہ نگار، یروشلم
سمیرا دجانی اور عادل بدیری کے گھر کا باغیچہ انتہائی پُرسکون معلوم ہوتا ہے جہاں پھلوں کے سایہ دار درخت، مہکتے پھول اور بہت سے خوبصورت پودے موجود ہیں۔ مگر یہ جنت جیسا ٹکڑا زمین کے ایک ایسے مقام پر ہے جہاں زمین سے شروع ہونے والے تنازع نے جنگ جیسی صورتحال اختیار کر لی۔
اس فلسطینی جوڑے کا مشرقی بیت المقدس میں موجود ایک منزلہ گھر ان 14 گھروں میں سے ایک ہے جو شیخ جراح کے علاقے میں واقعہ ہیں اور ان گھروں سے فلسطینیوں کو زبردستی بیدخل کر کے یہودی آباد کاروں کے لیے جگہ بنائی جا رہی ہے۔
اس بیدخلی سے تقریباً 300 فلسطینی شہری متاثر ہوں گے اور اس بیدخلی کا حکم اسرائیلی سپریم کورٹ نے دیا ہے۔
فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے زبردستی بیدخل کرنے کا عمل اس وقت رُک گیا تھا جب اسی معاملے کو لے کر حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں لڑائی شروع ہوئی۔
مگر ان 14 مکانوں کے مکینوں کو ان کے گھروں سے بیدخل کیے جانے کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک طرف سمیرا پھولوں کا خیال کر رہی ہے تو دوسرح طرف عادل مجھے بلیک اینڈ وائٹ تصاویر دیکھا رہے ہیں جو کہ 1950 اور 1960 کی دہائیوں کی ہیں۔ سمیرا اور عادل اِن تصاویر میں نوجوان ہیں اور یہ ان کی شادی سے پہلے اور جوانی کی تصاویر ہیں۔

عادل کا کہنا ہے کہ ‘یہ بہت مشکل ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس گھر میں رہنے والا ہمارا انتہائی خوشگوار دور ختم ہونے والا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم ایک مرتبہ پھر سے پناہ گزین بن جائیں گے۔‘
سمیرا اور عادل کے خاندانوں کو سنہ 1948 میں ہونے والی عرب، اسرائیل جنگ کے دوران مغربی بیت المقدس سے نکال دیا گیا تھا۔ ان دونوں کے آبائی گھر یہاں سے چند کلومیٹر ہی دور ہیں مگر اسرائیلی قانون کی وجہ سے وہ کبھی بھی واپس نہیں حاصل کیے جا سکتے۔
1950 کی دہائی میں اقوام متحدہ نے اردن کے ایک پراجیکٹ کی فنڈنگ کی تھی جس کے تحت اس جنگ میں بیدخل ہونے والے فلسطینیوں کے لیے مکانات بنائے گئے تھے۔ مگر اس پراجیکٹ میں آنے والی تھوڑی بہت زمین ایسی تھی جو دو یہودی اداروں کی ملکیت تھی، مگر اسرائیل کے قیام سے پہلے!

جب سنہ 1967 میں اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس اُردن سے جنگ کے بعد چھین لیا تو ان اسرائیلی اداروں نے اس پراپرٹی کو حاصل کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کی۔
یہ متنازع زمین کا ٹکڑا ’شیمون ساتزادک‘ کی قبر کے قریب ہے جو کہ یہودی مذہب کے ایک اہم عالم تھے اور یہودی آبادکار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ فلسطینیوں نے یہاں پر بے جا قبضہ کیا ہے۔
یہاں پر یہ کہنا ضروری ہے کہ اس کہانی میں زمین ہو یا اس کی ملکیت سب کچھ ہی متنازع ہے۔

گھر کے باہر موجود سڑکیں خاموش ہیں اور یہاں رمضان کے مہینے میں ہونی والی لڑائی کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں۔ گلی کے آخر میں پولیس کے مورچے ہیں اور اگر آپ یہودی ہیں تو آپ آرام سے آ جا سکتے ہیں مگر اگر آپ فلسطینی ہیں تو یہاں رہنے والوں کے علاوہ کسی کو اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔
دیوار پر ایک تصاویر بنی ہے جس میں سنہ 1948 سے پہلے کے فلسطین کا نقشہ ہے اور ساتھ ایک نعرہ لکھا ہے کہ ‘شیخ جراح کے مستحکم علاقے میں خوش آمدید۔‘
دوسری طرف ان 28 خاندانوں کے نام لکھے ہیں جنھیں اب یہاں سے بیدخل کیے جانے کا خطرہ ہے۔
گلی کی دوسری طرف ایک ایسا گھر ہے جس پر دس سال پہلے یہودی آباد کاروں نے قبضہ کیا تھا اور اس پر اسرائیل کا جھنڈا لہرا رہا ہے اور سٹار اور ڈیوڈ بھی لگا ہے۔ ساتھ میں بہت سے سکیورٹی کیمرے بھی نصب ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ شیخ جراح کا معاملہ صرف ایک زمین کے ٹکڑے کا تنازع ہے اور آباد کاروں کے پاس اسرائیلی قانون کی پشت پناہی ہے۔
سنہ 2003 میں ان یہودی اداروں نے اس پراپرٹی کے حقوق ایک امریکی تنظیم ’ناہلات شمون‘ کو فروخت کر دیے تھے۔ یہ تنظیم یہودی آبادکاروں کے فلسطینی علاقے میں گھسنے کے مشن کی حامی ہے۔
یروشلم کے نائب میئر کہتے ہیں کہ فلسطینیوں کو کرایہ نہ دینے کے جرم میں گھروں سے نکالا جا رہا ہے۔ ان کا اشارہ سنہ 1987 کے ایک متنازع عدالتی فیصلے کی طرف ہے جس میں اسرائیلی اداروں کی ملکیت کو تسلیم کیا گیا مگر فلسطینیوں کو محفوظ کرایہ دار مانا گیا۔
نائب مئیر کہتے ہیں کہ ‘یہ اب ایک پراپرٹی تنازع ہے جس کو سیاسی تنازع بنایا جا رہا ہے تاکہ کشیدگی بڑھے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ‘مجھے یہ نہیں سمجھ آتا کہ مشرقی یروشلم کا جوڈنریئن ہونا کیوں ضروری ہے؟‘ جوڈنریئن ایک نازی اصطلاح ہے جو یورپ کو یہودیوں سے پاک کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔
گذشتہ رمضان میں شیخ جراح میں کشیدگی میں کافی اضافہ ہوا تھا۔ یہ کئی دہائیوں پرانا تنازع پُرتشدد ہو گیا تھا۔ قریب میں مسجد القصیٰ میں بھی ہنگامہ ہوا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ بیت المقدس میں آگ لگ گئی ہے۔
ادھر حماس بھی اس لڑائی میں شامل ہو گئی اور شہر پر راکٹ داغنے لگی۔ 11 دن بعد جب جنگ بندی ہوئی تو بیت المقدس میں بہت سے لوگوں نے اسے حماس کی کامیابی تصور کیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
30 سال سے مشرقی بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کا اندراج کرنے والے ایک یہودی وکیل ڈینیئل سیڈمین کا کہنا ہے کہ ‘یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ ٹیمپل ماؤنٹ اور شیخ جراح کا علاقہ کشیدگی کی وجہ بنا۔‘
’وہاں سے فلسطینیوں کو نکالنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کی جگہ یہودی آباد کاروں کو بسایا جا رہا ہے۔ یہاں پر یہی ہو رہا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ سنہ 1948 میں عرب اور یہودی دونوں ہی بے گھر ہوئے تھے۔ ‘آپ کے پاس ایک شہر ہے، ایک جنگ ہے، دو قومیں ہیں دونوں نے پراپرٹی کھوئی۔ مگر ان میں ایک کو اسے واپس لینے کا حق ہے اور دوسرے کو نہیں۔ یہ شیخ جراخ کے علاقے کا اصل ظلم ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPAUL ADAMS
ڈینیئل سیڈمین کا کہنا ہے کہ چار عرب علاقوں (دو شیخ جراح میں اور دو جنوب میں واقعہ سلوان میں) اسرائیل کی سنہ 1967 کے بعد مشرقی بیت المقدس سے فلسطینیوں کو نکالی کے پہلی بڑی کوشش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم یروشلم کا معاملہ اٹھا رہے ہیں اور لوگوں کو بے گھر کرنے کا معاملہ اٹھا رہے ہیں، دونوں کو آپس میں جوڑ رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPAUL ADAMS
مگر عادل اور سمیرا کے باغ میں تو ابھی بھی بےگھر ہونے کا خطرہ ہے اور انھیں یکم اگست کی تاریخ دی گئی ہے۔
ان کے پاس چند ہی ہفتے ہیں کہ وہ اس گھر کو، جہاں وہ 47 سال رہے ہیں، جیت لیں یا کھو دیں۔
عادل کہتے ہیں کہ یہ لڑائی برابری کی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ واضح ہو گیا ہے کہ ہم آبادکاروں سے پوری حکومت لڑ رہی ہے۔
’ہمارے پاس اب اسرائیلی حکومت سے لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔‘
حماس بیت المقدس کے مستقبل کے لیے اسرائیل سے جنگ کر رہی ہو گی مگر ان 28 خاندانوں کے لیے صورتحال ابھی بھی کچھ مستحکم نہیں ہے۔











