شيخ جراح: بیت المقدس میں ہونے والی جھڑپوں میں 250 سے زیادہ فلسطینی اور 19 اسرائیلی اہلکار زخمی

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی پولیس اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان بیت المقدس (یروشلم) میں سنیچر کو تازہ جھڑپوں میں 50 سے زیادہ فلسطینیوں کے زخمی ہونے کے بعد دو دن میں پولیس کے ہاتھوں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 250 سے بڑھ گئی ہے۔
پولیس کے مطابق اب تک تصادم میں 19 اسرائیلی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
سنیچر کو جھڑپوں کا مرکز بیت المقدس کا پرانا شہر رہا اور یہ تصادم اس دن ہوا جب ہزاروں فلسطینی مسلمان لیلۃ القدر کے موقع پر مسجدِ اقصیٰ میں عبادت کے لیے جمع ہو رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
فلسطینی ہلالِ احمر کے مطابق تازہ جھڑپوں میں 53 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی پولیس نے اپنے ایک اہلکار کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ہلالِ احمر کے مطابق زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں جبکہ ایک درجن کے قریب افراد کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تصادم میں فلسطینی نوجوانوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کو توڑ پھوڑ دیا جبکہ پولیس اہلکاروں نے مظاہرین پر ربر کی گولیاں چلائیں، سٹن گرینیڈ پھینکے جبکہ انھیں منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن بھی استعمال کی۔
اس سے قبل جمعے کو یروشلم میں ہی ہونے والی جھڑپوں میں اسرائیلی پولیس کی جانب سے چلائی جانے والی ربڑ کی گولیوں سے 200 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے تھے جبکہ پولیس کے مطابق اس کے 18اہلکار بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔
جھڑپوں کے بعد مقامی ہسپتالوں میں زخمیوں کے لیے جگہ کم پڑنے کے بعد ہلال احمر نے ایک فیلڈ ہسپتال بھی قائم کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ جھڑپیں ایک ایسے وقت ہوئی ہیں جب شیخ جراح کے علاقے سے فلسطینی خاندانوں کی ممکنہ بےدخلی کے معاملے پر سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اسرائیل کی سپریم کورٹ اس معاملے پر پیر کو ایک معاملے کی سماعت بھی کر رہی ہے۔
فلسطینی میڈیکل سروس کے مطابق جمعے کو زیادہ تر افراد مسجد اقصیٰ کے صحن میں اس وقت زخمی ہوئے جب اسرائیلی پولیس نے ربڑ کی گولیوں اور سٹن گرینیڈز کا استعمال کیا۔ اس کارروائی کا نشانہ وہ فلسطینی بنے جو اہلکاروں پر بوتلیں اور پتھر پھینک رہے تھے۔
یہودی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ واقعات کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس میں خدشہ ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی اس زمین سے نکال دیا جائے جس پر یہودی آبادکار اپنی ملکیت کا دعوی کرتے ہیں۔
یروشلم کے پرانے شہر میں واقع مسجد اقصیٰ نہ صرف مسلمانوں کے لیے سب سے قابل احترام مقامات میں سے ایک ہے، بلکہ یہودیوں کے لیے بھی یہاں مقدس مقام بھی ہے جسے ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ مقام اکثر اوقات تشدد اور جھڑپوں کا مرکز رہا ہے اور اس سال بھی رمضان کے مہینے کے آخری جمعے کی رات یہاں عبادت کے لیے ہزاروں افراد جمع ہوئے جس کے بعد ایک بار پھر تشدد شروع ہو گیا۔
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ شام کی نماز کے بعد ’ہزاروں نمازیوں کی ہنگامہ آرائی‘ کی وجہ سے انھوں نے ’نظم و ضبط‘ بحال کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا ہے۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق مسجد اقصیٰ کے ایک عہدیدار نے مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے پُر سکون رہنے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’پولیس کو نمازیوں پر فوراً دستی بم پھینکنے بند کرنے چاہییں اور نوجوانوں کو پرسکون ہو کر خاموش ہونا چاہیے۔‘
فلسطین کی ہلال احمر کی ایمرجنسی سروس نے بتایا کہ زخمی ہونے والے 88 فلسطینیوں کو ربڑ میں لپٹی دھاتی گولیاں لگنے کے بعد ہسپتال لے جایا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ زخمی ہونے والے چھ افسران میں سے چند کو طبی امداد کی ضرورت ہے۔
مشرقی بیت المقدس کے ضلع شیخ جراح میں فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کیے جانے کا خطرہ ہے جس کے باعث عالمی برادری نے بھی جمعہ کے روز پُر امن رہنے کی اپیل کی تھی۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو کسی بھی قسم کی بے دخلی کے اقدامات کا ارادہ ملتوی کرنا چاہیے اور مظاہرین کے خلاف ’طاقت کے پر زیادہ سے زیادہ پابندی‘ لگانی چاہیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن کو ’بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش ہے۔‘
اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے خصوصی کوآرڈینیٹر، ٹور وینس لینڈ نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’امن کے لیے یروشلم میں موجود مقدس مقامات کا احترام کریں۔‘
اسرائیل کی سپریم کورٹ میں طویل عرصے سے چلنے والے اس قانونی مقدمے کی سماعت پیر کو ہو گی۔
اسرائیل نے سنہ 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ کے بعد سے ہی مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا اور وہ پورے شہر کو اپنا دارالحکومت سمجھتا ہے، حالانکہ بین الاقوامی برادری کی اکثریت اسے تسلیم نہیں کرتی ہے۔
فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ مشرقی یروشلم مسقبل میں بننے والی ان کی آزاد ریاست کا دارالحکومت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر کئی روز سے اسی حوالے سے #SaveSheikhJarrah ٹرینڈ کر رہا ہے اور آج پاکستان کے صفِ اول کے ٹرینڈز میں #SaveSheikhJarrah اور #IsraeliAttackonAlAqsa شامل ہیں۔
کئی صارفین شیخ جراح کے علاقے اور گذشتہ روز یروشلم میں فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی ویڈیوز شئیر کر رہے ہیں۔
بیشتر صارفین اسرائیلی پولیس کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ میں دورانِ عبادت ربڑ کی گولیاں چلانے اور دستی بموں پھینکے جانے کی مذمت کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@SuleimanMas1
ایسی ہی ایک ویڈیو شئیر کرتے ہوئے لیکا نامی صارف نے لکھا ’مسجد وہ جگہ ہے جہاں ہم عبادت کرتے ہیں، ہم اسے ایک محفوظ جگہ سمجھتے ہیں۔ اسی لیے اسے خدا کا گھر کہا جاتا ہے لیکن وہاں پر یہ سب ہوا؟‘
ایک اور وائرل ویڈیو میں ایک اسرائیلی پولیس اہلکار کو خواتین اور بچوں پر دستی بم پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
کئی افراد بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اسرائیلی پولیس کی حالیہ کارروائیوں کا نوٹس لے۔

،تصویر کا ذریعہ@Istanbultelaviv
بیشتر صارفین فیس بک کی جانب سے فلسطینوں کی جانب سے شئیر کی کردہ ویڈیوز اور دیگر مواد کے ہٹائے جانے کی شکایت کرتے بھی نظر آئے جبکہ کئی صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسٹاگرام نے #Jerusalem #الاقصي کے ہیش ٹیگز والی پوسٹس اور ویڈیوز کو محدود کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@khalidalbaih
دوسری جانب شی فلیشر، یہودی برادری کے بین الاقوامی ترجمان نے لکھا ’ٹیمپل ماؤنٹ پر جاری تباہی کو ایک گھنٹہ پہلے ہی رک جانا چاہیے تھا۔ شرم کی بات ہے کہ کوئی بھی سیاستدان اتحاد کی بات نہیں کر رہا۔‘

،تصویر کا ذریعہ@LinahAlsaafin
اسرائیل سے تعلق رکھنے والے وکیل ارسن اوستروفسکی نے لکھا کہ یوم القدس کے موقع پر حماس اور دوسرے گروہ شیخ جرح کی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید لکھا کہ کیمرا اور ویڈیو دھوکہ دی سکتی ہیں لہذا ان پر یقین نہ کریں۔ اسرائیلی پولیس صورتحال کو پرامن کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@Ostrov_A











