ٹیسلا گاڑیوں میں آٹو پائلٹ نظام کو 'دھوکہ' دے کر گاڑی چلائی جا سکتی ہے: تحقیق

،تصویر کا ذریعہScott J Engle/Reuters
- مصنف, کوڈی گاڈون
- عہدہ, بی بی سی نیوز، سان فرانسسکو
امریکہ میں صارفین کے حقوق کے تحفط کے لیے کام کرنے والے ایک جریدے نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ ٹیسلا کی گاڑیوں کو چلانے کے خودکار نظام کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے جس کی مدد سے گاڑی بغیر ڈرائیور کے چلائی جا سکتی ہے۔
'کنزیومر رپورٹس' نامی جریدے کے انجنئیرز نے ان دعووں کی تحقیق کرنے کی کوشش میں جن کے مطابق کہا گیا کہ ٹیسلا گاڑی کے آٹو پائلٹ یعنی خودکار چلانے کے نظام کو ڈرائیور کی موجودگی کے باوجود استعمال کر کے گاڑی چلائی جا سکتی ہے۔
جریدے کے انجنئیرز نے یہ تجربہ ٹیسلا کی ماڈل وائی گاڑیوں پر کیا اور اس کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ اس نظام کو 'بہت آسانی سے دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔'
یہ تحقیق ریاست ٹیکساس میں ہونے والے حالیہ حادثے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں دو افراد کی موت ہو گئی تھی۔
پولیس کا اس واقعہ میں ابتدائی تفتیش کے بعد کہنا تھا کہ گاڑی کی ڈرائیور سیٹ پر کوئی موجود نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ٹیسلا گاڑی کا آٹوپائلٹ نظام ایک جدید خودکار نظام ہے جس کے بارے میں ٹیسلا کمپنی کا دعوی ہے کہ اس کی مدد سے 'گاڑیوں میں حفاظتی نظام اور ڈرائیور چلانے والے کے لیے بہت سی آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’واضح طور پر ناکافی'
کنزیومر رپورٹس کی ٹیم نے کہا کہ انھوں نے کامیابی کے ساتھ - اور بار بار - آزمائشی ٹریک چلاتے ہوئے کار کو دھوکہ دیا جس وقت گاڑے میں کوئی ڈرائیور موجود نہیں تھا۔
کنزیومر رپورٹس کے آٹو ٹیسٹنگ ڈائریکٹر، جیک فشر نے کہا ، ’ہماری نتائج کے مطابق یہ نظام نہ صرف یہ یقینی بنانے میں ناکام رہا کہ ڈرائیور متوجہ ہے، بلکہ یہ بھی نہیں بتا سکا کہ آیا وہاں کوئی ڈرائیور موجود ہے یا نہیں۔‘
’یہ قدرے خوفناک تھا جب ہمیں معلوم ہوا کہ حفاظتی آلات کو شکست دینا کتنا آسان ہے ، جنہیں ہم نے ثابت کیا کہ یہ واضح طور پر ناکافی تھے۔‘
ٹیسلا کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ آٹوپائلٹ سسٹم میں ’مکمل متوجہ ڈرائیور‘ درکار ہوتا ہے اور اس سسٹم کو استعمال کرنے سے کار خود مختار نہیں ہوتی ہے۔
آٹوپائلٹ کے ساتھ کچھ حفظاتی اقدامات بھی ضروری ہوتے ہیں جن میں ڈرائیور کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر رہنا، سیٹ بیلٹ باندھنا اور دروازہ نہ کھولنا شامل ہیں۔
حادثے کی تحقیقات
سنیچر کے روز ، ٹیکساس میں ٹیسلا کار کے درخت سے ٹکرا جانے اور آگ لگنے کے بعد دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
متاثرہ افراد میں سے ایک کو آگے مسافر والی نشست اور ایک کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر پایا گیا تھا، جس کی وجہ سے پولیس کا خیال ہے کہ کوئی بھی ڈرائیور کی نشست پر نہیں تھا۔
تاہم ، ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے کہا کہ ’اب تک حاصل کردہ ڈیٹا لاگز سے ظاہر ہوتا ہے کہ آٹو پائلٹ فعال نہیں تھا۔‘
ایلون مسک نے ٹویٹ کیا ، ’اس کے علاوہ، معیاری آٹو پائلٹ کو لین لائنوں کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس گلی میں نہیں تھی۔‘
جمعرات کے روز، دو ڈیموکریٹک سینیٹرز نے امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (این ایچ ٹی ایس اے) کو ایک خط بھیجا جس میں انھیں ٹیکساس میں ہونے والے مہلک ٹیسلا حادثے کی تحقیقات کے لیے کہا گیا ہے۔
سینیٹر بلومینتھل اور سینیٹر مارکی نے بھی مستقبل میں ہونے والے حادثات سے بچنے کے طریقوں کا تعین کرنے والی رپورٹ کی درخواست کی۔
این ایچ ٹی ایس اے نے ٹیسلا گاڑیوں سے جڑے 28 حادثوں کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔
ٹیسلا نے بی بی سی کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
یاد رہے کہ گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کی ایک بغیر ڈرائیور والی کار کو امریکی ریاست ٹیکساس میں حادثہ پیش آیا تھا جس میں دو مسافر ہلاک ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس میں ٹیسلا کار ماڈل ایس تیز سپیڈ پر چل رہی تھی لیکن وہ کامیابی کے ساتھ موڑ کاٹنے میں ناکام رہی اور بے قابو ہو کر درخت سے ٹکرا گئی۔ حادثے کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی۔
کار میں سوار دونوں افراد جن کی عمریں پچاس برس سے زیادہ کی ہیں، موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ حادثے کے وقت ٹیسلا کا آٹو پائلٹ فیچر استعمال کیا جا رہا تھا یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہScott J Engle/Reuters
جسے ٹیسلا آٹو پائلٹ کہتی ہے وہ درحقیقت سیمی آٹو ڈرائیورنگ نظام ہے جو کچھ حالات میں کار کو چلا سکتا ہے۔
ٹیسلا کمپنی مکمل طور پر ڈرائیوانگ کا خودکار نظام رواں سال کے اختتام تک جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
’آٹو ڈرائیونگ‘ کے دونوں نظام درحقیقت مکمل طور پر خود کار نہیں ہیں اور خود ٹیسلا کا کہنا ہے کہ انسانی ڈرائیور کو ڈرائیونگ سیٹ پر مکمل طور پر چونکنا رہنے کی ضرورت ہے جس کے ہاتھ سٹیرنگ ویل پر ہونے چاہیں تا کہ بوقت ضرورت گاڑی کا کنٹرول خود سنبھال سکے ۔
لیکن اگر سوشل میڈیا پر دیکھیں تو ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں ڈرائیور یا تو سو رہا ہے یا ڈرائیور سیٹ سے اٹھ کر پچھلی سیٹ پر جاتا ہوا نظر آتا ہے۔ کار کے آٹو ڈرائیونگ نظام کے غلط استعمال کی وجہ سے کچھ حادثات پیش آ چکے ہیں۔
برطانیہ کے کار سیفٹی ریسرچ گروپ تھیچم اور کئی دوسرے ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیسلا کمپنی جس انداز میں ڈرائیور کے لیے مددگار نظام کو پیش کرتی ہے وہ گمراہ کن ہے اور اس سے لوگوں کو خطرناک رویہ اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
جرمنی میں ٹیسلا کمپنی پر اپنے اشتہارات میں ’آٹوپائلٹ انکلوسیو‘ یعنی آٹو پائلٹ فیچر بھی شامل کی اصطلاح استعمال کرنے پر پابندی لگ چکی ہے۔ .


،تصویر کا ذریعہScott J Engle/Reuters
سیلف ڈرائیونگ
امریکی کار ساز کمپنی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ کار کو مکمل طور پر چلانے والے نظام کو رواں برس میں متعارف کرائیں گے۔
البتہ گذشتہ مہینے امریکہ کی نیشنل ہائی وے سیفٹی انتظامیہ نے ٹیسلا کاروں کو پیش آنے والے ستائیس حادثوں کی تفتیش شروع کی ہے۔
اسی سے ملتے جلتے ایک اور واقعے میں شنگھائی آٹو شو میں ٹیسلا کار کی ایک مالک گاڑی کی چھت پر کھڑے ہو کر گاڑی کی بریکوں کے فیل ہونے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروا رہا تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ٹیسلا کی ایس ماڈل میں آگ لگنے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔
دو ہزار اٹھارہ میں برٹش ٹی وی ڈائریکٹر مائیکل مورس کی ٹیسلا کار کو آگ لگ گئی تھی۔ اسی طرح دو ہزار سولہ میں فرانس میں ٹیسلا کی ایس ماڈل گاڑی میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
سنہ 2013 میں ٹیسلا کی ایس ماڈل میں آتشزدگی کے کئی واقعات پیش آئے تھے۔











