نہر سوئز کے علاوہ تجارت کے لیے دنیا کے اہم بحری راستے کون سے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرنانڈا پال
- عہدہ, بی بی سی نیوز منڈو
نہر سوئز میں بحری جہاز ایورگیون صرف چھ دن پھنسا رہا لیکن اس کے باعث عالمی تجارت کو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا اور متعدد کمپنیوں کو شدید نقصان پہنچا اور مقامی آمدورفت کے سہولت فراہم کرنے والوں، سپرمارکیٹس، مینوفیکچررز اور ریٹیلرز سب ہی اس کی زد میں آئے۔
جرمنی کی انشورنس کمپنی آلیانز کی جانب سے کیے گئے تجزیے کے مطابق عالمی تجارتی ترقی کی شرح میں اعشاریہ دو سے اعشاریہ چار پوائنٹس تک کی کمی آئی ہے۔
جہاں یہ بات درست ہے کہ اس بحری گزرگاہ کا عالمی تجارت میں ایک انتہائی اہم کردار ہے لیکن یہ ایسی اکیلی گزرگاہ نہیں ہے۔ چین بھی ایسی ہی ایک گزرگاہ میں دیگر طاقتوں کے سیاسی اثرورسوخ کے باعث پاکستان کا رخ کر چکا ہے۔
چین کی پاکستان کے شہر گوادر سے بحیرہ عرب تک پہنچنے کے منصوبے پر تو بات ہو گی مگر پہلے دنیا کی کچھ اہم آبی گزرگاہوں کا ذکر کر لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نہر سوئز
مشرقی اور مغربی دنیا کے درمیان یہ گزرگاہ مصر میں واقع ہے اور یہاں سے باقاعدہ تجارت کا آغاز 1869 میں ہوا تھا۔ یہ 193 کلو میٹر لبمی ہے اور یہ بحیرہ روم کو بحیر احمر سے جوڑتی ہے۔
سوئز کینال اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2020 میں یہاں سے 19311 بحری جہازوں کی آمدورفت ہوئی تھی جس میں 121 کروڑ ٹن کارگو کی تجارت ہوئی تھی۔
یہ عالمی تجارت کا تقریباً 12 فیصد بنتا ہے اور یہ عالمی معیشت کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
جن اشیا کی تجارت اس نہر کے ذریعے کی جاتی ہے ان میں نمایاں تیل ہے۔ سوئز کینال اتھارٹی کے اندازے کے مطابق یہاں سے خام تیل کے تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ گزرتے ہیں۔
اس کے علاوہ تقریباً آٹھ فیصد ایل این جی کی تجارت بھی نہر سوئز کے ذریعے کی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہسپانوی بحری انجینیئر اور میریٹائم ٹریفک کے ماہر ہورہے پلا پیرالونسو نے بی بی سی منڈو کوبتایا کہ 'یہ گزرگاہ یورپ تک اشیا کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔'
اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اگر نہر سوئز کی گزرگاہ نہ ہوتی تو ایشیا پیسیفک، بحیرہ ہند، بحیرہ عرب اور یورپ کے درمیان ہونے والے مال بردار بحری جہازوں کو براعظم سے گزرنا پڑتا جس سے نہ صرف قیمتوں میں اضافہ ہوتا بلکہ آمدورفت کا وقت بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
اس حوالے سے ایک متبادل راستہ 'کیپ آف گڈ ہوپ' سے ہو کر گزرتا ہے جو بحری حادثوں کے باعث مقبول ہے اور یہاں سے نہر سوئز کے مقابلے میں نو دن زیادہ لگ جاتے ہیں۔
پیرالونسو کے مطابق نہر سوئز کو سیاسی تنازعات کے باعث اب تک تاریخ میں تین مرتبہ بند کیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ 'اس کے باعث پیدا ہونے والا بحران انتہائی سنگین تھا اور اس وقت ٹریفک کا ویسا دباؤ نہیں تھا جیسا آج ہے۔'
یہ نہر مصر کی آمدنی کا ایک انتہائی اہم ذریعہ ہے۔ موڈیز انویسٹر سروس کی جانب سے کیے گئے تجزیے کے مطابق عالمی وبا سے قبل جتنی بھی آمد و رفت یہاں سے ہوتی تھی وہ مجموعی ملکی پیداوار کا دو فیصد بنتا ہے۔
نہر پانامہ
سنہ 1914 میں نہر پانامہ میں آمد و رفت کے آغاز سے عالمی تجارت میں انقلاب آیا۔
گو اب اس بات کو ایک صدی سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن 20 ویں صدی کی لاطینی امریکی انجینئرنگ کے ایک عظیم کام نے دنیا کے دو سب سے بڑے سمندروں یعنی بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کے مابین مختصر ترین راستہ تشکیل دیا ہے۔
یہاں سے عالمی تجارت کا چھ فیصد مال گزرتا ہے اور ہر سال یہاں سے 13 ہزار مال بردار بحری جہاز گزرتے ہیں۔
اس نہر کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ یہاں سے تقریباً 144 سمندری راستہ نکلتے ہیں جو 160 ممالک کو ایک دوسرے سے ملاتے ہیں اور ایک ہزار سات سو بندرگاہوں کے درمیان سامان کی تجارت ہوتی ہے۔
یہ پانامہ کے لیے خود بھی انتہائی اہم ہے۔ مثال کے طور پر اتھارٹی آف پانامہ کینال کے مطابق سنہ 2020 کے مالیاتی سال میں اس گزرگاہ کے باعث مجموعی ملکی پیداوار کو دو اعشاریہ سات فیصد کا فائدہ ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہورہے پلا پیرالونسو کے مطابق یہ پانامہ کے لیے آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ یہ امریکہ سے آنے والے بحری جہازوں کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے جو انھیں مشرق سے مغرب آنے والی ٹریفک سے بچ کر آمد ورفت کی ایک مختلف گزرگاہ فراہم کرتا ہے۔ یہ لاطینی امریکہ کے لیے بہت اہم۔
پیرالونسو کے مطابق 'لاطینی امریکی خطے کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ بیشتر ممالک اس چینل سے فائدہ اٹھاتے ہیں، کیریبیئن اور کیریبین سے بحر الکاہل تک بہت زیادہ تجارت کی جاتی ہے۔'
لیکن یہ چینل باقی گزرگاہوں کے مقابلے میں خاصا پیچیدہ ہے۔
یہ 'تالوں کے نظام' کی بنیاد پر بنایا گیا ہے حالانکہ اس کے باعث اسے بلا روک ٹوک آمدورفت بحال رکھنے میں مدد ملی ہے لیکن شاید اس کی اصل کمزوری یہ ہے کہ اس کے آپریشنل رہنے کا انحصار بارشوں پر ہے۔
گذشتہ چند سالوں میں خاص کر سنہ 2016 میں اس نہر کی توسیع کی گئی تھی تاکہ پانی کے استعمال میں بہتری لائی جا سکے۔
تاہم بحر الکاہل اور بحر اوقیانوس کے مابین مصنوعی سڑک کو جب سنہ 2020 میں جب بدترین قدرتی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا تو اس بات کا انکشاف ہوا کہ اس گزرگاہ میں پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔
سنہ 2019 میں بارشوں کی کمی نے بحری جہازوں کو ایک سمندر سے دوسرے سمندر میں منتقل کرنے والے پیچیدہ لاک میکانزم کی کمزوریوں کو افشا کیا۔
نہر کا انچارج ادارہ آپریشن کو رواں رکھنے کے لیے مختلف اقدامات پر کام کر رہا ہے جس میں یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد کو کم کرنا بھی شامل ہے۔
آبنائے ہرمز
بلاشبہ یہ دنیا کا ایک سب سے سٹریٹیجک سمندری راستہ ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں تیل پیدا کرنے والوں کو ایشیا پیسیفک، یورپ اور شمالی امریکہ کی کلیدی منڈیوں سے جوڑتا ہے۔
صرف 160 کلومیٹرز لمبا اور انتہائی تنگ گزرگاہ ہرمز کو نہر سوئز اور پانامہ کے برعکس کسی ملک کی جانب سے کنٹرول نہیں کیا جاتا۔
یہ خلیج فارس کو خلیج عمان سے جوڑتا ہے جہاں ایران، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک واقع ہیں اور بحیرہ عرب بھی ہے۔
آبنائے ہرمز کے انتہائی تنگ نقطے پر یہ نہر عمان کو ایران سے صرف 33 کلو میٹر کے فاصلے سے الگ کرتی ہے۔
اس میں دو سمندری گزگاہیں ہیں، جو صرف 3 کلومیٹر لمبی ہیں۔
اگرچہ اس نہر میں نقل و حمل کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن امریکہ کے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق عالمی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ یہاں سے گزرتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں یہاں سے ہر روز دو کروڑ 10 لاکھ بیرل خام تیل اس بحری گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ ای آئی اے کے مطابق یہ دنیا بھر کی پیٹرولیئم مصنوعات کا تقریباً 21 فیصد بنتا ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والا زیادہ تر سامان (تیل) سعودی عرب سے آتا ہے اور اس کی نمایاں منزلیں چین، انڈیا، جاپان، جنوبی کوریا اور سنگاپور کی ایشیائی منڈی ہوتی ہیں۔
اس لیے شاید پڑھنے والے یہی سوچیں گے کہ یہ علاقہ کئی ممالک کے مابین تناؤ کا مرکز ہو گا۔
سنہ 2018 یہ توجہ کا مرکز اس وقت بنا جب ایران کی جانب سے دھمکی دی گئی کے وہ اس گزرگاہ بلاک کر دے گا۔ یہ پیش رفت امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبرداری اور تہران پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد سامنے آئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تازہ ترین امریکی پابندیوں سے قبل مرتب کیے گئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایران کی طرف سے گزرنے والے راستے کو روکنے کی دھمکیوں سے دنیا کو اس لیے تشویش لاحق ہو جاتی ہے کیونکہ اگر یہ راستہ بند ہو جاتا ہے تو دنیا کی تیل کی فراہمی میں 20 فیصد کمی واقع ہو گی۔
تاہم پیرالونسو کے مطابق یہ صرف ایک وارننگ کے طور پر استعمال کیا جانے والا حربہ ہے تاکہ 'دباؤ میں اضافہ' کیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ 'ایسا اقدام کسی ایسے ملک کے لیے اٹھانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے جس کی معیشت کا دارومدار تیل پر ہے۔'
آبنائے ملاکا
یہ بحر ہند بحر الکاہل اور بحر الکاہل کے جوڑنے والی تقریباً 9 930 کلومیٹر لمبی گزرگاہ ہے۔
سنگاپور کے سامنے یہ اپنے سب سے تنگ نقطے پر ہوتا ہے جہاں اس کی چوڑائی صرف 27 کلومیٹر رہ جاتی ہے۔
عالمی تجارت پر نظر رکھنے والے ایک ادارے کے مطابق یہاں سے ہر سال 84 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں جو عالمی تجارت کا 25 فیصد بنتا ہے۔
یہاں سے گزرنے والے سامان کا دو تہائی حصہ خلیج فارس کے خام تیل پر مشتمل ہے۔ یہ تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ بیرل ہوتا ہے جو زیادہ تر چین اور جاپان پہنچایا جاتا ہے۔
لیکن یہ بھاری بھرکم بحری جہازوں اور کنٹینرز کے لیے بھی ضروری ہے۔
چین ، جاپان اور جنوبی کوریا جیسی معاشی طاقتوں کے لیے بلکہ ابھرتے ہوئے جنوب مشرقی ایشیا کے لیے بھی آبنائے ملاکا تیزی سے اہم ہو رہی ہے۔
پیرالونسو کہتے ہیں کہ مشرق وسطی اور مشرقِ بعید کے درمیان ہونے والی تجارت کے لیے یہ انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور یہ انڈیا، چین اور خلیج فارس کو جوڑنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔
تاہم چین آبنائے ملاکا پر زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اسے لگتا ہے کہ اکثر ممالک کے یہاں سیاسی مفادات ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہی وجہ تھی کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے سنہ 2013 میں پاکستان کے ساتھ مل کر چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ شروع کیا تھا۔
یہ دراصل 'نیوسلک روڈ' کا ایک حصہ ہے جو دونوں ممالک آنے والے سالوں میں مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا مقصد چین کے مغربی خطے کو پاکستان کے ذریعے بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند سے جوڑنا ہے۔
چین کی جانب سے اس بڑے منصوبے کی حمایت کرنا دراصل سٹریٹیجک ہے کیونکہ چین چاہتا ہے کہ اسے بحیرہ ہند تک موثر اور عملی رسائی مل جائے جو اسے آبنائے ملاکے کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکی۔












