کامل احمدی: برطانوی محقق جو جیل سے بچنے کے لیے پہاڑوں کے راستے ایران سے فرار ہوئے

کامل احمدی

،تصویر کا ذریعہkameel ahmedy

،تصویر کا کیپشنکامل احمدی طویل پیدل سفر کر کے ایران سے نکلنے میں کامیاب ہوئے
    • مصنف, جیمز لینڈل
    • عہدہ, بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار

ایرانی نژاد برطانوی محقق اور ماہر بشریات کامل احمدی جنھیں ایران میں نو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کس طرح پیدل پہاڑ عبور کر کے ایران سے فرار ہو کر برطانیہ پہنچے ہیں۔

کامل احمد کو دو ماہ قبل ایران مخالف ملکوں کے ساتھ ساز باز کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ وہ اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

انھوں نے ضمانت پر رہائی کے دوران اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی ملک سے فرار ہونے کے بارے میں بھی سوچنے لگے۔

کامل احمدی نے پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں سے بچنے کے لیے پہاڑی راستہ اختیار کیا۔ ایک ایسا سفر جسے وہ انتہائی طویل، کٹھن اور خظرناک قرار دیتے ہیں۔

کامل احمدی مغربی ایران میں بسنے والے کرد نسل کے لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کے والدین نے انھیں اٹھارہ برس کی عمر میں برطانیہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیج دیا تھا۔

وہ کئی برس تک برطانیہ میں مقیم رہے جہاں انھوں نے کینٹ یونیورسٹی اور اس کے بعد لندن سکول آف اکنامکس سے اعلی تعلیم مکمل کی۔

انھیں برطانیہ اس قدر پسند آیا کہ انھوں نے ایران لوٹنے سے قبل برطانوی شہریت کے لیے درخواست دی۔ تعلیم کے اعتبار سے ماہر بشریات ہونے کے ناطے وہ ایران میں کم عمر شادیوں اور خواتین کی ختنے کرنے کی روایت پر تحقیق کرنا چاہتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اپنے تحقیقاتی کام کی وجہ سے وہ جلد ہی حکام کی نظر میں آ گئے کیونکہ وہ لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر کو بڑھانے کی مہم چلا رہے تھے۔ ایران میں اس وقت لڑکیوں کی شادی کی عمر تیرہ برس ہے۔

اگست سنہ 2019 میں ایک دن صبح صبح تہران میں ان کے گھر پر دستک ہوئی اور کسی نے کہا کہ ڈاکیہ۔

کامل احمدی نے جب دروازہ کھولا تو پاسداران انقلاب کے 16 اہلکار ان کے گھر میں گھس آئے اور انھیں گرفتار کر کے ایران کے بدنام ترین قید خانے ایون میں رکھا گیا۔

تہران

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکامل احمدی نے اپنی اپیل مسترد ہونے کے بعد ایران سے فرار ہونے کا فیصلہ کیا

کامل احمدی کا دعویٰ ہے انھیں صرف اس لیے گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ ان کے پاس دوہری شہریت تھی، بلکہ اس لیے کہ ایران برطانیہ کی طرف سے ایرانی تیل بردار جہاز کو جبرالٹر کے قریب اپنے قبضے میں لینے کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔

ایرانی تیل بردار جہاز کو یورپی یونین کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر تحویل میں لیا گیا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ دوہری شہریت کے حامل لوگوں کو ایران میں ہمیشہ خطرہ رہتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے تفتیش کار نے کہا کہ تمہارا معاملہ بڑا دلچسپ ہے۔ اول یہ کہ تم کرد ہو، دوئم یہ کہ تم سنی فرقے سے ہو اور سوئم یہ کہ تم حساس نوعیت کے سماجی مسائل پر تحقیق کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ تم صرف تحقیق نہیں کر رہے تھے بلکہ تم آگاہی بھی پیدا کرنے کی کوشش میں تھے۔

کامل نے تین ماہ ایون کی جیل میں گزارے جہاں ان کے مطابق تفتیش کاروں نے انھیں ذہنی دباؤ کا شکار بنایا۔

انھوں نے بتایا کہ انسانی سطح پر ان کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی گئی لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ کبھی ’وائٹ ٹارچر‘ کے طریقے کو کم نہ سمجھیں۔

انھوں نے کہا کہ آپ کو نفسیاتی دباؤ کا شکار کیا جاتا ہے اور وہ اس کام میں بہت ماہر ہیں کہ کب آپ کو مزید ذہنی دباؤ کا شکار بنانے کی ضرورت ہے۔

’یہ سب ایک دماغی کھیل اور ایک طرح کا کارروبار ہے۔ میں آپ کو یہ دیتا ہوں آپ مجھے وہ دیں۔ ایک منٹ کی فون کال کے لیے آپ کو گھنٹوں اپنے تفتیش کاروں سے الجھنا پڑتا ہے۔ آدھے گھنٹے کی ہوا خوری جس کی آپ کو اجازت ہے اس میں پانچ منٹ کا اضافہ اور کال کوٹھری میں واپسی جو کسی قبر سے کم نہیں ہوتی۔‘

ٹینکر

،تصویر کا ذریعہERWIN WILLEMSE

،تصویر کا کیپشنایران نے بھی ایک برطانوی جہاز کو تحویل میں لے لیا تھا

تین ماہ بعد انھیں مقدمہ چلائے جانے سے پہلے رہا کر دیا گیا لیکن ان کی کڑی نگرانی کی جاتی رہی۔

گذشتہ سال دسمبر میں دشمن ممالک سے ساز باز کرنے کے جرم میں انھیں سزا سنا دی گئی۔

اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی وہ تردید کرتے ہیں لیکن استغاثہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایک خیراتی ادارے کے لیے کام کیا تھا جس کو امریکہ سے مالی امداد ملی تھی۔

ان پر لگائے جانے والے الزامات میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کا الزام بھی شامل تھا۔

انھیں نو سال قید اور پانچ لاکھ پاؤنڈ جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی لیکن جب انھیں ضمانت پر رہائی ملی تو انھوں نے ایران سے فرار ہونے کا فیصلہ کیا۔

’میری اپیل مسترد ہو گئی تو پھر میں نے فرار ہونے کا ارادہ کر لیا۔ میں دس سال تک قید میں اپنے بچے سے دور نہیں رہنا چاہتا تھا۔ جب میں قید سے رہا ہوتا تو وہ 15 برس کا ہو چکا ہوتا۔‘

کامل احمدی اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کے علاوہ کسی کو بتائے بغیر پیدل ہی چوری چھپے ملک سے فرار ہونے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔

’میں بس نکل پڑا، اپنا بیگ اٹھایا اس میں شیو کرنے کا سامان، چند کتابیں اور لیپ ٹاپ لے کر چل پڑا۔‘

انھوں نے چند گرم کپڑے بھی ساتھ لے لیے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ انھیں پہاڑی راستے سے گزر کر ایران سے نکلنا پڑے گا جہاں شدید سردی اور طویل تاریک راتیں کھلے آسمان تلے گزارنا پڑ سکتی ہیں۔

’مجھے سب کچھ چھوڑنا پڑا جن سے مجھے پیار تھا، جن کے لیے میں کام کر رہا تھا وہ تمام انسانی رشتے۔ یہ بہت تکلیف دہ تھا۔ اگر میں پکڑا جاتا تو مجھے دوبارہ جج کے سامنے پیش کیا جاتا اور خدا جانے پھر کیا حالات ہوتے۔‘

’یہ بہت مشکل اور کٹھن فیصلہ تھا۔ یہ جذباتی لحاظ سے بھی مشکل فیصلہ تھا۔ یہ جسمانی اور دماغی اعتبار سے بھی مشکل تھا۔ یہ ایک ایسا قدم تھا جو میرے مزاج کے خلاف تھا۔ انھوں نے مجھے بھاگنے پر مجبور کر دیا اور یہ انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔‘

کامل احمدی کو برطانیہ میں غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی نوکری نہیں۔

’میں نے وہ کیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا۔ میں دس سال تک قید میں نہیں رہ سکتا تھا۔ میں باہر رہ کر بہت کچھ کر سکتا ہوں اور مجھ پر اپنے گھر والوں کی ذمہ داری بھی ہے۔‘

اب دیکھنا یہ ہے ایران کا اس پر کیا رد عمل سامنے آتا ہے اور ایران میں دوہری شہریت رکھنے والے دوسرے لوگوں پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے۔