امریکہ کی جانب سے حوثی باغیوں کو بلیک لسٹ کرنے سے ’یمن بڑے قحط کا شکار ہوسکتا ہے‘

یمن حوثی، قحط

،تصویر کا ذریعہEPA

اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کی تحریک کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے امریکی منصوبے سے ایک ایسے قحط کا امکان پیدا ہو سکتا ہے کہ ’جو گذشتہ 40 برسوں میں بھی نہیں دیکھا گیا۔‘

تنظیم میں امداد کے چیف مارک لوکاک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ باغیوں کے زیر انتظام علاقوں کے لیے اہم اشیا کی درآمدات کے خصوصی لائسنس کا اجرا بھی اس تباہی سے یمن کو نہیں بچا سکے گا۔

انھوں نے متنبہ کیا کہ ’50 ہزار یمنی آج بھی ایک چھوٹے درجے کے قحط کی وجہ سے بھوک سے مر رہے ہیں۔‘

یمن میں 50 لاکھ لوگوں کی زندگیاں فاقہ کشی کے قریب ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے کہا ہے کہ ’ہم اس اعلان سے پہلے ہی اتنی مشکل میں ہیں۔ یہ اعلان تباہ کن ہوسکتا ہے۔‘

’یہ یمن میں اگر کروڑوں نہیں تو لاکھوں معصوم افراد کے لیے سزائے موت جیسا ہوگا۔‘

یمن ان جھڑپوں سے تباہی و بربادی سے گزر رہا ہے جو 2015 میں شروع ہوئیں۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ نے ملک کے کئی بڑے حصوں پر قبضہ کیا اور سعودی عرب کی سربراہی میں عرب ممالک نے امریکہ کی جانب سے فوجی آپریشن کی حمایت کی جس کا مقصد صدر عبد ربہ منصور ہادی کو واپس لانا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان جھڑپوں سے ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس سے دنیا میں انسانیت کے بدترین بحران کا آغاز ہوا اور اس طرح ملک کی 80 فیصد آبادی کو امداد اور تحفظ کی ضرورت پیش آئی۔

اتوار کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کانگریس کو بتایا کہ 19 جنوری کو حوثی باغیوں کی تحریک کو غیر ملکی دہشتگرد تنظیم (ایف ٹی او) کا درجہ دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ کا عہدہ اس سے اگلے ہی روز ختم ہو رہا ہے اور ان کی جگہ جو بائیڈن لینے جا رہے ہیں۔

پومپیو نے کہا ہے کہ اس کا مقصد اس گروہ کا احتساب ہے ’جو دہشتگرد کارروائیوں، سرحد پار حملوں کے لیے ذمہ دار ہیں جن سے عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ اور جن سے عمارتوں اور کمرشل شپنگ کو نقصان پہنچا ہے۔‘

حوثی رہنما محمد علی الحوثی نے ٹرمپ انتظامیہ پر دہشتگردی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تحریک کسی بھی ایسے اعلان کے خلاف ردعمل کا حق رکھتی ہے۔

حوثی، یمن، امریکہ

،تصویر کا ذریعہReuters

پومپیو نے کہا ہے کہ حوثیوں کے زیر انتظام علاقوں میں امدادی تنظیموں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے امریکہ باخبر ہے۔

ان علاقوں میں آبادی کا بڑا حصہ رہتا ہے اور یہاں وہ کوششیں کریں گے کہ اس کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔

انھوں نے امدادی کارروائیوں اور درآمدات کے لیے خصوصی لائسنس اور رعایتوں کی بات بھی کی ہے۔

لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی جانے والی بریفنگ سے قبل مارک لوکاک نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’امریکہ کی جانب سے حوثیوں کو غیر ملکی دہشتگرد تنظیم قرار دیے جانے سے یمن میں کوئی چھوٹے درجے کا نہیں بلکہ بڑا قحط مزید سنگین ہوسکتا ہے۔‘

قحط کیا ہے؟

اس سے مراد یہ ہے کہ ایک علاقے میں خوراکی کی کمی، شدید غذائی قلت اور اموات میں ایک ساتھ اضافہ۔

  • ایسے علاقوں میں کم از کم 20 فیصد آبادی کے لیے کھانے کی نامناسب اشیا موجود ہوتی ہیں یا پھر ان کے روزگار ختم ہونے کے قریب ہوتے ہیں۔
  • کم از کم 30 فیصد بچوں میں شدید غذائی قلت پائی جاتی ہے۔
  • ہر دس ہزار بچوں میں سے چار بچوں کی موت اسی وجہ سے ہوتی ہے۔

امدادی امور کے سیکریٹری جنرل نے بتایا ہے کہ 15 رکنی ادارے نے پومپیو کی جانب سے دی گئی وضاحت کا جائزہ لیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایک ایسے ملک میں اس نوعیت کا قحط نہیں روکا جا سکتا، جہاں 90 فیصد خوراک درآمد کی جاتی ہے اور اندازوں کے مطابق ایک کروڑ 60 لاکھ لوگ فاقہ کشی سے گزر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ (قحط) کیسے ٹل سکتا ہے؟ اگر امریکہ اپنا فیصلہ بدل لے۔‘

کاک لوکاک نے کہا ہے کہ یمن میں تقریباً تمام تر اشیائے خورد و نوش کمرشل راستوں سے لائی جاتی ہیں اور امدادی تنظیمیں لوگوں کو مارکیٹ سے یہ چیزیں خریدنے کے لیے پرچیاں یا پیسے دیتی ہیں۔

’امدادی ادارے ہر گز درآمدات کے کمرشل نظام کو نہیں بدل سکتے‘

کاک لوکاک کے مطابق کچھ سپلائیرز، بینک، شپرز اور سرمایہ کار ابھی سے اپنے یمنی ساتھیوں سے کہہ رہے ہیں کہ ’اب یمن سے دور جانے کی تیاری پکڑ لو۔‘

یمن حوثی، قحط

،تصویر کا ذریعہEPA

’وہ کہتے ہیں کہ اس کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔

وہ غلطی سے یا کسی اصل واقعے میں امریکی نگراں اداروں کے اقدام میں پھنسنے سے ڈرتے ہیں، جس سے ان کا کاروبار بند ہوسکتا ہے یا وہ جیل جا سکتے ہیں۔‘

ایسے تاجر جو کام جاری رکھنے کے لیے پُرامید ہیں وہ کہتے ہیں کہ اشیا کی قیمتیں 400 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، جس سے یمنی شہریوں کے لیے اشیائے خورد و نوش بہت زیادہ مہنگی ہوجائیں گی۔

’ٹرمپ کے آخری دنوں میں لیے گئے فیصلوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں‘

امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن اس پابندی کو اگلے ہی ہفتے ہٹا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ایک تفصیلی قانونی نظرثانی درکار ہوگی یا اسے کانگریس کی جانب سے روکا جاسکتا ہے۔

بائیڈن کے ایک ساتھی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے آخری وقتوں میں کیے گئے فیصلوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہر فیصلے کو صرف ایک پیمانے پر رکھ کر دیکھا جائے گا: قومی مفاد۔‘