ایس 400 میزائل سسٹم: روسی ساختہ میزائل سسٹم خریدنے پر امریکہ کی ترکی پر تجارتی پابندیاں، ترکی کی جوابی اقدام کی تنبیہ

امریکہ نے اپنے ایک نیٹو اتحادی ترکی پر نئی تجارتی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس کی وجہ ترکی کی جانب سے روسی ساختہ دفاعی میزائل سسٹم کی تعیناتی بتائی گئی ہے جو ترکی نے گذشتہ برس خریدا تھا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ روس کا زمین سے فضا میں فائر کرنے والا میزائل سسٹم ’ایس 400‘ نیٹو کی ٹیکنالوجی کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا اور یہ یورپی، اٹلانٹک (بحر اوقیانوس) اتحاد کے لیے باعث خطرہ ہے۔

پیر کو امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے تجارتی پابندیاں عائد کر کے ترکی میں ہتھیاروں کی خریداری کے محکمے کو ہدف بنایا گیا ہے۔

ترکی اور روس میں حکام نے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔

امریکہ پہلے ہی ترکی کو اپنے ایف 35 فائٹر جیٹ پروگرام سے باہر نکال چکا ہے۔ اس کی وجہ بھی ترکی کی جانب سے روسی ساختہ میزائل سسٹم کی خریداری بتائی جاتی ہے۔

امریکہ کو کس بات پر اعتراض ہے؟

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ نے ترکی کو اعلیٰ سطح پر متعدد بار بتایا ہے کہ ایس 400 سسٹم کی خریداری امریکہ فوجی ٹیکنالوجی اور دستوں کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اور اس سے روسی دفاعی محکمے کے پاس کافی فنڈنگ جمع ہو جائیں گے۔ اس سے روس ترک مسلح افواج اور دفاعی صنعت تک رسائی حاصل کر لے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ترکی نے پھر بھی ایس 500 کی خریداری اور ٹیسٹنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، باوجود اس کے کہ متبادل (سسٹم) دستیاب تھا، نیٹو کا آپسی تعاون کا سسٹم اس کی دفاعی ضروریات پوری کر سکتا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’میں ترکی سے گزارش کرتا ہوں کہ امریکی تعاون کے ساتھ ایس 400 کا مسئلہ فوراً حل کرے۔ ترکی امریکہ کے لیے ایک قیمتی دوست اور خطے میں اہم سکیورٹی پارٹنر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ترکی ایس 400 کی رکاوٹ کو جلد از جلد دور کر کے دفاعی محکمے میں ہماری دہائیوں پرانی تاریخ کو بحال کرے۔‘

ان پابندیوں کا ہدف ترکی کے دفاعی صنعتوں کے ڈائریکٹوریٹ کے صدر اسماعیل دمیر اور مزید تین ملازمین ہیں۔ ان میں امریکہ سے درآمد کے لائسنس پر پابندی کے علاوہ امریکی حدود میں ان افراد کے تمام اثاثوں کو منجمد کر دیا جائے گا۔

ترکی نے جواب میں کیا کہا؟

ترکی کی وزارت خارجہ نے امریکہ سے گزارش کی ہے کہ ’آج کے اعلان کردہ غیر منصفانہ فیصلے پر نظر ثانی کریں۔‘

’اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے ترکی اس مسئلے کو بات چیت اور سفارتی سطح پر حل کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

ترک وزارت نے امریکہ کو متنبہ کیا کہ امریکی پابندیاں ’دونوں کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب کریں گی۔ اور (ترکی) ایسے طریقے اور وقت پر اس کا جواب دے گا جو اسے مناسب لگے گا۔‘

انقرہ کا موقف ہے کہ ترکی نے روسی سسٹم ایک ایسے وقت میں خریدا جب امریکہ نے امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ترک حکام دلیل دیتے ہیں کہ ایک اور نیٹو اتحادی یونان نے بھی اپنا ایس 300 میزائل سسٹم تعینات کیا ہے۔ تاہم یہ روس سے براہ راست نہیں خریدا گیا تھا۔

روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے بھی امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے ’ایک بار پھر بین الاقوامی قانون کی جانب متکبرانہ رویے کا مظاہرہ‘ کیا ہے۔

’امریکہ نے زبردستی ان اقدامات کا مظاہرہ کئی برسوں اور دہائیوں سے کیا ہے جو غیر قانونی اور یکطرفہ ہوتے ہیں۔‘

ترکی امریکہ کے لیے کتنا اہم؟

30 رکنی نیٹو اتحاد میں ترکی کی فوج دوسرے نمبر پر سب سے بڑی ہے۔

یہ امریکہ کے اہم اتحادیوں میں سے ہے اور سٹریٹیجک جگہ پر واقع ہے۔ اس کے ہمسایہ ممالک میں شام، عراق اور ایران ہیں۔

ترکی نے شام کے تنازع میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے کچھ باغی گروہوں کو ہتھیار اور فوجی معاونت فراہم کی ہے۔

تاہم نیٹو اور یورپی یونین کے اراکین کے ساتھ اس کے تعلقات اب خراب ہو چکے ہیں۔ انھوں نے صدر اردوغان پر سنہ 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے زیادہ آمرانہ انداز اپنانے کا الزام لگایا ہے۔

ایس 400 سسٹم کام کیسے کرتا ہے؟

  • طویل فاصلے تک نگرانی کے لیے ریڈار ہر چیز پر نظر رکھتا ہے اور کمانڈ وہیکل تک معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ کمانڈ وہیکل ممکنہ اہداف کا جائزہ لیتی ہے
  • ہدف کو پہچان کر کمانڈ وہیکل میزائل لانچ کرنے کا حکم دیتی ہے
  • میزائل لانچ کے لیے ایسی وہیکل کا انتخاب کیا جاتا ہے جو سب سے بہتر مقام پر موجود ہو۔ اور زمین تا ہوا میزائل لانچ کیے جاتے ہیں
  • تعاون کے لیے ریڈار میزائل کو ہدف تک پہنچنے میں مدد کرتا ہے

سوشل میڈیا پر ردعمل

پاکستان میں سوشل میڈیا پر صارفین بھی اس معاملے پر اپنا ردعمل دے رہے ہیں اور صارفین کی اکثریت امریکہ کی جگہ ترکی کی حمایت میں ٹویٹس کر رہی ہے۔

ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ ’پاکستان اپنے دوست ملک ترکی کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

اسی دوران پاکستانی صارفین نے اس خیال پر بھی تبصرے شائع کیے جس میں وہ ممکنہ طور پر ترکی کی جانب سے نیٹو چھوڑنے کی بات کر رہے ہیں۔

ذوالفقار احمد نامی ایک صارف نے اپنے تبصرے میں کہا کہ ’جب تک ترکی نیٹو کا حصہ ہے، اسے اپنے دفاع کے لیے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو کسی نیٹو اتحادی کے خلاف ہے۔‘

’اگر ترکی اپنی آزاد راہ پر گامزن ہونا چاہتا ہے تو اسے نیٹو چھوڑ دینا چاہیے۔ امریکی پابندیاں نیٹو کو اس راہ پر گامزن کر دیں گی۔‘

مونا نامی صارف نے لکھا کہ نیٹو میں ترکی کی موجودگی سے پاکستان جیسے مسلم ممالک کو فائدہ پہنچتا ہے۔ ’اگر یہ نیٹو سے نکلتا ہے تو کچھ ممالک کے لیے یہ بڑا دھچکا ہو گا۔‘

محمود فاروق نے لکھا کہ ’ترکی کو نیٹو سے نکالنا آسان نہیں۔۔۔ ترکی میں اب بھی امریکی فوجی اڈے ہیں۔‘