سان فرانسسکو: 51 سال بعد قاتل کی جانب سے بھیجا جانے والا معمہ حل لیکن بھیجنے والے کا تاحال کوئی سراغ نہیں

قاتل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسان فرانسسکو پولیس نے سنہ 1969 میں قاتل کا یہ حلیہ شائع کیا تھا

امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ 51 سال بعد کوڈ بریکروں یعنی معمہ سلجھانے والوں نے 340 حروف والے سائفر یعنی خفیہ پیغام کو حل کر لیا ہے جسے نام نہاد زوڈیاک قاتل نے کسی خاص مقصد کے تحت سان فرانسسکو کرونیکل کو ارسال کیا تھا۔

اس قاتل کو کبھی نہیں پکڑا جا سکا لیکن اس نے سنہ 1960 کی دہائی کے اواخر میں پانچ افراد کو چاقو مار کر اور گولی مار کر قتل کر دیا تھا جس سے خلیجِ سان فرانسسکو کے علاقے میں دہشت کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔

جس دوران یہ قتل زوروں پر تھے اسی دوران یہ پیغام اخبار کو بھیجے گئے تھے اور یہ متعدد پیغامات میں سے ایک تھا۔

اس کوڈ کو امریکہ، بیلجیئم اور آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے تین افراد نے مل کر حل کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پیغام میں قاتل کی شناخت پر کوئی روشنی نہیں پڑتی لیکن اس میں جو لکھا ہے وہ اس طرح ہے: ’مجھے امید ہے کہ آپ کو مجھے پکڑنے کی کوشش میں بہت مزا آرہا ہوگا۔ میں گیس چیمبر سے نہیں ڈرتا کیونکہ وہ مجھے اور بھی جلدی جنت پہنچا دے گا، کیونکہ اب میرے پاس میرا کام کرنے کے لیے کافی غلام ہیں۔'

یوٹیوب پر شائع کی گئی ایک ویڈیو میں ورجینیا کے ویب ڈیزائنر ڈیوڈ اورینچاک نے کہا کہ انھوں نے آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے اپلائیڈ ریاضی دان سیم بلیک اور بیلجیئم کے جارل وان آئیکے کے ساتھ مل کر اس خفیہ پیغام کو حل کر لیا ہے۔ وان آئیکے ایک گودام منیجر اور خفیہ کوڈ توڑنے والے سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اس پیغام کے بارے میں مسٹر اورینچاک نے بتایا کہ یہ ’زوڈیاک کی جانب سے توجہ حاصل کرنے کی غرض سے بھیجا جانے والا وہی کچرا ہے‘ جس میں علامات اور کیپٹل حروف کی قطاریں ہیں۔ کوڈ توڑنے والی ٹیم نے اس پیغام کو سمجھنے کے لیے انسانی اختراع اور سافٹ ویئر کا استعمال کیا اور انھوں نے اپنی اس کوشش کو مقتولین اور ان کے لواحقین کے نام منسوب کیا ہے۔

معمے کو حل کرنے کے کارنامے کی تصدیق کرتے ہوئے ایف بی آئی نے کہا کہ وہ ہلاک ہونے والوں کے لیے انصاف کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔

بہر حال سان فرانسسکو کرانیکل کا کہنا ہے کہ یہ قاتل سے منسوب کوئی پہلا کوڈ والا پیغام نہیں ہے۔ دو دیگر انکوڈڈ پیغامات ہیں جنھیں ابھی حل کرنا باقی ہے اور ان میں سے ایک میں قاتل کا نام شامل ہوسکتا ہے۔

قتل کا سلسلہ دسمبر سنہ 1968 میں شروع ہوا تھا جب ایک مرد اور ایک عورت کو ان کی کار میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ جولائی سنہ 1969 میں ایک اور مرد اور عورت کو گولی ماری گئی لیکن وہ بچ گئے۔

2007 میں زوڈیاک نامی فلم میں رابرٹ ڈاؤنی جونیئر نے اداکاری کی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن2007 میں زوڈیاک نامی فلم میں رابرٹ ڈاؤنی جونیئر نے اداکاری کی ہے

اسی سال کے آخر میں ایک مرد اور ایک عورت یعنی ایک جوڑے پر ایک جھیل کے قریب چاقو سے حملہ کیا گیا جس میں صرف مرد زندہ بچا۔ اکتوبر سنہ 1969 میں سان فرانسسکو میں ایک ٹیکسی ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔

اس قاتل کی نہ تو کبھی شناخت ہو سکی اور نہ ہی اس پر کوئی مقدمہ چلایا جا سکا۔ اس نے اخبار کو لکھے اپنے خطوط میں 37 افراد کے قتل کا دعوی کیا تھا۔ لیکن تفتیش کرنے والوں نے صرف سات افراد پر حملے کی بنیاد پر تحقیقات شروع کیں جن میں سے پانچ افراد کی موت ہو گئی تھی۔

قتل کی ان وارداتوں پر دو فلمیں بنائی گئیں ہیں جن میں سے ایک '2007 کی زوڈیاک' تھی اور اس میں رابرٹ ڈاؤنی جونیئر اور جیک جائلنہال نے اداکاری کی تھی جبکہ سنہ 1971 میں 'ڈرٹی ہیری' فلم آئی تھی جس میں کلنٹ ایسٹ وڈ نے سان فرانسسکو کے سخت جاسوس کا کردار ادا کیا تھا۔