جاپان میں ٹوئٹر کے ذریعے اپنا ہدف تلاش کر کے نو افراد کو قتل کرنے والے سیریل کلر کو موت کی سزا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جاپان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے اپنے ’شکار‘ کو پھنسا کر انھیں ہلاک کرنے والے شخص کو سزائے موت سُنا دی گئی ہے۔ اس شخص نے نو افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔
سنہ 2017 میں ’ٹوئٹر کِلر‘ کے نام سے مشہور ٹاکاہیرو شیرائیشی کو پولیس نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب ان کے فلیٹ سے انسانی اعضا برآمد ہوئے تھے۔
انھوں نے اکتوبر میں ملک کے دارالحکومت ٹوکیو کی ایک عدالت کے سامنے اعتراف جرم کیا تھا کہ ان پر لگائے گئے ’تمام الزامات‘ درست ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت نوجوان خواتین کی تھی۔
منگل کے روز اس مقدمہ کا فیصلہ سنانے والے جج کا کہنا تھا کہ ’قتل ہونے والوں میں سے کسی نے بھی قتل کیے جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔‘ جاپان کے روزنامہ دی سٹریٹ ٹائمز کے مطابق جج کا کہنا تھا کہ ’مدعا علیہ پوری طرح سے ذمہ دار پایا گیا ہے۔‘
اس سے قبل شیرائیشی کے وکلا نے موقف اپنایا تھا کہ تمام قتل کیے جانے والے افراد نے مرنے کے لیے ان کے موکل کے سامنے رضامندی کا اظہار کیا تھا، اس لیے اُن کی سزا میں کمی ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم شیرائیشی کے اپنے وکلا کے ساتھ اس معاملے میں اختلافات تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی دفاعی ٹیم کا قانونی موقف درست نہیں کیونکہ کسی نے انھیں قتل کی اجازت نہیں دی تھی۔
شیرائیشی نے نو قتل کیے جن میں سے آٹھ خواتین تھیں۔ ان میں سے ایک کی عمر صرف 15 برس تھیں۔ ان کے ہاتھوں قتل ہونے والا واحد 10 سالہ لڑکا اُس وقت مارا گیا جب وہ اپنی گمشدہ گرل فرینڈ کی تلاش میں ان تک پہنچ گیا تھا۔
اس مقدمے نے اس بحث کو جنم دیا تھا کہ انٹرنیٹ پر خودکشی کے بارے میں کیسے بات کی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
30 سالہ قاتل شیرائیشی خودکشی کی خواہش مند خواتین کو ٹوئٹر پر تلاش کر کے انھیں اپنے گھر بلانے کی ترغیب دیتے اور اپنے ہدف کو یہ کہہ کر راضی کرتے کہ وہ مرنے میں ان کی مدد کر سکتا ہے۔ کچھ مواقعوں پر اس نے یہ دعویٰ بھی کیا وہ انھیں مار کر اپنی جان بھی لے لے گا۔
اس مقدمے پر پورے جاپان کی توجہ مرکوز رہی اور اکتوبر میں جاپان کی ایک عدالت میں سماعت کی کارروائی دیکھنے کے لیے صرف 13 عوامی نشستیں دستیاب تھیں تاہم ان 13 نسشتوں کے لیے 600 سے زیادہ افراد مقدمے کی کارروائی دیکھنے کے لیے عدالت پہنچے تھے۔
استغاثہ کے مطابق ملزم نے مارچ 2017 میں اس نیت سے ٹوئٹر پر اکاؤنٹ بنایا کہ وہ ایسی خواتین سے رابطہ قائم کرے گا جو خودکشی کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ اس کے خیال میں یہ آسان ہدف ثابت ہو سکتی تھیں۔
کیس کی تحقیقات کرنے والوں کے مطابق شیرائیشی کی ٹوئٹر پروفائل میں لکھا تھا ’میں ایسے لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں جو صدمے میں مبتلا میں۔ مجھے کسی بھی وقت پیغام بھیجیں۔‘
پولیس کو اس سیریل کلر کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب وہ ایک خاتون کی گمشدگی کی تفتیش کے دوران ٹوکیو کے قریب واقع شہر زاما میں شیرائیشی کے فلیٹ پر پہنچے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ خاتون بھی شیرائیشی کا نشانہ بن چکی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولیس کو فلیٹ سے انسانی اعضا ملے جن میں کٹے ہوئے سر، بازو اور ٹانگ کی ہڈیاں شامل تھیں۔
قتل کے ان واقعات نے جاپانی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب سنہ 2017 میں پہلی بار اس سیریل کلر کے بارے میں رپورٹس منظر عام پر آئیں تو ایسی ویب سائٹس کے حوالے سے بھی بحث شروع ہو گئی جن پر لوگ اپنی جان لینے یا اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی بات کرتے ہیں۔
اُس وقت حکومت نے یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے قوانین سخت کرے گی۔
اس کیس کی وجہ سے ٹوئٹر کو بھی اپنے قواعد میں تبدیلی لانی پڑی تھی جس کے تحت سوشل میڈیا ویب سائٹ پر ’خودکشی یا اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔‘
جاپان ترقی پزیر ممالک میں خودکشی کے واقعات کے لحاظ سے ہمیشہ سرفہرست رہا ہے تاہم ایک دہائی قبل متعارف کروائے گئے قوانین کی وجہ سے اس کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔












