کورونا وائرس اور آن لائن تعلیم: وہ پانچ تجاویز جو گھر رہ کر بہتر انداز میں پڑھائی کرنے میں مدد کر سکتی ہیں

- مصنف, ہیزل شیرنگ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
جب رواں برس بیتھنی ویکنشاہ نے اپنا نرسنگ کورس شروع کیا تو وہ سی پی آر یا دیگر جان بچانے کے طریقوں کی پریکٹش کرتے ہوئے اپنے اساتذہ سے عملی تجاویز ان کی موجودگی میں ہی لے سکتی تھی۔ مگر پھر کورونا وائرس کی وبا آئی اور ان کی کلاسز آن لائن منتقل ہو گئیں۔
مگر اساتذہ کی بہترین کوششوں کے باوجود وہ آن لائن کلاسز کو پسند نہیں کرتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جب آپ اپنے گھر میں ہوتے ہیں تو پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ (اساتذہ) آپ کو دیکھ ہی نہیں سکتے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ گھر میں رہتے ہوئے آپ یہ سوچ پر اپنا موبائل اٹھاتے ہیں کہ صرف چند سیکنڈز میں اسے دیکھ کر واپس رکھ دیں گے مگر پھر اس کام میں دس منٹ صرف ہو جاتے ہیں اور پتا بھی نہیں چلتا۔
بیتھنی ان طلبہ میں سے ایک ہیں جنھوں نے آن لائن کلاسز کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کی جانب سے اپنے خیالات کا اظہار ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب دنیا بھر کے بیشتر ممالک کی طرح انگلینڈ میں بھی تمام تر تعلیمی سرگرمیوں کو آن لائن منتقل کیا جا رہا ہے۔
آن لائن کلاسز لیتے ہوئے آپ کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں مگر ہم یہاں وہ پانچ تجاویز رکھ رہے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر آپ بہتر انداز میں گھر رہ کر تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔
اپنے کمرے کو منظم کریں
آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر روہنا شارپ کہتی ہیں کہ یہ بات اہم ہے کہ آپ نے ایک جگہ مختص کی ہو جسے آپ صرف اور صرف پڑھنے کے لیے استعمال کرتے ہوں، چاہے وہ جگہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ اور اگر ایک صحیح میز بھی وہاں موجود ہو تو بہت اچھا ہے۔ کوشش کریں کہ اس جگہ آپ کو قدرتی روشنی بھی ملے۔ اور اگر اس کمرے میں کوئی کھڑکی بھی ہے تو اس سے بہتر کیا ہو سکتا ہے کیونکہ کھڑکی سے باہر دور تک دیکھ کر آپ اس دقت سے نجات پا سکیں گے جو موبائل، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر سکرین کو لگاتار دیکھنے سے ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر ایسا کہنا آسان اور کرنا مشکل ہے، ایسا ہی ہے نا؟ اگر آپ کے پاس میز ہی نہ ہو تو پھر؟ پروفیسر شارپ کہتی ہیں کہ ’میں نے ایسے بھی طلبہ دیکھے ہیں جو صرف اپنے لیپ ٹاپ پر بستر میں لیٹ کر ایک مخصوص چادر بچھا کر کہتے ہیں کہ یہ میرے پڑھنے کی جگہ ہے۔‘
پروفیسر شارپ کہتی ہیں کہ ’اس بات پر غور کریں کہ بستر میں لیٹ کی لیکچر دیکھنے اور اپنے آپ کو یہ کہنے میں کہ میں اسے ایسے دیکھوں گا کہ جیسے یہ کوئی خاص موقع ہے، ان دونوں میں کتنا فرق ہے۔‘

آپ بہتر انداز میں کیسے سیکھتے ہیں، اس کا پتا لگائیں
پروفیسر شارپ کہتی ہیں کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کے لیے پڑھنے کا کون سا وقت زیادہ بہتر ہے۔ اگر آپ کو یہ معلوم نہیں کہ آپ دن میں زیادہ بہتر پڑھ پاتے ہیں یا شام میں تو اپنی پڑھائی کے اوقات میں ردوبدل کر کے دیکھیں۔ اگر آن لائن لیکچرز آپ کے لیے نئے ہیں تو ان کو مختلف طریقوں سے سُن کر دیکھیں۔
آپ کو ویڈیو آن رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ یونیورسٹیاں آپ کو لیکچر ڈاؤن لوڈ کرنے کو دیتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو ان لیکچرز کو دگنی سپیڈ پر چلا کر بہتر سمجھ آئے۔ اور بے تحاشہ نوٹس لینے کی بجائے یہ کوشش کر کے دیکھیں کہ آپ 100 الفاظ کے نوٹس لیں گے یا ہر لیکچر یا باب کے پانچ پوائنٹس لیں گے۔
وہ کہتی ہیں کہ بجائے اس کے کہ آپ یہ کہیں کہ چلو جی یہ 20 گھنٹے کا سامان ہے جو کہ میں پورا کرنا ہے آپ ایسے دیکھیں کہ یہ وہ وسائل ہیں جو مجھے میرے کام کرنے میں مدد کریں گے تو بہتر ہو گا۔
اور جو لوگ توجہ کھو بیٹھتے ہیں، ان کے لیے پروفیسر شارپ کہتی ہیں کہ اپنے دن کو 20، 20 منٹ کے ٹکروں میں تقسیم کر کے درمیان میں بریک (وقفہ) ڈال لیں تو بہتر ہو گا۔
ٹائم ٹیبل بنائیں
اوپن یونیوسٹی میں تعلیمی ٹیکنالوجی کے ماہر پروفیسر مارٹ ویلر کا کہنا ہے کہ آن لائن تعلیم کے لیے منظم ہونا اور اپنے دن کی منصوبہ بندی کرنا انتہائی اہم ہے۔
‘جب آپ یونیورسٹی میں ہوتے ہیں عمارتیں آپ کے لیے بہت سے کام کر دیتی ہیں۔ آپ کو کسی مخصوص کمرے میں جا کر معلومات ملتی ہیں یا لیکچر ملتا ہے۔ آپ کو کسی اور کمرے میں مباحثے یا سیمنار کے لیے جانا پڑتا ہے۔ پھر کسی اور کمرے میں دیگر وسائل کے لیے جیسا کہ لائبریری۔‘
‘جب آپ آن لائن ہوتے ہیں تو یہ سب کچھ ایک ہی مقام پر بیٹھے ہوئے ہو رہا ہوتا ہے اور عمارتوں سے جو اپ کو جو ملتا تھا وہ نہیں ملتا۔ اس لیے آپ کو خود کو منظم کرنا پڑتا ہے۔‘
ان کی تجویز ہے کہ طلبہ ہر ہفتے کے آخر میں کچھ وقت مختص کریں جس میں وہ یہ منصوبہ بندی کریں کہ آئندہ ہفتے میں انھوں نے کیا کیا کرنا ہے۔ پروفیسر شارپ کہتی ہیں کہ کیلنڈر پر آپ اپنے کام کی ڈیڈ لائن سے لے کر ورزش تک کے اوقات مقرر کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے آپ آن لائن تعلیم میں جو آسانیاں ہیں ان کا فائدہ اٹھا سکیں گے۔

دوستوں کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کریں
فیوچر لرن کے میٹ جینر کہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنا ایک سماجی عمل ہونا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ نے پہلے سے ریکارڈ شدہ لیکچر بھی دیکھنے ہیں تو اپنے دوستوں کے ساتھ انھیں ایک ہی وقت پر شروع کریں جیسا کہ ہو سکتا ہے آپ نے فلمیں دیکھتے ہوئے کیا ہو۔ یا آپ سوشل میڈیا یا یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے ذریعے اس کے چلنے کے دوران اس کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔
لیکچر ایک ساتھ دیکھنے سے یا علیحدہ سیکھ کر ان کے بارے میں مل کر بات کرنے سے اس بات کا امکان کم ہے کہ آپ بور ہو جائیں گے کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ دوسرے لوگ آپ کے خیالات کا انتظار کر رہے ہیں۔
پروفیسر شارپ کہتی ہیں اس سے آپ کو موقع ملتا ہے کہ آپ کہیں مجھے یہ مشکل لگا یا مجھے نہیں پتا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ یہ وہی بات چیت ہے جو آپ کلاس کے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے کرتے تھے۔
اگر کام نہیں ہو پا رہا تو کسی کو بتائیں
کیا آپ کا خیال ہے کہ آپ کے استاد کا لیکچر دلچسپ نہیں ہے؟ پروفیسر ویلر کہتے ہیں اگر ایسا ہے تو انھیں اس بارے میں بتائیں۔ یہ سب ان کے لیے بھی نیا ہے تو فیڈ بیک اہم ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں آن لائن تعلیم ضروری نہیں ہے کہ زوم پر لیکچر کی شکل میں ہو۔ اس کو کرنے کے اور بھی طریقے ہیں۔
‘بالکل بنیادی چیزیں جیسا کہ ہر دس سے پندرہ منٹ بعد پول کرنا یا لوگوں سے کہنا کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کریں یا پھر ویڈیو کو ایسے تقسیم کر لیں کہ سارا وقت ایک ہی شخص نہ بول رہا ہو۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کو آن لائن تعلیم مشکل لگ رہی ہے تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ جس بچے کو بھی مشکل پیش آ رہی ہے اسے سٹوڈنٹ سروسز سے بات کرنی چاہیے۔ ’آپ کو اپنا ہاتھ اٹھانا پڑے گا اور مدد مانگنی پڑے گی۔‘











