آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کائلی مور گلبرٹ: ایرانی قید سے رہا ہونے والی برطانوی نژاد آسٹریلوی لیکچرار کا رہائی کے بعد ایرانی قوم اور حمایتیوں کو پیغام
ایران میں جاسوسی کے الزام میں دس برس قید کی سزا کاٹ رہی برطانوی نژاد آسٹریلین خاتون نے ایک معاہدے کے تحت رہا ہونے کے بعد اپنے حمایتیوں کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی حمایت نے انھیں ’لمبی اور تکلیف دہ آزمائش‘ سے گزرنے کا حوصلہ دیا ہے۔
تہران کے مطابق انھیں اب تین ایرانی قیدیوں کی رہائی کے تبادلے میں رہائی ملی ہے۔
کائلی مور گلبرٹ ہمیشہ سے اپنے خلاف لگائے گئے جاسوسی کے الزامات سے انکار کرتی رہی ہیں۔ کائلی مور گلبرٹ جو میلبورن یونیورسٹی کی لکچرر تھیں، ستمبر 2018 سے ایران میں سزا کاٹ رہی تھیں۔
ڈاکٹر گلبرٹ کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ ’مطمئن اور خوش‘ ہیں کہ وہ آزاد ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
کیمبرج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ڈاکٹر مور گلبرٹ کو سنہ 2018 میں اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ تہران میں ایک کانفرنس میں شرکت کر کے لوٹ رہی تھیں۔ وہ اس وقت آسٹریلیا کے پاسپورٹ پر سفر کر رہی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رواس برس اگست میں ان کی حالت کے متعلق اس وقت تشویش ظاہر کی گئی تھی جب یہ خبر آئی تھی کہ انھیں ملک کے دور افتادہ صحرا میں قائم ایک بدنام زمانہ قید خانے قارچک میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
جمعرات کو ڈاکٹر مور نے کہا کہ آسٹریلوی حکام نے ان کی رہائی کے لیے انتھک محنت کی ہے۔ انھوں نے ان کا اور دوسرے حمایتیوں کا شکریہ ادا کیا۔
اگست میں آسٹریلیا کے خارجہ امور اور تجارت کی وزارت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈاکٹر مور گلبرٹ کا معاملہ آسٹریلیا کی حکومت اور تہران میں آسٹریلوی سفارت خانے کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ڈاکٹر مور نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میرے پاس ایران کی عظیم قوم اور اس کے نرم دل، سخی اور بہادر عوام کے لیے احترام، پیار اور تعریف کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘
’یہ ایک خوشی اور غم کا احساس ہے کہ میں آپ کا ملک چھوڑ رہی ہوں، باوجود اس ناانصافی کے جس کا مجھے سامنا کرنا پڑا۔ میں ایران بطور ایک دوست اور دوستانہ ارادوں کے ساتھ آئی تھی، اور اب جب جا رہی ہوں تو وہ احساسات نہ صرف قائم بلکہ مضبوط ہو گئے ہیں۔‘
ڈاکٹر کائلی مور گلبرٹ کون ہیں؟
ڈاکٹر کائلی مور گلبرٹ میلبورن یونیورسٹی کے ایشیا انسٹیٹیوٹ میں اسلامک سٹڈیز کی ارلی کیریئر اکیڈیمک فیلو اور لیکچرار ہیں۔ وہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کی ماہر ہیں اور ان کا خاص فوکس خلیجی ریاستیں ہیں۔
انھوں نے گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) کی سیاست، 2011 میں شروع ہونے والا عرب انقلاب، آمرانہ طرز حکومت اور سیاسی ایکٹیوزم میں نیو میڈیا کی ٹیکنالوجی پر بہت تحقیق کی ہے اور مقالے اور کتب شائع کی ہیں۔
انھوں نے بحرین سے متعلق کئی موضوعات پر لکھا ہے۔
ان کے خاندان نے کہا کہ ڈاکٹر گلبرٹ نے 800 دن تک انتہائی مشکلات حالات کا سامنا کیا ہے۔
آسٹریلیا کی حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں ان کے والدین نے کہا کہ ’ہم اس بے انتہا خوشی کا اظہار نہیں کر سکتے جو ہم دونوں اس بہترین خبر پر محسوس کر رہے ہیں‘۔
ایرانی ریاستی میڈیا کے مطابق انھیں ایک ایرانی تاجر اور دو ایرانی شہریوں کی رہائی کے بدلے رہا کیا گیا ہے۔ تاہم ان شہریوں کے نام نہیں بتائے گئے۔
اس بظاہر تبادلے کی ایک ویڈیو ریاستی براڈکاسٹر آئی آر آئی بی نیوز اور تسنیم ویب سائٹ نے جاری کی ہے۔
اس میں بغیر کسی کامینٹری کے دکھائی جانے والی فٹیج میں ڈاکٹر مور کو سرمئی حجاب پہنے ایک منی وین میں جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تین آدمی بھی اہلکاروں سے مل رہے ہیں جن میں سے ایک وہیل چیئر پر ہے۔
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم سکاٹ موریسن نے اس پر بات کرنے سے معذرت کی ہے کہ کوئی تبادلہ ہوا ہے کہ نہیں، لیکن یہ ضرور کہا کہ آسٹریلیا میں کسی کو رہا نہیں کیا گیا۔
انھوں نے مقامی نیٹ ورک نائن کو بتایا کہ ’آسٹریلیا نے ان کی حراست اور سزا کی انصافی کو ہمیشہ رد کیا ہے، اور میں بہت خوش ہوں کہ کائلی گھر آ رہی ہیں۔‘
ایران کی ایوین جیل سے اس سال جنوری میں سمگل کیے جانے والے خطوط میں ڈاکٹر مور گلبرٹ نے لکھا تھا کہ وہ کبھی جاسوس نہیں تھیں اور وہ اپنی ذہنی کیفیت کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں۔ انھوں نے لکھا تھا کہ انھیں ایران کے لیے جاسوسی کرنے کی پیشکش ہوئی تھی جسے انہوں نے رد کر دیا۔
'میں جاسوس نہیں ہوں اور نہ ہی کبھی جاسوس تھی اور نہ ہی مجھے اپنے ملک میں کسی دوسرے ادارے کے لیے جاسوسی کرنے میں دلچسپی ہے۔'
انھوں نے مزید لکھا تھا کہ وہ اپنی تیزی سے گرتی ہوئی صحت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ 'میں شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوں جو کہ اپنے گھر والوں سے فون پر بات کرنے پر پابندی کی وجہ سے کئی گنا بڑھ گیا ہے۔'
میلبورن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈنکن ماسکل نے کہا ہے کہ وہ اس خبر سے بہت خوش ہیں۔ ’ہم نے اس دن کے لیے ایک لمبا انتظار کیا ہے۔‘
واضح رہے کہ ایران میں حالیہ برسوں کے دوران کئی ایسے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے پاس ایرانی اور غیر ملکی یعنی دوہری شہریت تھی۔
گزشتہ برس اکتوبر میں ایک برٹش آسٹریلین خاتون جولی کنگ اور ان کے بوائے فرینڈ مارک فرکن کو جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ ان پر بغیر اجازت ڈرون اڑانے کا الزام تھا۔ آسٹریلیا نے اسی دوران ایک ایرانی طالب علم کو قید سے رہا کیا تھا۔
ایرانی نژاد برطانوی کارکن نازنین زاغری ریڈکلف بھی جاسوسی کے الزام میں تین برس سے ایرانی جیل میں ہیں۔ وہ ان الزامات سے انکار کرتی ہیں۔