آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
رابرٹ فسک کی وفات: ’دنیائے صحافت نے ایک عمدہ تجزیہ نگار کو کھو دیا‘
معروف صحافی اور مصنف رابرٹ فسک 74 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔ آئرلینڈ کے اخبار آئرش ٹائمز کے مطابق رابرٹ فسک جمعہ کو بیمار ہوئے جس کے بعد انھیں ڈبلن کے سینٹ ونسنٹ ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا تھا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
رابرٹ فسک نے مشرق وسطیٰ میں طویل مدت تک صحافت کی اور اسی رپورٹنگ کی بنیاد پر انھیں متعدد اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک کی خارجہ پالیسی پر اُن کی جانب سے کی گئی شدید تنقید نے انھیں مختلف ملکوں میں متنازع بھی بنایا۔
مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور بلقان خطے کے بارے میں انھوں نے برطانوی اخبارات کے لیے پانچ دہائیوں تک رپورٹنگ کی اور امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے سنہ 2005 میں اُن کے بارے میں لکھا کہ ’رابرٹ فسک برطانیہ کے سب سے مشہور غیر ملکی نامہ نگار ہیں۔‘
برطانیہ کے علاقے کینٹ میں سنہ 1946 میں پیدا ہونے والے رابرٹ فسک کے پاس آئرلینڈ کی شہریت بھی تھی اور بعد میں انھوں نے ڈبلن کے نزدیک اپنا گھر بھی بنایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئرلینڈ کے صدر مائیکل ڈی ہگنز نے بھی رابرٹ فسک کی وفات پر افسوس اور ’گہرے صدمے‘ کا اظہار کیا۔
اپنے ایک بیان میں آئرش صدر نے کہا کہ ’رابرٹ فسک کی وفات سے دنیائے صحافت اور بالخصوص مشرق وسطیٰ پر تبصرہ کرنے والوں نے اپنے ایک عمدہ ترین تجزیہ نگار کو کھو دیا ہے۔‘
رابرٹ فسک نے برطانوی اخبار سنڈے ایکسپرس کے ساتھ اپنے کریئر کا آغاز کیا اور اس کے بعد سنہ 1972 میں وہ شمالی آئرلینڈ کے شہر بالفاسٹ اس وقت منتقل ہوئے جب وہاں نسلی اور قوم پرست فسادات جاری تھے۔
ان واقعات کے بارے میں انھوں نے برطانوی اخبار دی ٹائمز کے لیے لکھا اور پھر سنہ 1976 میں وہ اسی اخبار کے لیے مشرق وسطیٰ کے نامہ نگار بن گئے۔
لبنان کے شہر بیروت میں رہائش اختیار کرنے کے بعد رابرٹ فسک نے لبنان کی خانہ جنگی کے علاوہ سنہ 1979 کے ایرانی انقلاب، سویت افغان جنگ اور ایران عراق جنگ جیسے بڑے واقعات کے بارے میں رپورٹنگ کی۔
تقریباً دو دہائی کا ساتھ گزارنے کے بعد سنہ 1989 میں رابرٹ فسک کے اخبار کے مالک روپرٹ مرڈوک سے اختلافات ہو گئے جس کے بعد انھوں نے برطانوی اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ میں شمولیت اختیار کر لی اور اپنی بقیہ عمر اسی اخبار کے لیے لکھا۔
نوے کی دہائی میں انھوں نے تین بار القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے انٹرویو کیے جس میں انھوں نے اسامہ بن لادن کو ’شرمیلا‘ قرار دیا اور 1993 میں اپنے پہلے انٹرویو میں لکھا کہ ’وہ ہر طرح سے ایک زبردست جنگجو لگ رہے تھے جیسا ان کے بارے میں مجاہدین کے قصوں میں مشہور تھا۔‘
امریکہ میں ہونے والے نائن الیون کے واقعات کے بعد رابرٹ فسک نے اگلی دو دہائیاں مشرق وسطیٰ میں گزاریں جہاں ہونے والی جنگوں کے بارے میں انھوں نے رپورٹنگ کی۔ اس دور میں انھوں نے افغانستان، عراق اور شام سے بھی کام کیا۔
عربی زبان پر عبور رکھنے اور تجربہ کار رپورٹر ہونے کے ناطے رابرٹ فسک نے ہمیشہ ان صحافیوں کی تنقید کی جو صرف دفتر میں بیٹھ کر صحافت کرتے تھے اور ان کی شہرت کا باعث بھی مشرق وسطیٰ کے بارے میں ان کی گہری معلومات تھیں۔
رابرٹ فسک امریکہ اور اسرائیل کے بارے میں سخت موقف رکھتے تھے۔ سنہ 2005 میں انھوں نے ’دا گریٹ وار فار سیویلائزیشن‘ کے نام سے کتاب تحریر کی جس میں انھوں نے مشرق وسطی کی تاریخ کے بارے میں لکھا اور اس میں برطانوی، امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
رابرٹ فسک نے سنہ 1994 میں امریکی صحافی لارا مارلو سے شادی کی لیکن سنہ 2006 میں ان دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔ ان دونوں کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
رابرٹ فسک کی وفات کی خبر آنے کے بعد متعدد صحافیوں نے سوشل میڈیا پر اظہار افسوس کیا اور ان کے ساتھ گزارے گئے واقعات کا ذکر کیا۔
صحافی عمر وڑائچ نے فیس بک پر رابرٹ فسک کے ساتھ بیتے ہوئے اپنے وقت کے بارے میں لکھا کہ سنہ 2010 میں انھوں نے رابرٹ فسک کی پاکستان میں میزبانی کی تھی۔
عمر وڑائچ لکھتے ہیں کہ ہفتے بھر ان کو ہر جگہ سے فون آ رہے تھے جس میں لوگ ان سے رابرٹ فسک سے ملاقات کرنے کی درخواست کر رہے ہوتے تھے۔
اس دورے میں عمر وڑائچ رابرٹ فسک کو عمران خان سے ملاقات کرانے بھی لے گئے اور اس میٹنگ کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ یہ واضح تھا کہ عمران خان رابرٹ فسک سے بے حد متاثر ہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت جلد بے تکلف ہو گئے۔
عمر وڑائچ نے لکھا کہ عمران خان نے نہ صرف بعد میں اس ملاقات کرانے پر ان کا شکریہ ادا کیا بلکہ بعد میں جب رابرٹ فسک نے اس ملاقات کے بارے میں لکھا تو اس میں انھوں نے عمران خان کو پاکستان کے ’ایمان دار ترین سیاستدانوں میں سے ایک‘ قرار دیا۔
بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے مدیر جرمی بوؤن نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’بہت جلد چلے گئے۔ وہ مجھے بہت پسند تھے اور میں ان کی بہت عزت کرتا تھا۔‘