آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سینیئر صحافی ادریس بختیار کراچی میں انتقال کر گئے
پاکستان اور بین الاقوامی ذارئع ابلاغ کے ساتھ کئی دہائیوں تک منسلک رہنے والے ملک کے ممتاز صحافی ادریس بختیار بدھ کو کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔
ادریس بختیار کے آباؤ اجداد اجمیر سے ہجرت کر کے حیدرآباد آکر آباد ہوئے تھے اور وہیں سے انھوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
وہ کئی برس تک بی بی سی کے ساتھ منسلک رہے۔ انھوں نے ڈان گروپ کے جریدے ہیرلڈ اور جنگ گروپ کے ٹی وی چینل جیو ٹی وی میں بھی اہم ادارتی عہدوں پر کام کیا اور پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے کے ایک دھڑے کے صدر بھی رہے۔
ان کے انتقال پر صحافیوں کے علاوہ پاکستان کی معروف سیاسی اور سماجی شخصیات کی ایک بڑی تعداد نے بھی سوشل میڈیا پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس نے لکھا کہ ’ان کے ساتھ دی سٹار، ہیرلڈ اور بی بی سی میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزارا۔ وہ ایک دوست، ساتھی، اور استاد تھے۔ اس سب سے بڑھ کر وہ ایک ایماندار صحافی اور عظیم انسان تھے۔‘
پیپلز پارٹی کی رہنما اور ہیرلڈ کی سابقہ مدیر شیری رحمان نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوِے کہا ہے کہ ’جب میں ہیرلڈ پاکستان کی ایڈیٹر بنی تو ہم نے انھیں چیف رپورٹر بنایا تھا۔ زندگی میں دوسری چیزوں میں مصروف ہو جانے کے باوجود وہ ہماری زندگیوں کا حصہ تھے۔‘